پٹنہ:12؍جنوری(پریس ریلیز)آج آل انڈیا ملی کونسل بہار اور ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن پھلواری شریف پٹنہ کے اشتراک سے فقیرواڑہ جامع مسجدپٹنہ میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر پر ایک خصو صی نشست بلائی گئی جس میں دانشوروں اور وکلا نے شرکت کی۔ اس موقع پر پٹنہ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل جناب خورشید عالم نے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی قانونی حیثیت واضح کر تے ہوئے این پی آر اور سینسس کے فرق کو واضح کیا۔ نیز انہوں نے مذکورہ قوانین کی باریکیوں پر روشنی ڈالی۔ پٹنہ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل جناب خورشید عالم نے دستور ہند کے حوالہ سے یہ واضح کیا کہ سی اے اے ہندوستان کے دستور کے منافی ہے،یہ ایکٹ دستور کے دفعہ14اور21کے خلاف ہے،انہوں نے مزید کہاکہ سنسیکس کا قانون1948میں بنا،جسے سنسس ایکٹ1948کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس ایکٹ کا مقصد ہندوستان میں چھ مہینہ سے رہنے والے ہر شخص کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرنا ہے،مثلا:اس کے پاس رہنے کا مکان ہے یا نہیں؟اس کا خاندان کتنے افراد پر مشتمل ہے؟کھیتی کی زمین کتنی ہے؟
اس کے پاس جانور ہے یا نہیں؟گاڑی رکھتا ہے یا نہیں؟وغیرہ،تاکہ اس بنیاد پر ان کی فلاح وبہبود کی اسکیمیں بنائی جاسکیں اوراس کام کے لیے بجٹ مختص کیا جاسکے۔جب کہ این پی آر شہریت کے قانون سٹیزن شپ ایکٹ1955کا ایک حصہ ہے،جس میں ہندوستان میں چھ ماہ،یا اس سے زائد عرصہ سے رہنے والے ہرفرد کے متعلق معلومات کا رجسٹر ہے،خواہ وہ ہندوستانی شہری ہو یا نہ ہو اوریہ این آر سی کی پہلی کڑی ہے،اس لیے حکومت کا یہ دعویٰ کہ این پی آراورسنسس ایک ہی چیز ہے،یہ بالکل جھوٹ اوردھوکہ پر مبنی ہے،شہریت کا قانون سٹیزن شپ ایکٹ1955کے نام سے جانا جاتا ہے،جس میں اٹل بہاری واجپئی کی سرکار نے 2003میں ترمیم کی اور این پی آرکو اس کا حصہ بنایا،لیکن اس وقت اسے نافذ نہیں کیاجاسکا،کیوں کہ اس وقت واجپئی سرکار کی اکیلی اکثریت نہیں تھی،آج جب کہ بی جے پی نے بڑی اکثریت حاصل کرلی ہے،تو اس نے ترمیم کرکے شہریت ترمیمی قانون2019بنایا،جس میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ پاکستان،بنگلہ دیش اورافغانستان سے آنے والے قانونی اورغیر قانونی ہندو،سکھ، عیسائی، بودھ،جین،پارسی وغیرہ کو شہریت دی جائے گی اوراس قانون سے مسلمانوں کو مستثنی رکھا گیا ہے۔
یعنی کسی مسلمان کو شہریت نہیں دی جائے گی۔ظاہر ہے کہ یہ قانون مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا،جب کہ ہمارا آئین اوردستور کہتا ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے،اور یہاں کوئی قانون مذہب کی بنیاد پر نہیں بنایا جاسکتا ہے،یہ قانون دستور ہند کے آرٹیکل14اور21کے خلاف ہی نہیں؛بلکہ دستور کے روح کے منافی ہے۔اگر اس قانون کا نفاذ عمل میں آگیا تو ہندوستان کا سیکولر کردار تباہ ہوجائے گا اوریہ ملک کے ہر شہری کے لیے خطرناک ہے۔اس لیے کہ این آر سی یعنی قومی رجسٹر آف شہریت میں جو لوگ اپنا دستاویز پیش نہیں کرسکیں گے،انہیں شامل نہیں کیا جائے گا،اورانہیں غیر ہندوستانی قراردے کر ڈیٹینشن کیمپوں میں قید کردیا جائے،جہاں وہ موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔جناب خورشید عالم نے مزید کہاکہ یہ قانون اصلاً ملک کے دلت،آدیباسی اورکمزور وپسماندہ لوگوں کے خلاف ہے؛کیوں کہ ملک کے 70فیصد دلت،آدیباسی اورغریب لوگ اپنے دستاویزات پیش نہیں کرسکیں گے،نتیجتاً انہیں مجبور کیا جائے گا کہ وہ ثابت کریں کہ وہ مذکورہ تینوں ملکوں میں کسی ایک ملک سے قانونی یا غیر قانونی طور پر یہاں آکر آباد ہوئے ہیں،ان کے لیے یہ کام کتنا مشکل ہوگا،یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔جب وہ یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ وہ ہندوستانی ہیں تووہ یہ کیسے ثابت کرسکیں گے کہ وہ پاکستانی،بنگلہ دیشی،یا افغانستانی تھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ قانون ملک کی سا لمیت اورداخلی نظام کے لیے بھی خطرناک ہے؛کیوں کہ ہمارے دشمن ملک پاکستان کے لیے بڑا ہی آسان ہوجائے گا کہ وہ اپنے کسی بھی ٹرینڈ جاسوس کو مظلوم ہندو،سکھ،عیسائی،پارسی،جینی بناکر ہمارے ملک میں بھیج دے اوروہ یہاں ملک کے خلاف تخریب کاری اورجاسوسی کا کام کریں،اس طرح ہمارے ملک کی داخلی سلامتی تباہ ہوکر رہ جائے گی۔انہوں نے مزید کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حکومت آر ایس ایس کے نظریہ کے تحت کام کررہی ہے اوروہ چاہتی ہے کہ وہ اس ملک پر ہمیشہ راج کرے اوراس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان سمیت دلتوں،آدیباسیوں اوردیگر کمزور طبقات کے حقوق سلب کرلیے جائیں۔آر ایس ایس چاہتی ہے کہ اس ملک کے جمہوری نظام کو ختم کرکے منوسمرتی کا نظام لایا جائے۔ مولانا عتیق اللہ قاسمی امام وخطیب جامع مسجد فقیرواڑہ پٹنہ نے اپنے تمہیدی کلمات میں کہاکہ موجودہ وقت بہت نازک ہے،اس وقت ہمیں مل کر اس سیاہ قانون کے خلاف اٹھ کر مقابلہ کرناہے۔آج موجود بھیڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون کس طرح ملک کی اتحاد وسالمیت کے خلاف ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں مشہور صحافی خورشید عالم عارفی نے کہا کہ ہم شکر گزار ہیں ایڈوکیٹ خورشید عالم کے کہ انہوں نے بڑی وضاحت کے ساتھ ان قوانین کے نکات کو واضح کیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو اس قانون کے خطرناک مضمرات اور اثرات سے واقف کرایا جائے اور اس سلسلے میں جو بھی طریقہ مناسب ہو اسے اپنایا جائے۔ اس میٹنگ کے داعی اور آل انڈیا ملی کونسل کے قومی نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندستانی حکومت اسرائیلی حکومت کے طرز پر کام کر رہی ہے اور وہ یہاں کے اقلیتوں بطور خاص مسلمانوں کے ساتھ برما، چین اور اسرائیل جیسی ظالمانہ کارروائی کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لئے ہمیں اس لڑائی کو پوری مضبوطی کے ساتھ لڑنی پڑے گی۔ اگر خدا نخواستہ اس وقت ہم خاموش رہے تو وہ وقت آئے گا جب فسطائی طاقتو ں کی حکومتیں ہم سے ہمارے تمام حقوق اور مراعات چھین لے گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بہار سے اپیل کی کہ وہ باضابطہ اسمبلی سے یہ تجویز پاس کرائیں کہ بہار میں این آر سی نافذ نہیں ہو گا۔ نیز این پی آر کا بھی بائیکاٹ کریں۔اس میٹنگ سے خطاب کر تے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے ریاستی جنرل سکریٹری محمد نافع عارفی نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جب حکومت اقتدار کے نشے میں بد مست ہو کر اقلیتوں کے خلاف ملک بدر کر نے کی سازش رچی گئی، یہ ایک پرانی بات ہے اور ہر دور کے ظالم قوتوں نے اس دور کے رسولو ں اور مسلمانوں کو یہی دھمکیاں دی کہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے۔ این آر سی جیسے سیاہ قانون کے خلاف واحد حل یہی ہے کہ سب لوگ مل کر اس کابائیکاٹ کریں اور اس سلسلے میں رائے عامہ ہموارکی جائے۔اس نشست میں خصوصی طور پر سماجی کارکن جناب اشتیاق احمد صاحب پھلواری شریف بھی شامل ہوئے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں