تازہ ترین

جمعرات، 20 فروری، 2020

سی اے اے کے خلاف مسلم خواتین کا اتحاد قابل تحسین۔سمترا مہاجن

نئی دہلی۔ 20 فروری (آئی این ایس) ملک میں متنازع شہریت ترمیم قانون (سی اے اے) لاگو ہونے کے بعد کئی جگہ مخالفت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔دہلی کا شاہین باغ مرکز بنا ہوا ہے۔کئی لیڈر بھی اس معاملے پر حکومت پر مسلسل حملہ بول رہے ہیں۔اب سابق لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا ہے کہ ملک میں شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ قابل تحسین ہے۔لوک سبھا کی سابق اسپیکر سمترا مہاجن نے شہریت ترمیم قانون کے خلاف دہلی اور ملک کے دوسرے حصوں میں ہو رہے احتجاج میں خواتین کی شرکت کی تعریف کی ہے۔ مہاجن نے کہاکہ چاہے دہلی ہو یا اندور، مسلم خواتین کا گھروں سے نکل کر احتجاج میں شامل ہونے سے ان کا اعتماد بڑھے گا۔

اس سے ان میں بیداری بڑھے گی اور وہ مستقبل میں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا سکیں گی۔یہ اچھی بات ہے کہ اب وہ سڑکوں پر اتر کر اپنا خیال رکھ رہی ہیں۔سمترا مہاجن نے کہاکہ خواتین کا کسی مسئلے پر رائے رکھنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے،اب بڑی تعداد میں مسلم خواتین شہریت ترمیم قانون کے خلاف ہو رہی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں،اگرچہ مجھے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ خواتین مسئلے کو صحیح سے سمجھ رہی ہیں کہ نہیں۔یہ مسلم خواتین گھروں سے نکل کر زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگا رہی ہیں،میں مسلم سماج کے لوگوں کا اس کے لئے شکریہ اداکرتی ہوں، کیونکہ اس سے پہلے خواتین گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ میں خدا سے دعا کرتی ہوں کہ مسلم خواتین کا گھر سے نکلنا ملک کے لئے مستقبل میں اچھا ثابت ہو۔سمترا مہاجن نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے میں درخواست کرتی ہوں کہ وہ ان خواتین کی شرکت کو آگے بھی یقینی بنائیں،جب مہاجن سے پوچھا گیا کہ سی اے اے کی وجہ سے کچھ مسلم لیڈر بی جے پی کو کیوں چھوڑ رہے ہیں؟اس پر مہاجن نے کہا کہ مسلم لیڈروں کو انہیں اپنے معاشرے کے لوگوں کو کچھ چیزیں وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad