تازہ ترین

جمعرات، 27 فروری، 2020

دہلی میں ہوئے تشدد کیلئے بی جے پی لیڈر کپل مشرا کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے ۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ

نئی دہلی(یواین اے نیوز27فروری2020)ویمن انڈیا موؤمنٹ (WIM)نے سنگھ پریوار کے دہشت گردوں کے ذریعے شمال مشرقی دہلی میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کی شدید تنقید کرتے ہوئے بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے، جس نے ان کو نفرت انگیز اور دھمکی آمیز تقریر سے اکسایا تھا۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ نے اس پورے واقع کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ ملک بھر میں CAA/NPR/NPRکی مخالفت کرنے والے مسلمانوں پر پولیس جس طرح مظالم ڈھارہی ہے وہ قابل مذمت ہے ۔ بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا کی جانب سے سی اے اے کے مخالف مظاہرین کو زبردستی دھرنا مقام سے ہٹانے کی وارننگ جاری کرنے کے بعد شمال مشرقی دہلی میں سی اے اے کے حامی مظاہرین اور مخالفین کے درمیان تشدد پھوٹ پڑی تھی۔

 مبینہ طور پر ان فسادات میں اب تک ایک پولیس اہلکار سمیت متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیںاور تقریبا 189افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر محترمہ مہرالنساء خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ستم ظریفی کی بات ہے کہ دہلی میں اس وقت تشدد پھوٹ پڑا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستانی زمین پر پیر رکھا 23فروری کو ابتدائی جھڑپوں کے بعد 24اور 25فروری 2020کو یہ تشدد دو دن تک بلا روک ٹوک جاری رہا ۔ مسلمانوں کے خلاف اجتماعی تشدد بلاشبہ ایک گہری سازش کا نتیجہ تھا اور اس تشدد کا منصوبہ ایسے وقت بنایا گیا جب پورے میڈیا کی توجہ ٹرمپ کے دور ے پر تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسا لگتا ہے کہ پولیس جان بوجھ کر مسلمانوں کا نشانہ بنارہی ہے۔ 

مہرالنساء خان نے گہرے رنج و غم کا ا ظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دہلی پولیس سی اے اے کے حامی غنڈوں کے ساتھ پتھراؤ کرنے میں ملوث ہے۔ دہلی پولیس نے سی اے اے کے حامی ہندوتوا دہشت گردوں کو مسلمانوں کے املاک کو نذر آتش کرنے ، پتھراؤ کرنے اور حملہ کرنے کیلئے کھلی چھوٹ دے رکھا تھا۔ متعدد پولیس اہلکار اور شہریت کے قانون کی حامیان زیادہ تر خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ ہندو گروپ کی اکثریت نے اس تشد د کو روکنے کیلئے بہت کم کام کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جعفر آباد اور دہلی کے ملحقہ علاقوں میں پولیس امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ۔ مہرالنساء خان نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی جیسے کالے قوانین کے خلاف جاری احتجاج کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام برادریوں کے لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں۔

 انہوںیاد دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف عدم پر امن مظاہرہ کرنا آئینی حق ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی یہ کہا ہے کہ ملک کے عوام احتجاج کا آئینی حق رکھتے ہیں۔ پر امن احتجاج صحت مند جمہوریت کی علامت ہے اور تشدد کو کھبی بھی جواز نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر مہر النساء خان نے مرکزی حکومت سے سی اے اے کو واپس لینے اور این پی آر /این آر سی کو مستقل طور پر نافذ نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک میں صورتحال خراب نہ ہواور پولیس کو غیر جانبدارانہ انداز میں امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت دی جائے ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad