اعظم گڑھ(یواین اے نیوز 12جنوری2020) ایک ہفتہ پہلے سی اے اے اور این آر سی کو لیکر طلبہ نے احتجاج کیا تھا،جسکی وجہ سے قانون شکنی کی وجہ سے جامعہ اسلامیہ کے 24طلبہ کا اخراج ہوگیا تھا۔ بیتے دنوں کچھ لوگوں کی طرف سے یہ خبر پھیلائی گئی تھی کی اتوار تک ان سبھی بچوں کا دوبارہ داخلہ ہوجائے گا۔ جن میں خبر کو چڑھا بڑھا کر پھیلانے میں اشرف سراج اعظمی رواں اعظم گڑھ کا ہاتھ تھا۔ آپ کو بتادیں کہ اسی دن یواین اے نیوز کے نمائندے کو فون کرکے تمام پوسٹ کو ہائیڈ کرنے کی اپیل کی گئی تھی،اور بتایا تھا کی سنیچر کو بات مکمل ہوجائے گی اور اتوار تک سب بچوں کا داخلہ ہوجائے گا۔
مگر آج جب نمائندے نے اشرف سراج سے بات کرنے کی کوشش کی تو پہلے تو کال اٹھائی ہی نہیں گئی بعد میں جب اٹھائی گئی تو سوال کیا گیا کی کیا ان بچوں کا داخلہ ہوپایا تو انہوں نے کہا کہ ہم لوگ سنیچر کو نہیں جاسکے کیونکہ وہاں پروگرام تھا۔ جب انسے یہ پوچھا گیا کی کیا آپ لوگ پروگرام نہیں جاسکتے تھے،تو وہ بھڑک اٹھے اور گندی گندی گالیاں دینے لگے، جس پر نمائندے نے اعتراض کیا تو دیکھ لینے کی دھمکی بھی دی گئی۔ جب انکو بتایا گیا کی آپ کی کال ریکارڈ ہورہی تو پھر انہوں نے فون کاٹ دیا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کی آخر یہ لوگ کیوں کر ایسی افواہ پھیلائے؟ کیا جامعہ کی انتظامیہ کی طرف سے یہ سب کرنے کو کہا گیا تھا۔ یا پھر یہ سب اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں میں مسیحا ثابت کرنا چاہتے تھے؟

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں