دیوبند،دانیال خان(یواین اے نیوز 25فروری2020)ِشہریت ترمیمی قانون مجوزہ این پی آر اور این آر سی کے خلاف دیوبند کے عیدگاہ میدان میں خواتین ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری ستیہ گرہ آج 30ویں روز میں داخل ہو گیا۔جس میں ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد،بابائے قوم مہاتما گاندھی اور بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو یاد کیا گیا اور حکومت سے سیاہ قوانین کو فی الفور واپس لئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ این پی آر،این آر سی کے لئے وہ کسی بھی قسم کے کاغزات یا دستاویزات پیش نہیں کریں گے۔دھرنا گاہ کے اسٹیج سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام منتظمین میں شامل فریحہ عثمانی، سلمہ احسن،عائشہ اور فوزیہ سرور نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ دھرنے پر بیٹھی خواتین کی فنڈنگ کی جانچ کر رہی ہے لیکن ان سے کوئی یہ معلوم کرنے والا نہیں ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا استقبال کرنے والی ناگرک ابھینندن سمیتی کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آئے۔انہوں نے کہا کہ آج ملک تیزی کے ساتھ تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے،معاشی اعتبار سے ملک دیوالیہ ہو چکاہے،بہادر فوجی جوانوں کی جانیں جا رہی ہیں،سرکاری املاک اور محکمہ جات کو فروخت کیا جا رہا ہے اور من مانے فیصلوں کے ذریعہ دستور کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں،مہنگائی بڑھ گئی ہے،اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
ملک میں خواتین محفوظ نہیں ہیں،عصمت ریزی اور قتل کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے،ہجومی تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں جس سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے لیکن اب حد ہو چکی ہے پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے تمام طبقات ملک کے دستور اور جمہوریت کی بقاء کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اب امیت شاہ کی من مانی اور وزیر اعظم کی تاناشاہی ہرگز نہیں چلے گی۔ متحدہ خواتین کمیٹی کی صدر آمنہ روشی،عذرا خان،زینب عرشی اور ارم عثمانی نے کہا کہ سی اے اے،این پی آر اور این آر سی سے ملک کے باشندوں کو نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہے،آج ملک کی معاشی حالت خستہ ہے روزگار برائے نام ہے،کمپنیاں بند ہو رہی ہیں،کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہے ایسے نازک وقت میں ملک کو اس طرح کے قانون کی ضرورت نہیں ہے،آج لوگوں کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں،بے روزگاری اپنے پنکھ پھیلائے کھڑی ہے،پڑھے لکھے لوگ روزگار کی تلاش میں در بدر کی ٹھاکریں کھا رہے ہیں اور ہم سی اے اے اور این آر سی جیسے غیر ضروری مسائل میں الجھے ہوئے ہیں جس سے نقصان کے سوائے کوئی فائدہ نہیں ہے ساتھ ہی یہ قانون غیر جمہوری اور غیر آئینی بھی ہے اس لئے بھی اس قانون کی مخالفت بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بار بار کہ رہی ہے سی اے اے قانون سے ہندوستانیوں کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
لیکن ہمارا ماننا ہے کہ جب این پی آر اور این آر سی کا نفاذ ہوگا تو اس سے تمام ہندوستانی باشندے متاثر ہوں گے اور وہ اپنی شہریت کے ساتھ اپنی زمین جائداد اور ملازمت سمیت تمام چیزوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔اس دوران کمسن بچے اور بچیاں بھی این پی آر،سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں نعرے بازی کرتے ہوئے نظر آئے اور آرٹسٹوں نے خوبصورت رنگولی بھی بنائی۔وہیں سی اے اے کی حمایت اور مخالفت میں دہلی اور علیگڑھ میں ہوئے تشدد کے بعد دیوبند کے عیدگاہ میدان میں جاری خواتین کے غیر معینہ دھرنے کی حفاظت کے لئے انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر ایس پی دیہات ودیا ساگر مشرا کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔شام سے ہی ایس پی دیہات نے دیوبند میں کیمپ کر دیا اور عیدگاہ میدان میں پہنچ کر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا،انہوں نے دھرنا گاہ کے نزدیک مختلف پوائنٹس کی نشاندہی کر پولیس اہلکاروں کو مستعدی کے ساتھ ڈیوٹی پر تعینات رہنے اور شر پسند عناصر کے خلاف کارروائی کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں