تازہ ترین

ہفتہ، 22 فروری، 2020

دِلّی والو ! زِندہ باد

نیاز ؔ جیراجپوری

زِندہ باد اے دِلّی والو ! زِندہ باد
آپ دِل والوں کی دِلّی والے ہیں
آپ لوگوں نے یہ ثابِت کر دِیا
ہُو تُتُو کرتے تھے جو بہروپئے
آپ نے اُن لوگوں کو چِت کر دِیا
زِندہ باد اے دِلّی والو ! زِندہ باد
فِتنہ پَرور جُھوٹے دھوکے نازوں کو
آئینہ سچّائی کا دِکھلا دِیا

نفرت و تفریق جِنکا شیوا ہے
پیار کا مطلب اُنہیں سمجھا دِیا
زِندہ باد اے دِلّی والو ! زِندہ باد
ذہن و دِل کے کالوں کی ہر چال پر
پِھر وہی ٹھوکر لگا دی آپ نے 
لاج امن و آشتی خُوشحالی کی
روک کر اِنکو بچا لی آپ نے
زِندہ باد اے دِلّی والو ! زِندہ باد
قابِلِ تعرےف ہے یہ فیصلہ
کاش ! اِسکی ہر جگہ تقلید ہو
پِھر تو ہو ہر رات ہی دیپاولی
روز بَیساکھی دشہرا عید ہو 
زِندہ باد اے دِلّی والو ! زِندہ باد
ہے نےازؔ اللہ سے کرتا دُعا
اور بِنتی کرتا ہے بھگوان سے
بانٹتے ہیں جو ہمیں انکے خلاف
ہم لڑےں لڑتے رہیں جی جان سے
ہو مُبارک جشنِ فتح و اعتماد
زِندہ باد اے دِلّی والو ! زِندہ باد

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad