تازہ ترین

جمعہ، 28 فروری، 2020

دھلی تجھے شرم نہ آئی

ڈاکٹر محمد عمار قاسمی
جلتی مسجدیں دھکتے ہوئے آگ کے شعلے جھلستے ہوئے معصوم بچے بکھری ہوئی انسانی لاشیں خون آلود گلیاں ہر طرف آہ بکار کا سماں اسی سالہ بوڑھی ماں کی جلی ہوئی لاش میناروں پر بھگوا جھنڈا جوانوں کی گولیوں سے جھلنی ہوئی لاشیں سکستی ہوئی مائیں بلکتے ہوئے بچے خون سے سنی ہوئی کی سڑکیں یہ افسانہ نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے یہ تصویر بھارت کے کسی انپڑھ گاوں کسی پچھڑے شہر کی نہیں بلکہ یہ تصویر مہان بھارت کے سب سے تعلیم یافتہ تہذیب یافتہ باشعور بھارت کی نمائندگی کرنے والے شہر شہر دہلی کی ہےدہلی تین شب وروز جلتا رہا اسکے انگارے اپنی تباہی کی داستان مسلسل دنیا کو بتا رہے تھے فریادی فریاد کی بھیک مانگ رہے تھے ماوں کے سامنے انکے لاڑلوں کو گولیوں سے بھنا جارہا تھا عوام کی پراپرٹی کوردی کا مال سمجھ کر جلایا جارہا تھا بھائی کے سامنے بھائی کو نذر آتش کیا جا رہا تھا خوف ودہشت کے ماحول میں لوگ اپنی اپنی آخری سانسوں گن رہے تھے۔

 مگر افسوس اے دہلی تیرے کانوں جو نہ ریگی  تجھے شرم نہ آئی اپنے ہی لاڑلوں پر رحم نہ آئی تو اتنی سنگ دل تو اتنی بزدل کب سے ہوگئ کہ اپنے ہی جگر کے ٹکڑوں کو بچا نہ پائی افسوس صد افسوس کل تک تو بہادر تھی تیرے  آنگن میں ایک پرندہ بھی پر نہ مارسکتا تھا آج کیا ہوا اتنے بلوائی تیرے گھر میں کیسے گھس گئے ? تجھے ناز تھا کہ تیرے ہی آگن میں بھارت کے صدر جمہوریہ وزیر اعظم وزیر داخلہ ہزاروں سانسد تمام سیاسی پارٹیوں کے حاکم اعلی فوج پولس سیکورٹی کے اعلی سے اعلی افسران  رہا کرتے ہیں مجھے  اور میری عوام کو کسی سے کوئی  خطرہ نہیں تو پھر اتنی لاشیں کیوں گرگئیں  دنیا کی سب سے بہتر سیکورٹی میں تو رہتی اور تیرے ہی پیاروں کی لاشیں پوسٹ مارٹم ہاوس کے سامنے بکھری پڑی ا تجھے  ان بھارتیوں کی لاشیں دیکھ کر شرم نہ آئی  حیرت ہے۔

 تیرے ضمیر پراے دہلی تجھے تو بڑا فخر تھا کہ اس صدی کا سب سے بڑا سیاسی کرانتی کاری لیڈر تیری رکھوالی کر رہا تھا جوبہادری کی علامت تھا وہ تین دن تک خاموش تماشاِئی بن کر اپنے لگائے ہو سی سی ٹی وی سے تیرے دہکتے ہوئے دہلی کو دیکھ رہا پھر بھی تجھے شرم نہ آئی تیری تو گلی گلی میں سی سی ٹی وی لگے ہوئے تجھے اب تک بلوائی نہ دکھے تو تو پورے بھارت میں اگر کہیں کوئی حادثہ ہوتا تھا تو اسے حادثے کے ماسٹر مائنڈ کے ساتھ ساتھ اسکی اگلی اور پچھلی نسلوں کی روداد دنیا کے سامنے رکھ دیتی تھی آج تجھے کیا ہوا تیری گود سے ہر روز امن کا پیغام جاری ہوتا ہے آج تو کیوں بے امن ہوگئی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad