رحمانی باغ میں 18 ویں دن بھی دھرنہ جاری
یکہتہ :مدھوبنی/منت اللہ رحمانی(یواین اے نیوز21فروری2020)بروز جمعہ بوقت دو بجے دوپہر سے شام چار بجے تک روزانہ رحمانی باغ میں شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)اور قومی شہرت رجسٹر (این آرپی)کی مخالفت میں دہلی میں چل رہے خواتین کے مظاہرہ کے بعد 18ویں دن بھی خواتین نے رحمانی باغ یکہتہ میں ہزاروں کی تعداد میں عورتوں نے مظاہرہ کیا. ہزاروں کی تعداد میں برقع پوش عورتیں اپنے سروں پر نو سی اے اے ،نو این آرسی ،ونو این پی آر،کی پٹی باندھ کر ہندومسلم سکھ عیسائ آپس میں سب بھائ بھائ،وریجکٹ سی اے اے ،این آرسی،انقلاب زندہ باد جیسے نعرے لکھے کاغذ اٹھاکر پر امن مظاہرہ کرنے لگیں.اس موقع پر نرگس فاطمہ نے کہا کہ ملک کی حالات بدترین دور سے گزررہاہے،اس کامقابلہ کرنے کیلۓ خواتین کوبھی گھر سے باہر آناہوگا اور اس سرکارکی مخالفت میں سڑک پراتر کرہلہ بول کرناہوگا،آج ہماری بہنیں شاہین باغ میں اس قانون کی مخالفت میں اس کڑاکے کی سردی کودر کنار کرتے ہوۓ قربانی دینے تک کیلۓ عہد کرچکی ہیں۔
اظہر خورشید گڈو نے کہا کہ ہم ہندوستانی ہیں ہمیں کوئ بھی ہندومسلم میں نہیں بانٹ سکتا.اور اس قومی یکجہتی کی مثال کو بھی برباد نہیں کرسکتا موجودہ سرکار نے جس طرح ہندوستان کے باشندگان کو سڑک پر اتار دیاہے یہاں کی عوام اسے ضرور بدلہ لے گی.اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں یکہتہ واطراف کے نوجوان پیش پیش رہے اور کم وقت میں وہ بھیڑ جمع کردیا جس سے میدان بھی تنگ نظرآرہاتھا نوجوان کمیٹی میں عاشق حسین،ابواللیث ،ناصرجمال،قاری وصی،دلشاد احمد،خالد حسین،محمدزیدی ،قاری کلیم اللہ دلشاد غنی پیش پیش تھے .آخیر میں جناب شہباز عارفی نے تمام لوگوں کا شکریہ اداکرتے ہوۓ کہا کہ ہمارا یہ دھرنہ پر سکون ماحول میں چل رہاہے اور کل ڈاکٹر شکیل احمد و بھاؤ نا جھا بینی پٹی کی آمد متوع ہے آپ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں.یہ خبر اشتیاق احمدندوی ازہری نے دی۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں