تازہ ترین

ہفتہ، 18 جنوری، 2020

"وہ چاہتے ہیں...! "

محمد عباس دھالیوال، مالیر کوٹلہ ،پنجاب

ہوائیں ان کے ماتحت ہوں 
فضاؤں پہ ہو انھیں کا اختیار 
گرفت میں چمن انھیں کی رہے 
ہر گل انھیں پوچھ کر ہی کھلے 
وہ چاہتے ہیں ...! 
روشن فلک پہ ہیں جتنے چراغ  
تابانی کو ان کی وہ کر دیں پامال 
ہر سِمت اندھیرے پھیلاتے ہوئے 
پروانوں کو دم توڑتا چھوڑ دیں 
وہ چاہتے ہیں ...! 
بہتے دریاؤں پہ لگائیں لگام 
چشموں کے بہاؤ کو روک دیں 
ممکن نہ ہو، گر اُنھیں روکنا 
مخالف سِمت انھیں موڑ دیں 
وہ چاہتے ہیں ...! 
بدل کر سبھی روایات یہاں 
صدیوں پرانی غلامی سے پُر 
تاریخی بدعات کے داغ کو 
عصرِ حاضر پہ پھر تھوپ دیں 
وہ چاہتے ہیں...! 
اُڑتے پرندوں کے پَر نوچ لیں
پھولوں سے انکی ہنسی چھین لیں 
زہر نفرتوں کا ہر جا پھیلا 
محبت کے سب رَس سَوکھ لیں
وہ چاہتے ہیں جو...! 
کوئی انھیں مگر سمجھائے تو 
کہے ہے زمانہ، یہ دنیا جسے 
بنی ہے کسی کی،نہ بنے گی کبھی 
کہ دھوکے کاہے، یہ سب کاروبار

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad