میرٹھ (یواین اے نیوز7جنوری2020)آئی این این میں چھپی خبر کے مطابق انتر راشٹریہ ہندو پریشد کے صدر ہندووادی لیڈر ڈاکٹر پروین توگڑیا نے سی اے اے اور این آرسی کو لے کر مودی حکومت پر حملہ لیا ہے۔ میرٹھ کے کینٹ کے علاقے میں واقع شبھم اسپتال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ آسام میں این آری نافذ کرنے کے عمل سے ۴۵لاکھ بنگلہ دیشی اب ہندوستانی بن گئے ،جبکہ 15لاکھ ہندوستانی غیرملکی بن گئے اس بات پر ۶دسمبرکوآسام میں مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ یہی عمل ملک بھر میں نافذ ہواتو ۱۴ کروڑ ہندوغیر ملکی بن جائیں گے۔
شہریت ترمیمی قانون سی اے اے کی حمایت کی لیکن پوچھا کہ کشمیری ہندوؤں کے لئے اب تک کیا کیا گیا؟ کہا کہ صرف مسلمانوں کارجسٹر بننا چاہئے ۔آبادی پر کنٹرول کا قانون فوراً نافذ ہونا چاہئے۔پروین توگڑیا نے مرکزی حکومت پر روزگارکو لے کر حملہ کیا، کہا کہ 71 فیصد بے روزگاری کی وجہ سے ہر چھوٹے معاملے پر بھی تشدد اور مظاہرہ ہورہا ہے۔مہنگی تعلیم میں رتی بھر بہتری نہیں آئی ہے۔جے این یو میں نقاب پوشوں نے گھس کر دہی علاقے سے پڑھنے گئے طلبہ کو پیٹا، کہا کہ پولیس کی ناکامی سے وہ اندر گھسے۔
پروین توگڑیا نے سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان پر حملہ کیا ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے بغیر ہندوتو نامکمل ہے۔الزام لگایا کہ بھارت کے تمام ہندووں کومسلم بنانے کے لئے بھاگوت مسلمانوں کے اعلی رہنماؤں سے مل رہے ہیں، اب ہندووں کو کیا پیغام دیں گے،وہ ڈبل گاندھی بن رہے ہیں۔
رام مندر کے سوال پر کہا کہ رام مندر میں مودی کی کوئی حصہ داری نہیں،پروین توگڑیا نے کہا کہ نریندر مودی کبھی کارسیوک نہیں رہے۔ ایودھیا گئے نہیں، کوئی تحریک نہیں چلائی۔ پھر رام مندر کی تعمیر میں ان کی حصہ داری اور پیٹھ کیوں تھپتھپائی جائے۔ رام مندر کے حق میں فیصلہ ملک بھر کے لوگوں کے جذبات اور کورٹ کی مہربانی سے ملا ہے۔ مودی اور شاہ نے کچھ نہیں کیا، پارلیمنٹ میں قانون نہیں بنایا مگر بی جے پی کے کارکن ضروراس کے کام کررہے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں