تازہ ترین

اتوار، 22 مارچ، 2020

کورونا وائرس اور چند احتیاطی تدابیر و اقدامات

تحریر: محسن رضا ضیائی پونہ،مہاراشٹر
ہم سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کورونا وائرس ایک وبا کی شکل میں اب تک ایک سو پچہتر ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، اور پوری دنیا میں بہت ہی سرعت و تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ چین کے ووہان شہر سے نمودار ہونے والا یہ وائرس اب تک بہت زیادہ خطرناک اور جان لیوا واقع ہوا ہے۔ 21 مارچ تک پوری دنیا میں اس مہلک وائرس کی وجہ سے118890 افراد اس کا لقمہ بن چکے ہیں،جب کہ 181253 افراد ابھی بھی اس سے بری طرح متاثر ہیں۔ پوری دنیا نے اس کی خطرناکی اور ہول ناکی سے بچنے کے لیے اپنی پوری طاقت جھوک دی ہے۔ طرح طرح کی احتیاطی تدابیر اپنائی جارہی ہے، لیکن ان تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات کے باوجود بھی اس پر کنٹرول پانا مشکل دکھ رہاہے۔ ہمارے ملک میں بھی اس سے بچاؤ کے لیے کئی طرح کے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ 22 مارچ اتوار کے دن عوامی کرفیو تک نافذ کیا گیا ہے۔ اس کرفیو سے کتنا فائدہ اور کتنا نقصان ہوگا، اس سے قطعِ نظر کرتے ہوئے ہمیں چند باتوں کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے۔ یہاں ہم موجودہ حالات کے تقاضوں اور چیلنجوں کو سامنے رکھتے ہوئے چند احتیاطی و حفاظتی تدابیر اوراقدامات بیان کررہے ہیں:

1- 22مارچ اتوار کے روز عوامی کرفیو کا حکومت کی جانب سے اعلان ہوا ہے، لہذا اس پر عمل کریں اور گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
2- اپنی گلی، محلوں اور علاقوں میں عوامی بھیڑ سے گریز کریں اور جہاں تک ہو سکے اس سے بچنے کے لیے پختہ حفاظتی انتظامات کریں۔
3- اگر کوئی شخص سردی کھانسی یا دیگر علامتوں سے متاثر ہوتو وہ فوراً کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اپنا فوری علاج کرائیں۔
4- اتوار کو شبِ معراج ہے، یہ بہت ہی مقدس اور مبارک رات ہے، قرآن و احادیث میں اس کی فضیلت و اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، لہذا شبِ معراج نہایت ہی پُر سکون طریقے سے منائیں۔اپنے اپنے محلے کی مساجد میں نماز اداکرنے کے لیے جائیں تو گھروں سے وضو کرکے جائیں، تاکہ وضو خانے میں بھیڑ بھاڑ سے حتی الوسع بچا جاسکے۔
5- حالات کے پیشِ نظر فرض نماز مسجد میں ادا کریں، اور سنن و نوافل، اذکارووظائف اور دیگر عبادات گھروں پر ادا کریں۔ کم از کم اسی بہانے ہمارے گھر بھی عبادت کی آماج گاہ بن جائیں گے اور در و دیوار تسبیحات و تہلیلات کی گواہ بن جائیں گی۔
6- ائمہ کرام بھی شب معراج اور جمعہ میں نماز، بیان اور ذکر و دعا کے سلسلے میں حکمت و مصلحت سے کام لیں اور حالات کو پیشِ نگاہ رکھیں۔ 
7- مساجد میں اعضائے وضو صاف کرنے کے لیے آویزہ ہونے والے عوامی تولیہ ہٹادیں تاکہ یہ بھی اس مہلک بیماری کا سبب نہ بنیں۔
8- جو لوگ سردی کھانسی اور دیگر علامتوں سے متاثر ہوں، ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ حضرات اپنے گھروں پر ہی پنج وقت نمازوں کا اتمام کریں، تاکہ دیگر نمازیوں میں کسی طرح کی اضطرابی و بے چینی کی کیفیت پیدا نہ ہو۔
9- نماز جمعہ کے لیے وقت میں تخفیف کریں۔
10- شبِ معراج کے نفلی روزوں کا اہتمام کریں اور حالتِ روزہ میں تلاوت قرآن پاک اور دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس سے حفاظت کے لیے دعائیں کریں۔
11- ایک بات کا خصوصی طور پر خیال رکھیں کہ مسجد سے نماز پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد مسجد کے صحن یا باہر نہ رکیں ، بلکہ سیدھے اپنی گھر کی طرف لوٹ جائیں۔
12- ائمہ کرام سے خصوصاً گذارش ہے کہ اس وبائی مرض سے چھٹکارے کے لیے نمازِ فجر میں قنوتِ نازلہ کا اہتمام ضرور کریں کہ یہ ایک نبوی نسخہ ہے۔ 
یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ حکومت نے کورونا وائرس سے عوام کو بچانے کے لیے عوامی بھیڑ پر پوری طریقے سے روک لگادی ہے۔ یہاں تک کہ دیگر مذاہب کے عبادت خانوں کو بھی مقفل کردیا گیا ہے۔ کچھ خبروں کے مطابق کئی جگہوں پر مساجد کو بھی مقفل کردیا گیا ہے اور کہیں پر سخت نوٹس دیا گیا ہے۔ حکومتی دستوں کے ذریعے مساجد پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔لہذا جہاں نوٹس نہیں دیا گیا ہے وہاں کے افراد سے گزارش ہے کہ وہ حکومتی نوٹس کے پہنچنے سے قبل ہی اپنی مساجد میں نماز کے سلسلے میں کچھ احتیاطی اقدامات کرلیں۔
اخیر میں عرزض ہے کہ ہمارا یہ مضبوط ایمان و عقیدہ ہے کہ موت و حیات اللہ رب العزت کے قبضہ قدرت میں ہے، بغیر اس کے حکم اور مشیت کہ نہ کسی کو موت آسکتی ہے اور نہ ہی کوئی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی اس طرح کے وبائی مرض سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر کرنا اور ہر ممکنہ طور پر احتیاط برتنا بھی سنت نبوی ہے، لہذا جہاں تک ہوسکے متذکرہ بالا باتوں پر عمل کریں اور اللہ وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں دعا کریں۔
اللہ رب العزت کی بارگاہِ لَمْ یَزَل میں دعا ہے کہ ہم تمامی لوگوں پر اپنا فضل و کرم فرمائےاور اس مہلک مرض سے ہماری حفاظت و صیانت فرمائے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad