تازہ ترین

جمعہ، 10 جنوری، 2020

شاہین باغ: بارش اور سردی بھی نہیں توڑ پارہی حوصلے،خواتین کادھرناجاری

نئی دہلی(10جنوری2020)بارش اور سخت سردی کے موسم میں قومی شہریت ترمیمی قانون، قوی شہری رجسٹر اور قوی آبادی رجسٹرکے خلاف شاہین باغ میں جامع نگری شاہین باغ اور دہلی کے مختلف علاقوں کی خواتین کا 25ویں روز بھی جاری مظاہرے میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے وابستہ افراد کے ساتھ مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ نے شرکت کر کےسی  اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ متعدد مقررین نے قومی شہریت کے دور رس اثرات، اس کے پیچھے حکومت کی منشا اور حکومت کے بیانات میں تضام کی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کس کی بات پر اعتبار کیاجائے، ہر لیڈر اور مرکزی وزاراء الگ الگ بیان دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوی شہریت ترمیمی قانون کے پیچھے حکومت کے مقاصد اور اہداف کوسمجھنابہت ضروری ہے اور خوشی کی بات ہے کہ یہاں کی خواتین اس چیز کو بخوبی سمجھ چکی ہیں۔ اس دھرنا اور مظاہرہ میں شریک ہونے والے مقررین نے شہریت تری قانون (سی اے اے) واپس لینے اور قوی شہری رجسٹر (این آرسی) اورقوی آبادی جسٹ(این آر پی) کابائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ملک تقسیم کی جانب دھکیلنا ہے۔ یہ قانون صرف آئین کے خلاف ہے بلکہ ملک کی سیکولر اقدار و روایات کےبھی خلاف ہے وہاں کا نظام دیکھنے والوں میں سے ایک محترمہ صائمہ خاں نے بتایا کہ جواہر لال نہرو یونیورٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی کے طلبہ سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اس مظاہرہ میں شریک ہوکر خواتین کا حوصلہ بڑھارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زبردست سردی کے موسم میں مسلسل 25 دنوں سے سریتا وہار کالندی کج روڈ پر دھرنا دینے والی جامعہ نگر، شاہین باغ اور دہلی کے مختلف علاقوں کی خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اس کا قدم کس قدر غلط ہے اور اس نے مذہبی بنیاد پر قانون بنا کر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان خواتین نے کہا کہ ہم سخت ترین سردی کے موسم میں مظاہرہ کر کے یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت ہمارے درد کو سمجھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad