تازہ ترین

اتوار، 1 مارچ، 2020

جیل میں میرے ساتھ دشت گردوں جیسا سلوک کیا جارہاہے،اعظم خان

سیتا پور(یواین اے نیوز یکم مارچ2020)سماج وادی پارٹی سینئر لیڈو رام پور رکن پارلیمان اعظم خان نے سنیچر  کوایک کیس کی سماعت کے لئے سیتا پور جیل سے رام پور کے لئے روانہ ہونے سے قبل کہا کہ " ان کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک روا کیا جارہا ہے۔ اعظم خان کو ایک کیس کی سماعت کے معاملے میں رام پور میں ایم پی۔ ایم ایل اے کورٹ میں پیش ہونا تھا۔ رام پور روانہ ہونےسے قبل اعظم نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ جیل میں ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے گویا وہ کوئی دہشت گرد ہیں، رکن پارلیمنٹ ان کے بیٹے عبداللہ کے ساتھ سیتا پور جیل میں سخت سیکورٹی کے درمیان جیل میں رکھا گیا ہے۔ جبکہ ان کی بیوی و ایم ایل اے تزئین فاطمہ کو خاتون جیل میں رکھا گیاہے۔ایس پی رکن پارلیمان جہاں جیل میں رات بھر سو نہیں پارہے ہیں،وہیں بیوی تزئین فاطمہ نے کمر درد کی شکایت کی ہے۔ ایس پی سر براہ اکھلیش یادو نے جمعرات کو رکن پارلیمان اور ان کے کنبے سے سیتا پور جیل میں ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اعظم خان کو سیاسی دشمنی میں جیل میں رکھا گیا ہے۔

 بیٹے عبد الله اعظم کے فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ کے معاملے میں رامپور کی ایک عدالت میں خود سپردگی کے بعد عدالت نے اعظم خان اور ان کی بیوی و بیٹے کو 02 مارچ تک عدالتی تحویل میں جیل میں بھیج دیا تھا۔وہیں ۔ دوسری جانب اعظم کنبے کو بغیر عدالت کو مطلع کئے رامپور جیل سے سیتا پور جیل منتقل کئے جانے پر جمعہ کو رام پور عدالت نے رام پور ضلع جیل انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔اعظم کنبے کی جانب سے عدالت میں داخل کرنے والے وکیل دانش خان نے بتایا کہ ہم نے عدالت کے سامنے مبینہ غلط طریقے سے تینوں لیڈران کو رام پور سے سیتا پور جیل منتقل کئے جانے کے خلاف عرضی داخل کی ہے مسٹر دانش کے مطابق درازی عمر کی وجہ سے اعظم اورتزئین کو کیس کی سماعت کے لئے سیتا پور سے رامپور تک کا ہر بار سفر کرنا پریشانی کا باعث ہو گا۔ عدالت نے ضلع انتظامیہ اور جیل انتظامیہ سے اس بات پر جواب طلب کیا ہے کہ تینوں لیڈران کو عدالت کو مطلع کئے بغیر کیوں ٹرانسفر کیا گیا۔

 اعظم کنبے کو جیل میں بھیجنے کے بعد رامپور پولیس نے کہا ہے کہ وہ عدالت سے دوسرے مقدمات میں بھی رکن پارلیمان کو ریمانڈ پر لینے اجازت طلب کرے گی،اعظم خان کو مجموعی طور سے 86 مقدموں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو رامپو ضلع انتظامیہ نے گذشتہ سال کے ماہ اپریل سے ان کے خلاف درج کئے ہیں،وہیں دوسری جانب الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عبد الله اعظم کو اسمبلی الیکشنکے لئے غیر مجاز قرار د ئیے جانے کے بعد اتر پردیش اسمبلی نے جمعرات کو عبد الله اعظم کی اسمبلی سے رکنیت ختم کرتے ہوئے ان کی اسمبلی سیٹ سوارکو خالی قرار دے دیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عبداللہ جس وقت اسمبلی انتخابات کے لئے منتخب ہوئے تھے ان کی عمر 25 سال نہیں تھی اس لئے وہ اسمبلی کی رکنیت کے لئے مجاز نہیں ہے۔ وہیں عبد الله نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad