نئی دہلی، 07 جنوری۔ نربھیا کے قصورواروں کو موت وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ نربھیا ریپ کیس کے قصورواروں کو 22 جنوری کو پھانسی ہوگی۔ ملک کی راجدھانی دہلی میں سال 2012 میں ہوئے ریپ کیس کو لے کر منگل کو پٹیالہ ہاوس کورٹ میں سماعت ہوئی۔ پٹیالہ ہاوئس کورٹ کے جج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے قصورواروں سے بات کی۔ سماعت کے دوران نربھیا کی ماں اور مجرم مکیش کی ماں کورٹ میں ہی رو پڑیں۔ قصورواروں کو صبح 7 بجے پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔پٹیالہ ہاوئس کورٹ کے جج نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے قصورواروں سے بات کی۔
بات چیت کے دوران کورٹ نے میڈیا کی انٹری پر روک لگا دی تھی، میڈیا کو بھی اندر نہیں جانے دیا گیا۔سماعت کے دوران نربھیا کی ماں اور مجرم مکیش کی ماں کورٹ میں ہی رو پڑیں تھیں۔ نربھیا معاملے میں چاروں قصورواروں اکشے، مکیش، ونے اور پون کو پہلے ہی پھانسی کی سزا دی جا چکی ہے۔ اب 22 جنوری کو نربھیا کے قصورواروں کو پھانسی دی جائے گی۔اب نربھیا کے قصورواروں کے خلاف ڈیتھ وارنٹ جاری ہو گیا ہے۔ اسے بلیک وارنٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،بلیک وارنٹ جاری کرنے والے جج کے سائن ہوتے ہیں۔
اس کے بعد یہ ڈیتھ وارنٹ جیل انتظامیہ کے پاس پہنچتا ہے، پھر جیل سپرنٹنڈنٹ وقت طے کرتا ہے اس کے بعد پھانسی کی جو عمل جیل مینوئل میں طے ہوتی ہے اس حساب سے پھانسی دی جاتی ہے۔نربھیا کے قصورواروں کے وکیل اے پی سنگھ نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ میںکیوریٹو پٹشن دائر کریں گے۔ نربھیا کیس کے قصورواروں کو 22 جنوری کو صبح 7 بجے پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔منگل کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے پٹیالہ ہاوس کورٹ نے موت وارنٹ جاری کیا۔ کورٹ کے اس فیصلے کے ساتھ ہی نربھیا کو انصاف مل گیا ہے۔
وہیں قصورواروں کے وکیل اے پی سنگھ نے کورٹ کے حکم کے بعد کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میںکیوریٹو پٹیشن دائر کریں گے۔اس معاملے میں اب نربھیا کیس سے متعلق کوئی بھی کیس دہلی کی کسی بھی عدالت میں زیر التوا نہیں ہے۔ گزشتہ ایک مہینے کے دوران تقریباً 3 عرضیاں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور پٹیالہ ہاوس کورٹ سے مسترد ہو چکی ہیں۔ سپریم کورٹ ایک مجرم کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کر چکا ہے، جبکہ دہلی ہائی کورٹ نے ایک اور مجرم کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں اس نے خود کونابالغ بتا کر معاملے کی سماعت جے جے ایکٹ کے تحت کرنے کی فریاد کی تھی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں