تازہ ترین

پیر، 30 مارچ، 2020

کوروناوائیرس وباء سے نمٹنے کےلئے مسلم لیگ ایم پی مسٹر پی۔ کے ۔ کنہالی کٹی نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ دیا

بین ریاستی مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
اور ملک میں جاری لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کرنے عوام سے پرزور اپیل
حیدرآباد(یو این اے نیوز 30مارچ 2020)انڈین یونین مسلم لیگ کے ریاستی معتمد محمد عبدالغنی کی اطلاع کے بموجب مسلم لیگ کے قومی معتمد و رکن پارلیمنٹ جناب پی۔ کے ۔ کنہالی کٹی نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ایک ماہ کی تنخواہ پی ایم کیر فنڈ میں عطیہ دےں گے۔ جوملک میں جاری کورونا وائیرس سے متاثرہ افراد کے لئے احتیاطی اقدامات میں خرچ کئے جائیں گے۔مسلم لیگ ایم پی نے اپنے ایک مکتوب میں وزیر اعظم سے کہاکہ آنند ویہارآئی ایس بی ٹی میں گذشتہ چاردنوں سے مزدور پیشہ افراد ہزاروں کی تعداد میں اپنے اپنے رہائش گاہوں کو پہنچنے کےلئے بس اسٹانڈ پہنچ رہے ہیں ۔ جس کے پیش نظر مرکزی حکومت کو چاہئے کہ اس طرح ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے پیش نظر اس طرح بھیڑ بھاڑ کا جمع ہونا کوروناوائرس سے متاثر ہونے کے امکانات وخدشہ ظاہر کرتا ہے لہٰذا مرکزی حکومت اس پر غور کرتے ہوئے ان کی بھی فی الفور طبی جانچ کرائے۔ مسلم لیگ رکن پارلیمنٹ پی۔ کے کنہالی کٹی نے وزیر اعظم سے کہاکہ ملک میں کروناوائیرس کے خطرہ سے نمٹنے کےلئے لاک ڈاؤن کیا گیا ہے جو جاری ہے۔

جس کا مقصد سماجی دوری اختیارکرتے ہوئے کورونا وائیرس جیسی مہلک بیماری کو شکست دینا ہے۔انہوں نے اپیل کی کہ بین ریاستی عوام و مزدور پیشہ افراد جو دہلی میں مقیم رہتے ہوئے کاموں کو انجام دے رہے تھے ان مزدوروں کو علیحدہ کر تے ہوئے مزدوروں کےلئے خصوصی طبی جانچ کرتے ہوئے کوروناوائیرس سے محفوظ رکھا جائے اور ان کے آبائی وطن واپسی کے انتظامات کئے جائیں ۔اور انہوں نے مزید کہا کہ جو مزدور دہلی سے واپس ہورہے ہیں ان کی بھی طبی جانچ کی جائے اور کوروناوائیرس سے طبی جانچ میں متاثر نہ ہونے پر ہی ان کی رہائش گاہوں کو منتقل کیا جائے۔ رکن پارلیمنٹ پی۔ کے ۔ کنہالی کٹی نے کہاکہ کوروناوائیرس سے نمٹنے کےلئے اپنے ایم پی فنڈ سے ایک کروڑ کا عطیہ ریاست کیرالا کےلئے مختص کئے ہیں۔ مسلم لیگ کورونا وائیرس سے نمٹنے کےلئے مرکزی حکومت سے ہر تعاون کےلئے تیار ہے۔ مسٹر پی۔ کے ۔ کنہالی کٹی نے عوام الناس سے اپیل کی ملک میں ہنگامی حالات کے پیش نظر عوام مرکزی وریاستی حکومت کے جاری گائیڈ لائنس پر سختی سے عمل آوری کریں اور اپنے اپنے گھروں میں رہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad