از قلم جا وید اختر نظامی.کامل الحدیث جامعہ نظامیہ حیدرآباد انڈیا.
انماالاعمال باالنیات
عمل کا دارومدار نیتوں پر ہے.
اس وقت ساری دنیا کورونا وائرس کے قہر میں گرفتار ہے. ایک تو یہ جان لیوا مرض اور اس مرض کا احتیاط پرہیز علاج خلوت نشینی ہے لوک ڈاؤن ہے. جیسا کہ ڈاکٹر ؤں کا ماننا ہے کہ جتنا زیادہ سماجی رابطے کم ہونگے اس وبا کےپھیلنے کے خدشات کم ہو جاءنگے.اللہ کرے کہ اس وبا کا جلد از جلد مکمل خاتمہ ہو جائے. جہاں اس وبا نے انسان کو ذہنی طور پر معطل کر دیا ہے وہیں اس وبا نے معاشی ضرب بھی لگا دی ہے بالخصوص ہمارے ملک ہندوستان میں جہاں اکثریت غریبوں کی ہے. ڈیلی کما نے کھا نے والوں کی ہے انکے لئے کا فی مشکلات کا سامنا ہے. لیکن اس مصیبت کی گھڑی میں اہل ثروت لوگوں کا سامنے آ نا وہ بھی بلا امتیاز مذہب وملت خدمت کرنا ایک خوش آئند بات ہے. یوں تو ہمارا ملک بھارت تمام مذاہب کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے گرچہ کچھ ناپاک عزائم اس خوبصورتی کے دشمن بن بیٹھے ہیں لیکن وہ اپنے اس ناپاک عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے.جیسا کہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا اور دوسرے سوشل میڈیا کے ذریعے سے یہ بات ہم تک پہنچ چکی ہے کہ ہندوستان کے ہر شہر قصبہ گاؤں میں لوگ ایک دوسرے کی حتی الوسع مدد کر رہے ہیں.
یہ نازک گھڑی مسلمانوں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں یہ وقت ہے ہم اپنے دین کی خدمت اپنے اخلاق وکردار مال ودولت سے کریں اس مصیبت کی گھڑی میں متاثرین اور حاجت مند وں تک پہنچیں وہ بھی بلا لحاظ مذہب وملت. بالخصوص غیر قوم تک اپنی امداد اور اپنی باتیں پہچاءیں تاکہ اس منفی خیالات کو انکے ذہن سے نکال سکیں جو ملک وقوم کے دشمن عناصر نے مسلمانوں کے خلا ف انکے ذہن میں پیوست کر دئے ہیں. تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے فلاحی کاموں اور انسانیت کی خدمت کرنے میں کوئی نظیر نہیں ملتی وطن عزیز کے مسلم بادشاہوں نے وطن عزیز کو وہ کچھ دے گئے جسکی دوسرے اقوام سوچ تک نہی سکتی. خیر ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو خدمت خلق کا جذبہ انکو اپنے نبی کریم سے ورثے میں ملا ہے. لیکن اس خدمتِ خلق خدا کا دوسرا بڑا تاریک پہلو یہ ہے کہ اہل ثروت اپنی دولت کی جھوٹی نمائش سارے جگ میں کرنا چاہتےہیں جن کے لئے وہ سوشل میڈیا کا سہا را لے رہے ہیں خود نمائی نے نیکی کر دریا میں ڈال والے جملے کو یکسر بدل دیا ہے اب نیکی کر سوشل میڈیا پر ڈال ہو گیا ہے.
ترقی نے ہمیں خود نمائی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا نہیں بلکہ مسرور کر دیا ہے. أج ہر شخص کے پاس ایک نہیں بلکہ کئی عدد اسمارٹ فون ہے وہ اپنے آپ کو ایک فوٹو گرافر ایک صحافی ایک اخبار ایک نیوز چینل سمجھ بیٹھا ہے. خودنما ءی اور رونمائی کی وبا کا شکار ہو کر اپنی عاقبت خراب کرنے پر مصر ہے. اور ہر چھوٹی بڑی نیکی(امدادی کاموں ) کو سوشل میڈیا کے دریا میں ڈالتا چلا جا رہا ہے ہے .اس درد بھری گھڑی میں آپ تمام سے گزارش ہے کے نیکی کریں محتاجوں کی مدد کریں حقیقی صرورت مندوں کی امداد کریں وہ بھی بلا امتیاز بلا لحاظ مذہب وملت لیکن یاد رکھیں عمل کا دارومدار نیتوں پر ہے...!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں