تازہ ترین

منگل، 14 جنوری، 2020

پارلیمنٹ حملہ: افضل گرو نےجموں کشمیر کے پولیس آفیسر کا پیچھا نہیں چھوڑا.

انگریزی مضمون: مزمل جلیل (The Indian Express) 
ترجمانی: اسامہ طیب
جموں کشمیر پولیس نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیوندر سنگھ کو گرفتار کرلیا ہے جو Counter-Insurgency (انسداد عسکریت و بغاوت) کے ایک سرکاری اعزاز یافتہ آفیسر ہے اور وہ آج کل جموں کشمیر میں اینٹی ہائی جیکنگ یونٹ کے ساتھ تعینات تھا. اس کی اس وقت گرفتاری کے بعد 2001 میں پارلمنٹ حملہ میں اس کے مبینہ کردار پر اور جموں کشمیر کے دیگر اہم کیسز پر بہت سارے سوالات دوبارہ کھڑے ہوگئے ہیں. افضل گرو پارلیمنٹ حملہ میں ملوث ہونے کے الزام میں 2004 میں تہاڑ جیل میں بند تھے، تہاڑ جیل سے اپنے وکیل سشیل کمار کو بھیجے گئے اپنے ایک خط میں افضل گرو نے یہ بات لکھی تھی کہ دیوندر سنگھ نے مجھے محمد نامی شخص کو، جس نے پارلمنٹ حملہ انجام دیا تھا، دلی لے جانے کو کہا تھا. اور اسے فلیٹ کرایہ پر دلانے اور گاڑی خرید کر دینے کی ہدایت کی تھی. دیوندر سنگھ اس وقت جموں کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے ساتھ تعینات تھا.

افضل گرو نے ایک دوسرے پولیس آفیسر شانتے سنگھ کا نام بھی لیا تھا. خبروں کے مطابق جس نے دیوندر سنگھ کے ساتھ مل کر ہمہما ایس ٹی ایف کیمپ میں افضل گرو کو ٹارچر بھی کیا تھا. اس کے علاوہ افضل گرو نے الطاف حسین کا ذکر بھی کیا تھا. الطاف حسین ایس ایس پی بڈگام کا برادر نسبتی تھا، جس نے دیوندر سنگھ کے ساتھ اس کی رہائی کے معاملات طے کئے تھے. اور بعد میں افضل گرو کو ڈی ایس پی کے پاس لے کر گیا تھا. افضل گرو کو پارلمنٹ حملہ میں مجرم قرار دیا گیا اور 9/فروری/2013ء کو اسے پھانسی دے دی گئی. 

پارلمینٹ حملہ میں دیوندر سنگھ کے مبینہ رول پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی تھی، جبکہ افضل گرو نے اپنے خط میں اس کا ذکر کیا تھا. اس سلسلہ میں آئی جی پی کشمیر وجے کمار سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے ریکارڈ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے. ہم اس سلسلہ میں دیوندر سنگھ سے پوچھ تاچھ کریں گے. 
جموں کشمیر پولیس کے ایک اور سینیر آفیسر نے کہا کہ بالآخر دیوندر سنگھ کے کرتوتوں نے اسے مصیبت میں ڈال دیا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ اس بار اسے کوئی بچا پائے گا. ایک آفیسر نے کہا ہے کہ بہت سارے سوالات ہیں جو پوچھے جانے ہیں. انہیں جب گرفتار کیا گیا تو اس وقت وہ لوگ وادی سے نکل رہے تھے. وہ دو مطلوب افراد کو کہاں لے جارہا تھا؟ ان لوگوں کا کیا پلان تھا؟ آفیسر نے یہ بات بھی کہی کہ تقریبا وہ تمام آپریشن مشکوک ہوچکے ہیں جن میں دیوندر سنگھ یا اس کے ساتھی شامل رہے ہیں. دیوندر سنگھ پلوامہ میں بھی ڈی ایس پی رہ چکا ہے. آفیسر کا کہنا ہے کہ وہ جب سوالات کے جوابات دینا شروع کرے گا تو مزید گہرے رازوں سے پردہ اٹھائے گا. 

باوجودیکہ افضل گرو کے کیس میں دیوندر سنگھ کے مشکوک کردار کی تفتیش نہیں ہوسکی تھی، لیکن دیوندر سنگھ ایک فرضی انکاؤنٹر کے کیس میں 2003 میں جیل کی ہوا کھا چکا ہے. دیوندر سنگھ نے ایک شہری کو حراست میں لے کر تشدد کرکے مار ڈالا تھا اور پھر خود کو قتل کے الزام سے بچانے کے لئے اس نے لاش پر گولی چلائی اور لاش کے پاس چند ہتھیار لاکر رکھ دیے، تاکہ تشدد کے نتیجہ میں مر جانے والے شخص کو وہ انکاؤنٹر میں مارا جانے والا ایک دہشت گرد باور کراسکے. لیکن وہ اس منصوبہ میں کامیاب نہیں ہوسکا. اسٹیٹ ھیومن رائٹ کمیشن کی ہدایت پر جب جموں کشمیر کرائم برانچ نے اس کی تفتیش کی تو اسے حراستی قتل کا مجرم پایا.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad