ڈاکٹر محمد عمار قاسمی
جلتی مسجدیں دھکتے ہوئے آگ کے شعلے جھلستے ہوئے معصوم بچے بکھری ہوئی انسانی لاشیں خون آلود گلیاں ہر طرف آہ بکار کا سماں اسی سالہ بوڑھی ماں کی جلی ہوئی لاش میناروں پر بھگوا جھنڈا جوانوں کی گولیوں سے جھلنی ہوئی لاشیں سکستی ہوئی مائیں بلکتے ہوئے بچے خون سے سنی ہوئی کی سڑکیں یہ افسانہ نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے یہ تصویر بھارت کے کسی انپڑھ گاوں کسی پچھڑے شہر کی نہیں بلکہ یہ تصویر مہان بھارت کے سب سے تعلیم یافتہ تہذیب یافتہ باشعور بھارت کی نمائندگی کرنے والے شہر شہر دہلی کی ہےدہلی تین شب وروز جلتا رہا اسکے انگارے اپنی تباہی کی داستان مسلسل دنیا کو بتا رہے تھے فریادی فریاد کی بھیک مانگ رہے تھے ماوں کے سامنے انکے لاڑلوں کو گولیوں سے بھنا جارہا تھا عوام کی پراپرٹی کوردی کا مال سمجھ کر جلایا جارہا تھا بھائی کے سامنے بھائی کو نذر آتش کیا جا رہا تھا خوف ودہشت کے ماحول میں لوگ اپنی اپنی آخری سانسوں گن رہے تھے۔
مگر افسوس اے دہلی تیرے کانوں جو نہ ریگی تجھے شرم نہ آئی اپنے ہی لاڑلوں پر رحم نہ آئی تو اتنی سنگ دل تو اتنی بزدل کب سے ہوگئ کہ اپنے ہی جگر کے ٹکڑوں کو بچا نہ پائی افسوس صد افسوس کل تک تو بہادر تھی تیرے آنگن میں ایک پرندہ بھی پر نہ مارسکتا تھا آج کیا ہوا اتنے بلوائی تیرے گھر میں کیسے گھس گئے ? تجھے ناز تھا کہ تیرے ہی آگن میں بھارت کے صدر جمہوریہ وزیر اعظم وزیر داخلہ ہزاروں سانسد تمام سیاسی پارٹیوں کے حاکم اعلی فوج پولس سیکورٹی کے اعلی سے اعلی افسران رہا کرتے ہیں مجھے اور میری عوام کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں تو پھر اتنی لاشیں کیوں گرگئیں دنیا کی سب سے بہتر سیکورٹی میں تو رہتی اور تیرے ہی پیاروں کی لاشیں پوسٹ مارٹم ہاوس کے سامنے بکھری پڑی ا تجھے ان بھارتیوں کی لاشیں دیکھ کر شرم نہ آئی حیرت ہے۔
تیرے ضمیر پراے دہلی تجھے تو بڑا فخر تھا کہ اس صدی کا سب سے بڑا سیاسی کرانتی کاری لیڈر تیری رکھوالی کر رہا تھا جوبہادری کی علامت تھا وہ تین دن تک خاموش تماشاِئی بن کر اپنے لگائے ہو سی سی ٹی وی سے تیرے دہکتے ہوئے دہلی کو دیکھ رہا پھر بھی تجھے شرم نہ آئی تیری تو گلی گلی میں سی سی ٹی وی لگے ہوئے تجھے اب تک بلوائی نہ دکھے تو تو پورے بھارت میں اگر کہیں کوئی حادثہ ہوتا تھا تو اسے حادثے کے ماسٹر مائنڈ کے ساتھ ساتھ اسکی اگلی اور پچھلی نسلوں کی روداد دنیا کے سامنے رکھ دیتی تھی آج تجھے کیا ہوا تیری گود سے ہر روز امن کا پیغام جاری ہوتا ہے آج تو کیوں بے امن ہوگئی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں