ممبئی: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) این آر سی اور این پی آر کے خلاف ’ممبئی باغ‘ میں گزشتہ ۲۴؍ دن سے احتجاج کیا جارہا ہے جس میں خواتین کے علاوہ بڑی تعداد میں طالبات بھی شامل ہیں۔سخت سردی کا سامنا کرنے کے بعد اب شدید گرمی کے باوجود مظاہرین ڈٹی ہوئی ہیں۔ مورلینڈ روڈ کی جس سڑک پر احتجاج جاری ہے،پیر کو اس سڑک کی اسٹریٹ لائٹ اچانک چلی گئی لیکن کم روشنی اور پولیس کے ہراساں کئے جانے کے باوجود خاتون مظاہرین کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ سی اے اے نافذ کرنے والی پارٹی بی جے پی کی جانب سے ممبئی باغ میں احتجاج کرنے والی خواتین کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا تھا جس میں ان سے بات چیت کرنے کا پیغام دیتے ہوئے مصالحت سے معاملہ پر غور کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ تاہم خواتین نے اس ضمن میں مکتوب کا نہ تو جواب دیا ہے اور نہ ہی بی جے پی (ممبئی) کی جانب سے کسی نے ان سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔
دریں اثناء ممبئی باغ میں اداکارہ پوجا بھٹ کے آنے کی اطلاع تھی لیکن کسی وجہ سے وہ نہ آسکیں۔ معمول کے مطابق منگل کو بھی خواتین نے قومی ترانہ پڑھ کردن کا آغاز کیا اور کالے قانون کے خلاف نعرے لگائے۔ اسی درمیان پیر کی شب جس سڑک پر خواتین احتجاجی دھرنا دے رہی ہیں، اس علاقے میں شارٹ سرکٹ کے سبب اسٹریٹ لاٹ بند پڑ گئی۔ بعدازیں سماجی کارکن ثاقب خان کی کوششوں سے اسٹریٹ لائٹ کی روشنی کو بحال کیا جاسکا۔دوسری جانب پولیس نے ایک بار پھر مظاہرین کے ایک وفد کو پولیس اسٹیشن طلب کیا تھا اور احتجاج ختم کرنے یا اسے منتقل کرنے کے ضمن میں بات چیت کی کوشش کی۔ غیر مصدقہ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس پر اب بھی کوئی اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق پولیس نے احتجاج میں شامل ہونے والی خواتین اور طالبات کے نام اور فون نمبر درج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے جبکہ سماجی کارکن فیروز میٹھی بور والااور علی بھوجانی کو ایک بار پھر اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس تاڑدیو کے روبرو حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا جہاں دونوں نے حاضر ہو کر اپنا حلف نامہ داخل کیا۔فیروز میٹھی بور والااور علی بھوجانی پر مظاہرین کو ورغلانہ کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں