نئی دہلی ۔(یو این اے نیوز 9جنوری 2020)شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا سے منظور ہونے کے بعد صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی طرف سے اس بل کو قانونی ہری جھنڈی ملنے کے بعد سے ملک کی عوام اس قانون کیخلاف سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے ۔آج جمعرات کو سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے اور ملک میں بھائی چارگی و امن وامان کی فضا قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی
چاہئے عدالت عظمی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ سی اے اے سے منسلک درخواستوں کی سماعت اس وقت تک نہیں کر ے گا ، جب تک اس تعلق سے ملک بھر میں جاری تشدد رک نہیں جاتا۔چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے نے یہ تبصرہ اس وقت کیا ،جب وکیل پنیت کمار ڈھنڈانے سی اے اے کو ’آئینی‘ قرار دینے کے تعلق سے اپنی عرضی کا خصوصی طور پر ذکر کیا ۔
جسٹس بوبڈے، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت کی بینچ نے عرضی میں کئے گئے مطالبے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے منظور قانون اپنے آپ میں آئینی ہی مانا جاتا ہے، اس کو آئینی قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔البتہ کورٹ کا کام اس کی آئینی جوازیت کو پرکھنا ہے۔جسٹس بوبڈے نے کہا عدالت عظمیٰ کو قانون کی آئینی جوازیت پركھنی ہوتی ہے، نہ کہ اسے آئینی قرار دینا ہوتا ہے‘‘۔ انهوں نے کہا کہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور ملک بھر میں امن وامان قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے ۔ اس طرح کی عرضیوں سے مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتا۔مسٹر ڈھنڈا نے سي اے اے کی حمایت میں عرضی دائر کی ہے اور ان سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو ہدایات دینے کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے بدامنی پھیلانے میں کردار ادا کیا ہے ۔
عرضی گزار نے سی اے کو آئینی قرار دینے کا بھی عدالت سے مطالبہ کیا ہے۔ واضح ر ہے کہ سی اے اے کی آئینی جوازیت کو چیلنج کرنے والی 60 عرضیاں عدالت میں دائر ہوئی ہیں جن پر گزشتہ برس 18 دسمبر کو عدالت نے مرکز کو نوٹس جاری کیا تھا ۔ اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں ان عرضیوں پر سماعت ہونی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں