لکھنؤ:(یو این اے نیوز 27 جنوری 2020)اترپردیش کے ایودھیا میں یوم جمہوریہ کے موقع پر ، ایک معمولی سائیکل مستری کو انکی عظیم قربانیوں پر حکومت کی طرف سے ایوارڈ سے نوازا گیا ، محمد شریف عرف شریف چاچا کو لاوارث لاشوں کا مسیحا کہا جاتا ہے۔محمد شریف عرف شریف چاچا کو اب ایک نئی پہچان ملی ہے۔ اب وہ پدم شری شریف چاچا کے نام سے مشہور ہوں گے۔ شریف چاچا پیشہ سے ایک سائیکل بنانے کے کاری گر ہیں۔ لیکن ان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ لاوارث لاشوں کی صحیح طریقے سے آخری رسومات کا ادا کرانا ہے ایودھیا کے ڈی ایم انوج کمار جھا نے اتوار کے روز یوم جمہوریہ کے موقع پر ترنگا اوڑھا کر انھیں پدم شری ایوارڈ سے نوازا ۔
شریف چاچا ، جو ایودھیا (فیض آباد) کے کھڑکی علی بیگ علاقے میں رہتے ہیں ، علاقے میں رہنے والے چاچا لاوارث لاشوں کے وارث ہیں۔ ایسی لاشوں کا جن کا کوئی وارث نہیں ہوتا چاچا شریف مرنے والے کے مذہب کے مطابق اس کو مٹی یا آگ کے حوالے کردیتے ہیں چاچا شریف کے جاننے والوں کے کی مانیں تو گزشتہ 23 سالوں میں انھوں نے ہزاروں لاشوں کو اپنی نگرانی میں اسکی آخری منزل تک پہنچا یا ہے۔ایسا سب کچھ کرنے کے پیچھے ایک بڑا حادثہ ہے دراصل ، شریف چچا کا بیٹا محمد رئیس تقریبا 23 سال قبل کسی کام کے لئے سلطان پور گیا تھا۔ جہاں اسے کسی نے قتل کیا اور لاش پھینک دی۔ لاوارث لاش ہونے کی وجہ سے اسکا پتہ نہیں چلا اور شریف چاچا اپنے بیٹے کا جنازہ بھی نہیں کرپائے۔
یہی وہ حادثہ ہے جہاں سے شریف چاچا نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ لاوارث لاشوں کو اسکا انسانی حق ضرور دیں گے۔وہ کہتے ہیں کہ 'ہر انسان کا خون ایک جیسا ہوتا ہے ، میں انسانوں میں خون کے اس رشتے پر یقین رکھتا ہوں۔ اسی لئے جب تک میں زندہ ہوں میں کسی بھی انسانی جسم کو کتوں کے لئے یاکسی اسپتال میں سڑنے نہیں دونگا۔جیسے ہی کسی لاوارث لاش کی اطلاع موصول ہوتی شریف چاچا پوسٹ مارٹم گھر پہنچ جاتے ہیں اور پوسٹ مارٹم ہونے تک اسکا کوئی وارث نہیں آتا ہے تو وہ میت کے مذہب کے مطابق آخری رسومات ادا کردیتے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں