تازہ ترین

بدھ، 8 جنوری، 2020

مودی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج ۲۵؍کروڑ افراد کی شرکت، ۱۰ ٹریڈ یونینوں کی تحریک کو طلباء کی ۶۰؍انجمنوں سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے حمایت


نئی دہلی۔ ۷؍جنوری: مودی حکومت کے اقتصادی بحران،نجکاری اورلیبربہتری پالیسیوں کے خلاف10 مرکزی ٹریڈ ایسوسی ایشن بدھ کوملک گیرعام ہڑتال کریں گے۔سی پی ایم سے منسلک سی آئی ٹی یونے دعویٰ کیاہے کہ اس ملک گیرہڑتال میں تقریباََ25کروڑملازمین حصہ لیں گے۔ ٹریڈ یونینوں آئی این ٹی یو سی ‘ اے آئی ٹی یو سی ‘ ایچ ایم ایس ‘ سی آئی ٹی یو ‘ اے آئی یو ٹی یو سی ‘ ٹی یو سی سی ‘ ایس ای ڈبلیو اے ‘ اے آئی سی سی ٹی یو ‘ ایل پی ایف اور یو ٹی یو سی کے علاوہ دوسرے شعبہ کی تنظیموں اور آزادانہ فیڈریشنوں و اسوسی ایشنوں نے ماہ ستمبر میں ایک ڈیکلریشن کو منظوری دیتے ہوئے 8جنوری 2020 کو ملک گیر ہڑتال کرنے کا اعلان کیا تھا ۔یونین کے  مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ہڑتال کے بعد حکومت کی مخالف عوام ‘ مخالف ورکر اور قوم مخالف پالیسیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے مختلف احتجاجی پروگرامس بھی منعقد کئے جائیں گے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت لیبر بھی ورکرس کے کسی بھی مطالبہ پر کوئی تیقن دینے کے موقف میں نہیں ہے ۔ 

اس سلسلہ میں 2 جنوری کو ایک اجلاس طلب کیا گیا تھا لیکن کوئی تیقن نہیں دیا گیا ۔ حکومت کا مزدوروں کے تعلق سے رویہ ہتک آمیز ہے کیونکہ ورکرس حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ طلبا کی تقریبا 60 تنظیموں اور کچھ یونیورسٹیز کے منتخبہ عہدیداروں نے بھی اس ہڑتال میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی فیس اور تعلیم کو تجارت بنادئے جانے کے خلاف اپنی آواز بلند کرسکیں۔ ٹریڈ یونینوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تشدد اور دوسری یونیورسٹیز میں اسی طرح کے ماحول کی بھی مذمت کی اور ملک بھر میں طلبا اور اساتذہ سے اظہار یگانگت کیا ہے ۔ یونینوں اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ جولائی 2015 کے بعد سے کوئی لیبر کانفرنس منعقد نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی 12 ائرپورٹس فروخت کئے جاچکے ہیں۔ ائر انڈیا کی صد فیصد فروخت کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔ بی پی سی ایل کو فروخت کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔

 بی ایس این ایل ۔ ایم ٹی این ایل کو ضم کردیا گیا ہے اور ٹیلیکام شعبہ کے 93,600 ملازمین کی علیحدگی ہوچکی ہے ۔ یونینوں نے ریلویز کو خانگیانے کی مذمت کی اور کہا کہ دفاعی پیداوار کو کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ کسانوں اور زرعی مزدوروں کی 175 یونینوں کی جانب سے بھی اس ہڑتال کی تائید کی جا رہی ہے اور اسے گرامین بھارت بند بھی قرار دیا جا رہا ہے۔  مزدور تنظیموںکا کہنا ہے کہ ’’ بھارت  بند‘ کے دوران ملک کے ہرصنعتی شعبوں میں دھرنا  دیئے جائیں اور مظاہرہ کئے جائیں گے۔ حالانکہ طبی ضرورت، کھانے پینے کی اشیا، فائر سروس، واٹر سپلائی جیسے ضروری  خدمات کو ہڑتال سے باہر رکھا گیا ہے۔ 

اس کے علاوہ مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ کل اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔پبلک بینکوں میں بھی کام کاج نہیں ہونے کی بات مزدور تنظیموں نےکہی ہے۔ مارکیٹ میں سبزیاں اور دودھ سپلائی بھی بند رہیں گی۔ مزدور لیڈوں کا کہنا ہے کہ مرکزی مزدور اور روزگار وزیر سنتوش گنگوار کے ساتھ بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکااس لئے مزدروں کو سڑک پر اتارنا پڑرہا ہے۔گزشتہ ہفتہ تک ہوئی میٹنگوں میں کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آسکا۔ بات چیت کے دوران مزدور تنظیموں نے سرکاری کمپنیوںکے انضمام، سرمایہ کشی اور نج کاری کے مسائل اٹھائیں لیکن حکومت کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کراسکی۔انڈین بینک ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کل بھارت بند کے دوران چھ بینک یونین ہڑتال میں شامل ہوں گی۔ حالانکہ اے ٹی ایم خدمات اور شاخوں کے کام کاج کو ہڑتال سے  چھوٹ دی گئی ہے۔ 

اس کے علاوہ آن لائن ادائیگی کی نظم بھی ہڑتال سے متاثر رہےگی۔ہڑتال سے عام زندگی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ بھارت بند میں بینکنگ، صنعتوں کے علاوہ آمدورفت  اور خدمات شعبوںکے  مزدور بھی شامل ہوں گے۔ خبروں کے مطابق نجی ٹیکسی خدمات اولا، اوبر اور آٹو رکشا کے تنظیمیں بھی ہڑتال میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کو سبھی لوگوں کو روزگارمہیا کرانے کا نظم کرنا چاہئے اور سب کو راشن، صحت اور تعلیم مہیا کرانا چاہئے۔کم از کم مزدوری 21 ہزار روپے فی ماہ اعلان کرنا چاہئے۔ کسانوں کو زرعی پیداوار  کی مناسب قیمت دی جانی چاہئے اور سبھی کو کم سے کم 10 ہزار روپے فی ماہ پنشن دینا چاہئے۔اس کے علاوہ حکومت کو شہریت ترمیمی قانون، لیبر کوڈ اور پی ایس اے کی نجکاری کرنے کے منصوبوں کو واپس لینا چاہئے۔ادھر مرکزی حکومت نے اپنے ملازمین کو کہا ہے کہ اگر وہ اس ہڑتال میں شامل ہوں گے تو انہیں نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad