تازہ ترین

اتوار، 19 اپریل، 2020

رمضان المبارک کی فضیلت اور اہمیت

ازقلم ۔مفتی محمدضیاء الحق قادری فیضی، ثم فیض آبادی اسلامک ریسرچ اسکالر
جس طرح ظاہری موسموں میں سے ایک حسین اور دیدہ زیب موسم بہار کا موسم ہے اسی طرح روحانی کائنات کا موسم بہار ماہ رمضان ہے کتنے ہی سعادت مند اور خوش قسمت ہیں ہم جن کی زندگیوں میں ایک مرتبہ پھر یہ روحانی بہار لوٹ کر امت مسلمہ کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب کرنے آئی ہے ورنہ کتنے ہی ایسے تھے جو اس روحانی بہار سے پہلے ہی ہم دادے مفارقت دے کر اپنی جان جان جاں آفریں کے سپرد کر دی اور داعی اجل کو لبیک کہا دیا ۔پس ہمیں خوش ہو کر اپنے مالک حقیقی کی بارگاہ میں شکریہ ادا کرنا چاہیے جس واجب الوجود نہ دو بارہ اس روحانی پر بہار برکتوں والا مہینہ ہمیں زندگی میں دوبارہ عطاء کرنے والا ہے جیسا کہ رب تعالیٰ اس مہینے کی فضیلت اور اہمیت کے بارے ميں ارشاد فرماتا ہے  ياايها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون البقرة ايت نمبر ١٧٣ترجمہ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ( کنزالایمان )عربی زبان میں روزے کے لیے صوم کا لفظ استعمال ہوتا ہے صوم لغۃ رکھنا ۔شرعا مسلمان کا بنیت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے آپ کو قصداکہانے پینےاور جماع سے روکے رکھنا روزہ ہے

 رمضان کا لفظ رمضا سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گرد و غبار سے پاک کر دیتی ھے مسلمانوں کے لیے یہ مہینہ الله رب العزت کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دہل جاتے ہیں
ماہ رمضان ہی وہ برکتوں والا مہینہ ہے اس ماہ مبارک کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا اور باری تعالیٰ نے جس رات میں قرآن مقدس نازل ہوا تمام راتوں پر فضیلت عطاء فرمائی اور اسے شب قدر کے لقب سے ملقب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ليلة القدر خير ما الف شهر
ترجمہ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر (کنزالایمان)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انه سمع من يتيق به خير من الف شهر(موطا امام مالك الاعتكاف باب ما جاء في ليلة القدر)
رمضان مبارک کی فضیلت اور عظمت مراتب اور اس کے فیوض وبرکات کو بیان کرنے کے لیے چند احادیث مبارکہ بیان کئے جاتے ہیں عن أبي هريرة قال قال رسول الله تعالى عليه وسلم اذا دخل رمضان فتحت أبواب السماء في رواية فتحت أبواب الجنة وغفلت ابواب جهنم وتسلسلت الشياطين و في رواية فتحت ابواب الرحمة
ترجمہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب ماہ رمضان شروع ہوتا ھے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ہیں شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں اورایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں (انوار الحدیث کتاب الصوم)
رمضان مبارکہ کے روزوں کو جو شرفیت حاصل ہے اس کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا هے 
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلي الله تعالى عليه وسلم من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه و من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه و من قام ليلة القدر إيمانا و واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ترجمة حضرت ابو ہریرہ ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی امیدسے روزے رکھے گا تو اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور جو ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام یعنی عبادت کرے گا تو اس کے اگلے گناہ بخش دے جائیں گے اور جو ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی غرض سے شب قدر میں قیام کرے گا اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے (انوار الحدیث کتاب الصوم ) 
الصوم جنة يسجن بها العبد من النار روزہ ایک ڈہال ہے جس کے ذریعہ سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے
دوسری روایت میں الفاظ کچھ اس طرح ہیں الصوم جنة من عذاب روزہ الله تعالیٰ کے عذاب سے بچاو کی ڈہال ہے ایک حدیث شریف میں الله کے نبی صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا من صام يوما في سبيل الله بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا 
 ترجمہ حدیث جس نے الله تعالیٰ کے راستہ میں ایک یوم روزہ رکہا تو الله تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال(کی مسافت کی قریب ) دور کر دیتا ہے نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ان في الجنة بابا يقال له فلم يدخل منه احد جنت کے آٹھ دروازوں میں سےایک دروازے کا نام ریان ہے جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہونگے ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا (صحيح البخاري باب الريان للصايمين )
اس طرح اعتکاف کے بارے ميں نبی اکرم کا ارشاد گرامی ہے جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے( بہیقی شعیب الایمان باب الاعتکاف ) 
خوش قسمت اور سعادت مند ہیں وہ مسلمان جن کی حیات مبارکہ میں یہ مہینہ آیا اور وہ الله تعالیٰ کے رحمتیں حاصل کرنے میں آپنی تمام تر قواتیں صرف کر رہے ہیں الله تعالیٰ ہر مسلمان کو عمل خیر کی توفیق عطاء فرمائے آمین یا رب العالمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad