سنبھل(یواین اے نیوز 25فروری2020) اتر پردیش کے سابق گورنر عزیز قریشی نے الزام لگایا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف مظاہروں میں حکومت نے اپنے آدمیوں کو بھیج کر 'پاکستان زندہ باد' کے نعرے لگوائے جس کےبعد فساد کروایا۔ قریشی نے پیر کو صحافیوں کو بتایا ، "حکومت میں بیٹھے ہٹلر کے شاگردوں نے سی اے اے مظاہرین کی بیٹھک میں اپنے گرگوں کو بیٹھا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے اور توڑ پھوڑ کی،اسکی آڑ میں پولس نے گولیاں چلائی،یہ ایک پلان کے تحت کام کیا گیاہے۔
عزیز قریشی نے علی گڑھ اور دہلی پر واقعات پر الزام عائد کیا کہ یہ پولیس کی بربریت ہے،یہ ان کی شکست ہے۔ انہوں نے کہا ، 'جب آپ اخلاقی طور پر دستبردار ہوجائیں ، تب یہ صرف لاٹھی چارج کرتے ہیں یا گولی چلاتے ہیں۔' قریشی نے الزام لگایا کہ "ہندوستان میں مسلمانوں کا شکار بنایا جارہا ہے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بی جے پی کے دلوں میں مسلمانوں کے لئے شیطانی منصوبے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ، 'جس طرح ہٹلر نے قتل عام کرنے کے لئے کیمپ لگائے تھے ، اسی طرح مرکز میں بی جے پی حکومت حراستی مراکز بنا رہی ہے۔ یہ سب ملک کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ، "وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ اور ان کی پوری حکومت نے پارلیمنٹ میں اپنی تعداد کی طاقت پر قانون سازی کرکے ، نئی شہریت پاس کرکے آئین کی روح کو ذبح کیا ہے اور اس کے ذریعہ ملک کے 20 کروڑ عوام کو علیحدگی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ یہ سب ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی کوشش ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں