تازہ ترین

بدھ، 22 جنوری، 2020

اس فیصلےسے تحریک‌ مزید بڑھے گی،حسین احمد ہمدم

ارریہ،(یواین اے نیوز22جنوری2020)سی اے اے کے خلاف 144 غرضیوں پر شنوائی کرتے ہوۓ سپریم‌کورٹ کی کاروائی سے مجھے حیرت نہیں ہوئی کہ سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کو جواب داخل کرنے کے لئے چار ہفتوں کی فوری مہلت دی۔لیکن سی اے اے پر فوری روک لگانے کے مطالبے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ اس کا فیصلہ پانچ رکنی بینچ کرسکتی ہے۔ جہاں تک چار ہفتے کی مہلت کی بات ہے تو اس میں شک نہیں کہ چار ہفتے ہی کیا چار مہینے بلکہ چار سال اور اس سے آگے بھی اگر مسئلہ حل نہیں ہوا تو سی اے اے کے خلاف عوامی تحریک کے رکنے کا امکان نظر نہیں آتا۔

حکومتیں عوامی‌حوصلے سے زیادہ مضبوط نہیں ہوسکتی، یہی تاریخی سچائی ہے۔تاہم زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ سی اے اے جیسے تفریق اور تعصب پر مبنی قانون پر فوری روک نہ لگنے کی وجہ سے اس دوران حکومت اس کالےقانون کےسہارے اپنے ایجنڈے کو بڑھاتی رہے گی اور اس کے نتیجے میں کئ پیچیدگی پیدا ہوں گی۔سی اے اے ،این آرسی اور این پی آر کے خلاف تحریک ایک اعصابی لڑائی بنتی جارہی ہے، انصاف اور مساوات کے حامیوں کو یہ لڑائی بڑی لمبی لڑنی پڑے گی اس کے لئے ذہنی اور فکری طور پر مکمل اعتماد واستقلال کےساتھ تیار رہنے کی ضرورت ہےاور میں سمجھتا ہوں کہ لوگ تیار بھی ہیں۔

 اس سلسلے میں امت ساہ کی ایک قدم نہ ہٹنے والی بات بھی عوام کے قدموں کو نہیں ہلاسکی اور کسی حال میں قانون‌واپس نہ لینے کا متکبرانہ بیان بھی عوام کےحوصلے کو پست نہیں کرسکا ہے۔بہرحال سپریم کورٹ کی طرف سےمرکزی حکومت کو مکمل جواب طور‌پر‌داخل‌کرنے لئے جو عارضی‌مہلت ملی ہے اس سے تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑےگا، حکومت کو اپنی عوام کے جذبات کا احترام کرنا‌ہوگی، اور ملک کو پرامن ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ورنہ‌عوامی تحریک ان کے اندازے اور تخمینے سےبہت زیادہ بڑھے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad