ارریہ ;معراج خالد(یواین اے نیوز19جنوری2020)ریاستی حکومت کی جانب سے جل جیون ہریالی کے ساتھ ساتھ کم عمر کی شادی، جہیز، اور نشہ مکت بہار جیسے پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے وزیر اعلی نتیش کمار نے 19 جنوری 2020 کو انسانی زنجیر کی شکل میں حمایت مانگی تھی جس کیلئے ریاست کے کئی اضلاع کا دورہ کرکے اسے کامیاب کرنے کی اپیل بھی کی تھی لیکن ملک کے موجودہ حالات نے انہیں اس میں ناکام کر دیا جہاں گذشتہ چند سالوں سے لوگ لاکھوں کی تعداد میں انسانی زنجیر میں شریک ہوکر ریاست اور سماج کو نشہ مکت کرنے کا عہد کرتے تھے وہیں این پی آر اور سی ایاے کی مخالفت اور بائیکاٹ نے اس کا بھی بائیکاٹ کر وادیا نمائندہ نے این ایچ 327 ای جوکی ہاٹ سے ارریہ تک جائزہ لیا اس 18 کیلو میٹر کی دوری پر جہاں چند سرکاری اسکول کے طلباء و طالبات کے ساتھ اساتذہ اور آنگن باری مراکز کے خادمہ اور معاون خادمہ نظر آئیں تو وہیں شہر کے کچھ نوجوان نو این پی آر نو سی اے اے نو این آر سی کی تختی ہاتھ میں لئے سڑک پر نظر آئے۔
نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے الحمد اکیڈمی تارن کے ڈائریکٹر ندیم ختر نے کہا کہ انسانی زنجیر کا بائیکاٹ دوغلی سرکار کی کھلی ناکامی ہے سماجی کارکن نیاز احمد نے کہا کہ نتیش کمار نے بہار کی عوام کو دھوکہ دینے کا کام کیا ہے جس سی اے اے این پی آر کی مخالفت میں ہماری بہن بیٹیاں شاہین باغ کے علاوہ پورے ہندوستان میں اذیتیں برداشت کر رہی ہیں طلباء و طالبات پولیس کی لاٹھیاں کھا رہے ہیں پورے ہندوستان میں جن وجوہات سے افراتفری کا ماحول ہے بہار کے پلٹو سرکار اس کی حمایت کرکے عوام کی جذبات و اعتماد کو مجروح کرنے کا کام کیا جن کا خمیازہ انہیں آئندہ حالیہ اسمبلی الیکشن میں بھگتنا پڑے گا قاری شاہد خان نے کہا کہ جب حکومت عوام کے اعتماد پر کھڑی نہیں اترتی ہے تو عوام بھی ان کے خلاف تحریک چھیڑ دیتی ہے آج نتیش سرکار اسی تحریک کی زد میں ہے نیشنل پبلک اسکول جوکی ہاٹ کے معلم معیز الہی نے انسانی زنجیر کے حوالے سے کہا کہ انسانی زنجیر کا بائیکاٹ دراصل نتیش سرکار کے ذریعہ حمایت کردہ این پی آر اور سی ایاے کا بھی بائیکاٹ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں