تازہ ترین

جمعرات، 23 جنوری، 2020

وڈالا زدو کوب معاملہ;جونائل جسٹس بورڈ نے ملزم کو ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر باعزت بری کردیا

جمعیۃ علماء خاطی پولس والوں پر کارروائی کے لیئے ہائی کورٹ سے رجوع ہوگی، گلزار اعظمی

ممبئی(یواین اے نیوز 23جنوری2020) کمسن بچوں کے خلاف قائم مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت (جونائل جسٹس بورڈ) نے آج یہاں نابالغ ملزم واجد لعل محمد کو ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے باعزت بری کردیا جس کی وجہ سے پولس کو شدید دھچکا لگا ہے، ملزم پر الزام عائد تھا کہ وہ پولس کے کام میں مداخلت کررہا تھا۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃعلماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امدا د کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔جنوبی ممبئی ڈونگری علاقے میں واقع آشاسدن میں قائم جونائل جسٹس بورڈ کی جج ایس این شیٹی نے اپنے فیصلہ میں کہاکہ مقدمہ درج کرنے میں دیری اور پولس افسران کے بیانات سے ملزم کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوتا ہے، انہوں نے اپنے فیصلہ میں مزید کہاکہ پولس والوں نے دوران گواہی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ملزم واجد نے ہائی کورٹ میں ان کے خلاف پٹیشن داخل کی ہے جس پر عدالت نے نوٹس جاری کیا ہے۔اس معاملے میں چار پولس افسران نے گواہی دی تھی لیکن ان چاروں افسران کے بیان میں تضاد پایا جس کا فائدہ ملزم کو دیا۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ  با شرع نابالغ لڑکے محمد واجد لعل محمد کو وڈالا پولس نے سال 2014میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ ممبئی کے انٹاپ ہل نامی مقام سے گذر رہا تھا اور وہاں پر چند پولس والے ایک نوجوان کو زدوکوب کر رہے تھے۔ واجد نے جب پولس والوں کو نوجوان کو مارتے دیکھا تو وہ بھی ایک کونے میں کھڑے ہوکر دیگر لوگوں کی طرح بڑی دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا  جس کے بعد پولس والوں نے ملزم کو جیپ میں بیٹھا لیا  تھا اور  انہیں اس بات کا شبہ ہونے لگا  تھا کہ ملز اپنے موبائل سے پولس کے تشدد کی شوٹنگ کر رہا تھا۔ ملزم کو پولس تحویل میں لینے کے بعد  پولس نے جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے وہ ناقابل بیان ہیں یہاں تک کے اس باشرع نوجوان کو برہنہ کر کے اس کے جیب میں موجودمسواک کو اس کے مقعد میں گھسایا گیا تھااور اس کے ساتھ مبینہ طور پر بد فعلی بھی کی گئی تھی،  جسمانی اور ذہنی اذیتیں بھی دی گئی تھی جس کی  طبی معائنہ میں تصدیق ہوچکی ہے۔ایک جانب جہاں جمعیۃعلما ء کے وکلاء شریف شیخ، متین شیخ، انصار تنبولی، شاہد ندیم، رازق شیخ، ارشد شیخ و دیگرنے جونائل جسٹس بوڑد میں مقدمہ لڑ ا وہیں ہائی کورٹ میں خاطی پولس والوں کے خلاف کاروائی کیئے جانے کے لیئے پٹیشن بھی داخل کی ہے، اب جبکہ جونائل جسٹس بورڈ نے ملزم کوباعزت بری کردیا ہے، فیصلہ کی نقل موصول ہوتے ہی ہائی کورٹ میں اسے داخل کرکے عدالت سے پولس والوں پر کارروائی کرنے کی گذارش کی جائے گی۔جونائل جسٹس بورڈ کا فیصلہ آنے کے بعد ملزم واجد لعل محمد نے دفتر جمعیۃعلماء پہنچ کر گلزار اعظمی وکلاء انصار تنبولی اور شاہد ندیم سے ملاقات کرکے اسے قانونی امداد فراہم کرنے پر جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا اور گلزار اعظمی سے گذارش کی کہ وہ خاطی پولس افسران کو سزا دلانے کے لیئے ہائی کورٹ سے رجوع کریں جس پر گلزا راعظمی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ سینئر وکلاء سے صلاح ومشورہ کرنے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع ہونگے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad