تازہ ترین

ہفتہ، 11 جنوری، 2020

بی جے پی کی طرف سے 23 مارچ کو اترپردیش میں امن مارچ کا انعقاد کیا جائے گا۔بی جےپی کے بڑے لیڈروں کی شرکت متوقع!

مین پوری،حافظ محمد ذاکر(یواین اے نیوز11جنوری2020)اتر پردیش حکومت کے نائب وزیر اعلی کیشیو پرساد موریہ نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے سلسلے میںکرہل چوراہے سے بدھ چارہ، کرسچن تراہا تک شہریت ترمیمی قانون کے سلسلے میں منظم امن مارچ کے بعد منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے قانون مہاجرین کو شہریت دینے کے لئے ہے، ایکٹ میں کسی شہری کی شہریت چھیننے کی کوئی شق نہیں ہے، ہندوستان کی اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کو سی اے اے سے کسی طرح کی کوئی دشواری نہیں ہو گی ، سی اے اے ملک کے شہریوں کی شہریت کو متاثر نہیں کرے گا، اس قانون کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہندو، عیسائی، سکھ، پارسی، جین اور بودھ مہاجرین جو مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے وہاں سے آئے تھے ان لوگوں کو شہریت دی جائےگی، جو 31 دسمبر 2014 سے پہلے ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی بی جے پی کی حکومت ملک کے شہریوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے، حکومت کی جانب سے چلائے جانے والی اسکیموں کے ثمرات ہر طبقے، ذات پات، مذہب کے لوگوں کو بلا تفریق دیئے جارہے ہیں۔

مرکزی و ریاستی حکومت کی بڑھ تی ہوئی مقبولیت سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں وہ لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا کرہی ہیں کہ آئین خطرے میں ہے اور عوام اس کی مخالفت کر رہے ہیں انھیں بھڑکایا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ اس قانون سے کوئی خطرہ نہیں، ملکی آئین کو خطرہ نہیں، مسلمان خطرہ میں نہیں ،ہاںلیکن سماجوادی پارٹی، کانگریس اور دیگر مخالف جماعتوں کا مستقبل خطرے میں ہے، اپوزیشن جماعتوں کا غصہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے سلسلے میں نہیں ہے، بلکہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370، 35-اے کے خاتمے کی وجہ سے ہے ،اور مسلم خواتینوں کو تین طلاق کے ظلم سے بچانے کے جو قانون بنا ،اسی قانون کی وجہ سے یہ مذکورہ پارٹیاں ناراض ہیں ،انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے حزب اختلاف کی جماعتیں فریب پھیلا رہی ہیں، مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہیں، انہوں نے گاؤں سے لے کر گلی تک اس ایکٹ کے بارے میں معلومات دینے پر زور دیاجارہا ہے۔

لوگوں کو سمجھایا کہ یہ قانون صرف شہریت دینے کے لئے ہے نہ کہ شہریت لینے کے لئے،انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہر ایک کو اپنی آواز اٹھانے کا مکمل حق ہے، مگر دائرہ میں رہکر،انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے تحت چلائے جانے والے بیداری مہم پروگراموں نے لوگوں میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو اب دور کر دیا ہے،ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ 01 جنوری سے 5 جنوری کے درمیان چلائی جانے والی اس مہم کے تحت 01 لاکھ دیہات کے تقریبا 50 لاکھ خاندانوں کو اس مہم کے بارے میں بتایا گیا، 15 جنوری سے 23 جنوری کے درمیان پوری ریاست میں امن مارچ کا انعقاد کیا جائے گا، وزیر داخلہ، وزیر دفاع، ملک کے وزیر ٹرانسپورٹ جیسے بی جے پی رہنما شرکت کریں گے، انہوں نے کہا کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر حریف جماعتیں پاکستان کی بولی بول رہی ہیں، ملک میں 56 انچ کی حکومت ہے، مخالفین کے عزائم پورے نہیں ہوں گے، ملک میں شہریت ترمیمی قانون نافذ کیا گیا ہے، حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی، بلکہ مہاجرین کو شہریت دینے کا کام کرے گا، کسی بھی شہری کی شہریت نہیں لی جائے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad