ارریہ،معراج خالد(یواین اے نیوز 23جنوری2020)سی اے اے پر عدالت کی فوری روک لگانے سے انکار پر جہاں پورا دیش برہم نظر آرہا ہے وہیں دانشوران ، علماء کرام، عدالت کے تئیں اعتماد اور بھروسہ کی تلقین بھی کر رہے ہیں میڈیا اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے جمعیة علماء ارریہ کے جنرل سکریٹری و مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ کے استاد مفتی ہمایوں اقبال ندوی نے کہا شہریت ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کے اسٹےآڈرسےانکار پر بددل ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔عدالت عظمی نے اس کیس کی عرضی پر سماعت سے انکار نہیں کیا ہے۔اس قانون کی مخالفت میں جتنی عرضیاں کورٹ کو موصول ہوئی ہیں اس پر سنوائی کی منظوری کورٹ نے دیدی ہے ۔
ایک بڑی تعداد میں پٹیشنز موصول ہوئے ہیں ۔انکی کٹیگری بھی بنادی گئی ہےاور انہیں فل بنچ کے حوالے کرنے پر بھی عدالت کی آمادگی سامنے آئی ہے ۔سابقہ نوٹس کی روشنی میں حکومت کاجواب ہنوزداخل نہیں ہوسکا ہے بلکہ اس کے لئے یہ جواب ملا ہے " جواب تیار ہے مگر ناقص ہے "کی بات کہ کر مہلت مانگ لی ہے ۔کورٹ نے اسی لئےمزیدچار ہفتے کی مہلت دی ہے ۔اصولی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عدالتی پروسیز ہیں ۔اس کو کیا جانا چاہئے، اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہے ۔البتہ اس جمہوری ملک کی عدالت عالیہ سے لوگوں کی بےپناہ امیدیں اورحد درجہ اعتمادوابستہ ہیں ،اسی لئے ہر شہری یہ مزاج رکھتا ہے کہ غیر جمہوری کوئی بھی قانون سپریم کورٹ میں چند سکنڈوں کا ہی مہمان ہوسکتا ہے وہ کبھی بھی یہاں گھر جمائی نہیں بن سکتا ہے۔
آئین کےدیوانےاورقانون کےپروانےاسی لئےکہ رہےتھےکہ پہلی سماعت ہی میں یہ قانون عدالت سے باہرہوجائےگا اور افغانستان چلاجائےگا،باوجوداسکےیہ جناب داغ کی طرح استھان گرہن کئےہوئےہے۔ع جناب داغ جہا بیٹھ گئےبیٹھ گئے ،ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا ہے ۔عوام کی پڑھی لکھی بڑی تعداد اس وقت کھڑی ہو چکی ہے وہ جب تک یہ قانون جو خوبصورت انداذ میں دراندازی کر رہی ہے ،باہر نہ ہوجائے بیٹھنے والی نہیں ہے ۔ہاں عدالتی ضابطے کا ہم احترام کرتے ہیں، عدالتیں اصول و ضوابط سے چلا کرتی ہیں ۔یہاں بے اصولی کی بات پر کوئی شہری اسے مجبور نہیں کرسکتا ہے ۔ایک محاورہ جو اردو میں خوب استعمال کیا جاتا ہے "دیر آید درست آید "کے پیش نظر فیصلہ میں دیر ہو تو فیصلہ بھی اچھا آجاتا ہے ۔اس وقفے میں عرضیوں کی تعداد بڑھ جانے کا قوی امکان ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں