تازہ ترین

ہفتہ، 22 فروری، 2020

بلریا گنج سانحہ اور مولانا طاہر مدنی

مکرمی:گزشتہ دنوں اعظم گڑھ کے بلریا گنج میں مظاہرین پر اتر پردیش پولیس کی بربریت شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ پر امن مظاہرے کو لاٹھی,ڈنڈے کے زور پر ختم کروانا ایک جمہوری ملک کیلئے باعث شرم ہے۔ بلریا گنج سے ملی جانکاری سے پتہ چلتا ہیکہ پولیس سروری بانو نامی ضیعفہ کو مار پیٹ کر اتنا زخمی کر دیا کہ آج وہ زندگی اور موت سے لڑ رہی ہیں۔اس کےعلاوہ مولانا طاہر مدنی پر سیڈیشن کا چارج لگانا حیرت و افسوس کی بات ہے,کیونکہ مولانا کا سابقہ ریکارڈ نہایت صاف ستھرا ہےاور ان کا جرم کی دنیا سے دور دور کا رشتہ نہیں ہے ۔اس کے علاوہ نابالغ بچوں کو جیل میں ڈالنا بھی پولیس پر ڈھیر سارے کھڑے کرتا ہے۔

اب تک جتنے بھی ثبوت و شواہد ملے ہیں اس سے مولانا طاہر مدنی سمیت دیگر اٹھارہ افراد(جن میں نابالغ بھی شامل ہیں)کی گرفتاری سمجھ سے بالاتر ہے۔ بلریاگنج متاثرین کی مدد کیلئے آگے آنے پر راشٹریہ علماء کونسل ,کانگریس,رہائ منچ اور سماجوادی پارٹی ک ہم ا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن مقامی ایم پی اور ایس پی لیڈر اکھیلیش یادو کا ابھی تک اہل اعظم گڑھ کیلئے ضلع میں نہ آنا نہایت افسوسناک ہے۔ہم تمام سیاسی جماعتوں,سماجی کارکنان اور ملی تنظیموں اور تمام لوگ متحد ہوکر بلریا گنج متاثرین کی مدد کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔واضح رہے کہ بلریا گنج میں گزشتہ دنوں سی اے اے کے خلاف مقامی خواتین نے شاہین باغ کی طرز پر مظاہرہ شروع کیا تھا۔مظاہرہ کو ختم کروانے کیلئے پولیس نے رات چار بجے خواتین کو زدوکوب کیا جس میں متعدد افراد سمیت ایک خاتون شدید طور زخمی ہو گئیں تھیں۔اس معاملے میں پولیس نے اسلامی اسکالر مولانا طاہر مدنی سمیت اٹھارہ افراد پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر جیل بھیج دیا ہے۔

مولانا کی گرفتاری سے علاقے میں غم و غصے کی لہر پائ جا رہی ہے۔ اعظم گڑھ کی تمام انصاف پسند عوام سے مولانا طاہر مدنی کی مدد کیلئے آگے آئیں۔ آج ایک ایسا شخص جیل چلا گیا جو ہر وقت بلاتفریق سب کی مدد کیلئے کھڑا رہتا تھا۔2008بٹلہ ہائوس انکائونٹر کے وقت مولانا طاہر مدنی کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔آج اس عظیم شخص کو آپ سب کی ضرورت ہے۔ لہذا سارے لوگ مولانا کیلئے آوازبلند کریں۔ہم سب اس لڑائ کو قانونی طریقے سے لڑیں۔

ذاکر حسین 
الفلاح فرنٹ 
ای میل :hussainzakir650@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad