آج ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے سب سے توجہ طلب ایشو " شہریت ترمیمی قانون " پر شنوائی کی
اور غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طرف تو مرکزی حکومت کو چار ہفتوں کا وقت دے دیا اور دوسری طرف تب تک کے لیے ہی سہی، شہریت کے سیاہ قانون پر پابندی تو درکنار اسٹے لگانے سے بھی انکار کردیا
یقینًا عدالت عظمیٰ قابل احترام ہے، لیکن وہ جمہوری نظام میں کوئی " مقدس گائے " کی طرح نہیں ہے کہ اس کے طرزعمل پر سوال نہیں کیا جاسکتا
اور عدالت عظمیٰ کا موجودہ رویہ اُسے سپریم بنانے والی آئین سے متصادم ہے طلاقِ ثلاثہ، کشمیر سے خصوصی آرٹیکل کا خاتمہ، بابری مسجد کا انوکھا فیصلہ، یہ تمام معاملات ایسے رہےہیں کہ ان کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ، " فیصلہ " تو نظر آتاہے لیکن انصاف کے ترازو میں اسے متوازن ثابت کرنا ممکن نہیں ہے اور اب " کالے شہریتی قانون " پر سپریم کورٹ کی بنچ کا رویہ کسی بھی طرح یہ پیغام نہیں دیتا ہےکہ وہ ہندوستان پچاسوں کروڑ عوام کے تئیں منصف مزاج ہیں
سپریم کورٹ کا آج کا حکمنامہ یہ بتاتا ہے کہ: عدالتِ عظمیٰ ہندوستان بھر میں پھیلتی ہوئی آگ کو قابو میں کرنے کے ليے تیار نہیں ہے، سپریم کورٹ کا رویہ یہ بتاتا ہےکہ وہ ملک میں آئین ہند کے تحفظ قانونی بالادستی اور ہندوستانیوں کی شہریت کو باقی رکھنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے کیا سپریم کورٹ کے فاضل ججز اس قدر لاعلم ہیں کہ انہیں مرکزی حکومت کی منشاء معلوم کرنے کے لیے چار ہفتے درکار ہیں؟ کیا سپریم کورٹ کے ججوں نے حکومتی وزراء کی پارلیمنٹری گفتگو کو نہيں سنا؟ کیا سپریم کورٹ نے حکومت کا صدر جمہوریہ کے ذریعے پاس کروایا ہوا قانونی مسودہ بھی نہیں دیکھا؟
آخر کس بات کے لیے اتنا وقت درکارہے؟
سپریم کورٹ کا مطلب سپریم یعنی فیصلہ کن ہوتاہے اس ایسے غیر سپریم رویے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے
چار پانچ ہفتوں بعد دہلی کے انتخابات نمٹ جائیں گے، اگر فیصلہ اس کے بعد ہوتاہے تو مرکزی حکومت کو دہلی میں ظلم و ستم اور مظاہرین پر پولیس فورس کے کریک ڈاؤن کے لیے کوئی مانع نہیں ہوگا، اور ابھی ظلم و ستم سے کسی قدر رکے ہوئے ہیں تاکہ عوام میں ان کے خلاف منفی پیغام نا جائے
ایسی پیچیدہ اور مبہم صورتحال سے سپریم کورٹ کے انہی فاضل ججز کے بیانات کو تقویت ملتی ہے جنہوں نے بھاجپا کے پہلے ٹرم میں، پریس میں آکر یہ بیان دیا تھا کہ موجودہ گورنمنٹ عدالتی کام کاج میں مخل ہے، اور جمہوریت خطرے میں ہے
اب فیصلہ عوام کا ہوگا، بھارت کی جمہوریت کا ہوگا یہ صرف ایک خطۂ ارضی کو بچانے کی لڑائی نہیں ہے، یہ انسانیت کو وقت کے نازیوں اور ہٹلروں سے بچانے کا سوال ہے_
سپریم کورٹ کے ججز کو چاہیے کہ تاریخ کو پڑھیں اور اس سے سبق لیں، انہیں اپنے آپ سے یہ فیصلہ لینا ہوگاکہ تاریخ کے جس موڑ پر ہندوستان میں دیومالائی، نازیت کی بالادستی کا ننگا ناچ انسانیت کو چٹ کرنا چاہتا ہے وہ ایسے موقع پر کونسی صف میں اپنا نام لکھوانے جارہےہیں، جو لوگ بھی موجودہ ہندوستان میں اپنے لیے کسی بھی خیمے کا انتخاب کریں وہ یہ سمجھ لیں کہ آنے والے ہندوستان میں آج کی تاریخ کو کل کی ہماری نسلیں پڑھنے والی ہیں، آج کے ہندوستان میں اسلحوں اور کاغذی بادشاہت کی پشت پناہی میں جو بھی غیرانسانی عمل کیا جائےگا وہ کل آپکی اپنی اولاد کے شرمناک ہوگا، کل کی درسگاہوں میں آپ کا بھی فیصلہ ہوگا_
سمیع اللّٰہ خان
جنرل سیکریٹری: کاروانِ امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں