تازہ ترین

منگل، 28 جنوری، 2020

جب ولولۂ پرواز نہیں الزام نہ لے آزادی کا

از: حسن مدنی ندوی (جامعہ ملیہ اسلامیہ)

میری آہ منتظر ہے کسی اور صبح نو کی 
یہ سحر تجھے مبارک جو ہے ظلمتوں کی ماری

جو تم نہ دوگے، ہم لے کے رہینگے آزادی کی یہ صدا اب تعلیمی اداروں اور طلباء سے نکل کر ایک نیا رخ لے چکی تھی، اب جامعہ وعلیگڑھ و جے این یو کے طلباء کے ساتھ ساتھ شاہین باغ محاذ پر کھڑا ہوچکا تھا، جامعہ سانحہ کے دو دن بعد سے شاہین باغ کی ماں بہنیں سایۂ احتجاج میں ضوفگن تھیں اور لگاتار یہ ۴۰ روز سے یہاں ظلمی کے ظلم کے خلاف  آواز گو تھیں۔

ظلمی جب جب ظلم کریگا ستہ کے گلیاروں سے 
چپہ چپہ گونج اٹھیگا انقلاب کے نعروں سے

رفتہ رفتہ یہ چنگاری ملک کے دیگر حصوں میں بھی شعلے بھڑکا رہی تھی، دھلی میں شاہین باغ جیسے کئے مقامات بدستور اپنا احتجاج درج کرا رہے تھے، مصطفی آباد، جامع مسجد، خان مارکیٹ، ترکمان گیٹ اور ملکی سطح پر شاہین باغ اورنگ باد، گھنٹہ گھر لکھنؤ، اقبال گراؤنڈ بھوپال، کربلا میدان اعظم گڑھ و دیگر مختلف جگہوں پر ۲۴/۷ پر CAA-NRC-NPR جیسے کالے قوانین کے خلاف جمہوری ملک کی جمہوری عوام محاذ پر ڈٹی ہوئی تھی، طاقت و شرارت کے بل پر متعدد بار انہیں بریختہ کرنے اور ہٹانے کی کوششیں کی گئی کہیں پولیس کمبل چرا کے بھاگ رہی ہوتی تو کہیں اشیائے خورد و نوشت کی تنگی کری جارہی تھی مگر بے سود، اہم بات یہ تھی کہ اولیت ان احتجاجات میں صنف نازک کی رہی، جو کہ علم قیادت بلند کئے ہوئے آگے آگے تھیں۔

پاؤں زخمی سہی ڈگمگاتے چلو
راہ کے سنگ و آہن کے ٹکراؤ سے
اپنی زنجیر کو جگمگاتے چلو 
نوکش نیک وبد کتنے کوتاہ قد
سرپہ بادل لیے ہیں تہیہ کیے 
بارش زہرکا ایک نئے قہرکا
میرے دیدہ ورو! میرے دانشورو!
اپنی تحریک سے اپنی تقدیر کو نقش کرتے چلو
تھام لو ایک دم یہ عصائے قلم 
ایک فرعون کیا لاکھ فرعون ہو 
ڈو ب ھی جائیں گے ڈو ب ھی جائیں گے

۲۰۱۱ مصر: جب عبد الناصر کے جانشین حسنی مبارک نے اپنے دور اقتدار میں ظلم و ستم کی انتہاء کردی تھی، اور تاناشاہی کے ذریعہ ایک عرصہ تک عوام کو یرغمال بنایا گیا تھا، تو اخوان کے سپوتوں کے ساتھ وہ خواتین بھی شامل تھیں جو گود میں بچے لئے ہوئے ظالم و جابر حکمراں کے خلاف سڑکوں پر اتری تھیں، جن میں پردہ نشین بھی تھیں، جینس پہنی جدت پسند لڑکیاں بھی تھیں، جن کے بارے میں حسن البنا شہید نے کہا تھا کہ مجھے امید ہے کہ جینس پہنی ان لڑکیوں کا یہ انقلابی جوش دینی حمیت کو بچانے میں خانقاہی پیروں سے کئی درجہ بہتر ثابت ہوگا، اور پھر تاریخ گواہی دیتی ہے کہ رابعہ عدویہ میدان واقعہ کے بعد جب ہزاروں جانثاروں نے دین وطن کی خاطر جام شہادت نوش کیا تھا تب جاکر ظلم و جبر کے ایک دور کا سد باب ہوا تھا۔

کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے
ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے

ملی قیادت سوالیہ نشان کے بعد میدان میں آنے کے لئے کوشاں تھیں، اپنا وجود درج کرانے کے لئے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ کئے رہبران ملت جاری احتجاج میں لائن میں لگے، ان سے بارہاں مطالبہ کیا گیا کہ بوقت ضرورت تو آپ اوجھل رہے! مگر اب آپ علاقائی طور پر اور ملی اداروں میں بیداری لائیں چہ جائیکہ منظمہ احتجاجات میں زینت بنیں، اگرچہ طلبہ میں قومی حمیت کا انقلابی جذبہ اجاگر ہوا اور وقتا فوقتا وہ پیش رفت کرتے رہے مگر وہیں ملی اداروں اور مدارس میں کئی واقعات ایسے پیش آئے جو ملت کے کے لئے ایسے نازک وقت میں شرمندگی کا باعث بنے، جیسے اعظم گڑھ کے جامعہ اسلامیہ کی انتظامیہ کا احتجاج میں شامل طلبہ کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک اور ندوہ و دیوبند کی انتظامیہ کی بے جا بزدلی اپنے آپ میں سوالیہ نشان ہے! 

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ!

یہ وہی دانشوران ہیں جنہوں آزادی کے ستر سالوں میں محض یہ درس دیا کہ ہمارے آباء و اجداد نے یہ یہ کارنامے انجام دئے، اور آزادی کی لڑائی میں علماء کا اتنا کردار رہا! 
ماضی کے سہارے قوم کے رہبروں نے تاریخ کی ورق گردانی تو ضرور کرائی مگر ترقی کی حقیقی راہ ان سے چھوٹ گئی، وہ یہ بتانا ہی بھول گئے کہ آپ کو مستقبل میں کیا کرنا ہے! 
آج تک زبان حال گویا رہیں کہ قوم کا ماضی تو تابناک رہا مگر مستقبل کر بناک ہوکر رہیگا! 
جہاں دیگر اقوام عالم نے اپنے وقت کی سب سے بڑی نامرادی کے بعد سنبھلنا شروع کیا وہیں رفتہ رفتہ ہماری قوم تنزلی کا شکار ہوتی رہی، ماضی قریب میں ہیروشیما-ناگاساکی سانحہ کے بعد جاپان سنبھلا، تو شرق اوسط فراوانیوں کے باوجود انحطاط کی راہ پر گامزن ہوا! 
حقیقت روایات میں کھو گئی
یہ امت خرافات میں کھو گئی 
۱۷۸۹ء میں فرانس کی خستہ حالت و ناکارہ حکومت کی وجہ سے وہاں انقلابی صدا بلند ہوئی، اگر چہ اپنے وقت کا سب سے متمدن اور ترقی یافتہ ملک تھا جہاں آزادی رائے سے لیکر حقوق عامہ تک ہرموضوع پر فرانسیسی مفکرین اس دور میں لکھتے تھے جب کہ دوسری جنگ عظیم لڑی جارہی تھی، اور دنیا کا ایک بڑا حصہ غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھا، جنگ کے باعث جس دیوالیہ پن کا شکار فرانس ہوا اور اقتصادی حالات سے دوچار ہوا تو پیرس کے نااہل حکمرانوں کو برطرف کرنے کی آواز اٹھی، نتیجتا کئی ہزار افراد مارے گئے اور بالآخر نیپولین بونا پارٹ کی قیادت میں انقلاب کے بعد تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوا،
اسی طرح ۱۹۰۵ء میں نکولس دوم کی ناکامی کے بعد باضابطہ روسی انقلاب نے ایک رخ لیا جو دنیا کا سب سے عظیم سوشلسٹ انقلاب سے یاد کیا جاتا ہے، حقوق کی اس لڑائی میں پہلی مرتبہ محنت کشوں اور مظلوموں کو حکومت ملی اور بالشویکوں کی انقلابی تحریک نے مزدوروں اور بے کسوں کو ایک نئی سمت دکھائی، لینن کی قیادت میں اور لاکھوں جانثاروں کی شہادت میں سویت یونین روس نے تاریخ رقم کری جس کا نقشہ فیض نے کچھ یوں کھینچا ہے کہ: 
سینۂِ وقت سے سارے خونیں کفن
آج کے دن سلامت اٹھائے گئے
آج پائے غلاماں میں زنجیرِ پا
ایسے چھنکی کہ بانگِ درا بن گئی
دستِ مظلوم ہتھکڑی کی کڑی
ایسے چمکی کہ تیغِ فضا بن گئی
موجودہ انقلابی فضا کو دیکھتے ہوئے یہ لازم ہے کہ ماضی کی چند مثالیں پیش کی جائیں جن سے سبق حاصل ہو کہ اقوام عالم نے حقوق اور تحفظ انسانیت کے لئے کس قدر قربانیاں دیں اور بالآخر وہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہے، اسی طرح ۱۹۴۷ء کی آزادی جو دراصل خارجی عناصر سے آزادی تھی، یہ آزادی انگریزوں سے تھی جو کہ بیرونی تھے، اس آزادی میں جہاں ایک بڑا کردار ہمارا رہا وہیں اہم کردار انکے خارجی ہونے کا رہا، مگر اب جو آزادی کی لڑائی ہے وہ داخلی عناصر سے ہے، جو سو سال سے زائد عرصہ سے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے میں کوشاں ہیں، جس کے لئے انہوں نے فورس میں اپنے افراد داخل کئے، عدلیہ میں اپنے کارکنان بٹھائے، حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی، اور نہرو گاندھی و امبیڈکر کے آزاد بھارت کو توڑ کر سمست ہندو راشٹر کی ستھاپنا کے خواب کو عملی رخ دیا، اندرونی زہر نے اپنی جگہ بنائی اور نفرت کی فضا بنانے میں ایک حد تک وہ کامیاب رہا، نتیجتا دو سمتیں واضح طور سے ہمارے سامنے آئی ہیں، اور یہاں جاکر سیکولر انڈیا اور کمیونل انڈیا میں بٹوارہ ہوا، 
کمیونلسٹ اور فاسشٹ طاقتوں کے مضبوط ہونے کی دیگر وجوہات میں اہم وجہ یہ بھی تھی کہ دایاں محاذ اور سیکولرزم کی علمبردار جہتیں کمزور پڑتی رہیں اور ۲۰۱۴ کے بعد عملی طور سے ہر موڑ پر ناکام ثابت ہوئیں، کمزور قیادت، سطحی سیاست، وقتی محنت، سستی شہرت، بے بنیاد شخصیت پرستی، اختلافی نعرے، جھوٹے وعدوں نے انہیں کھوکھلا کر دیا، اور خمیازہ آزاد ہند کے بے قصور نوجوانوں اور اور نوزائدہ بچوں کی مائوں اور بہنوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

برسوں سے ہو رہا ہے برہم سماں ہمارا  
دنیا سے مٹ رہا ہے نام و نشاں ہمارا 
کچھ کم نہیں اجل سے خواب گراں ہمارا 
اک لاش بے کفن ہے ہندوستان ہمارا 

آزادی کے نعروں سے جن کو بیر ہے یہ وہیں ساورکر کی اولادیں ہیں جنہوں نے انگریزوں کو معافی نامے لکھے، جنہوں نے ٹو نیشن تھیوری کو اپنایا، جنہوں نے زات اور مذہب کی بنیاد پر ہمیشہ سے بٹوارہ کرنا چاہا، جو ۱۸۵۷ء سے ہی اغیار کی مخبری کا کام کرتے آئے، جو لفظ آزادی سے گھبراتے آئے کیونکہ وہ لمبے عرصہ تک غلام رہے اور جہاں ان کا بس چلا وہاں غرباء کو غلام بنایا، ہندوستان کے آزاد ہوتے ہوتے یہ روپوش ہوگئے تھے، انہوں نے اپنے وجود کو رفتہ رفتہ تقویت بخشی کہ اشفاق اللہ خان اور بھگت سنگھ کی آزادی کو تاریخ کے صفحات سے مٹایا جاسکے، گاندھی واد کو ناپید کیا جاسکے، امبیڈکر کا قانون بدلا جاسکے، آزاد ہند کو توڑنے کی ہر ممکنہ کوششیں انہوں نے کی، سانحۂ گودھرا سے لیکر مکہ مسجد بلاسٹ تک سینکڑوں مثالیں ہیں، جہاں انہیں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث پایا گیا، یہ قانون کو سرے سے تسلیم نہیں کرتے، یہ فوج کو نا اہل قرار دیتے ہیں، گاندھی پر گوڈسے کو فوقیت دیتے بلکہ اسے اپنا آقا مانتے ہیں، یہ مٹھی بھر ضرور ہیں مگر انہوں نے غریبوں کو لالچ دیکر اپنی بھیڑ میں شامل کر رکھا ہے، امیروں کے مفاد کو آگے رکھ کے انہیں ہر کالے سفید کا مالک بنا دیا ہے، لیکن! لیکن یہ بھول رہے ہیں کہ آزاد ہندوستان ان کی سطحیت سے بہت بلند ہے، کشمیر سے لیکر کیرلا تک، نورتھ ایسٹ سے لیکر پنجاب تک، چہار سو وہ قوم آباد ہے جو بیدار ہے، جن کے ضمیر جاگے ہوئے ہیں، آزاد ہند کو بنانے میں جن کا کردار رہا ہے، غیور ہیں وہ سرشار ہیں وہ آباد ہیں وہ، غلامی کے طوق سے آزاد ہیں وہ، جنہوں نے ظلم کے خلاف ایک چین بنائی ہے، جنہوں نے نا انصافی کے خلاف دار الحکومت میں آواز بلند کی، جالیاں والے باغ کے بعد آزاد بھارت کو پھر سے آزاد کرانے کے لئے شاہین باغ دیا، آج ملک کے ہر کونے میں شاہینوں کے باغ ہیں، ۲۴/۷ جو علم احتجاج بلند کر رہے ہیں، جن میں شامل ہندو بھی ہیں مسلم بھی، سکھ بھی ہیں عیسائی بھی، ہر زات ہر مذہب سے ہر فرقہ ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد اس چمن کی حفاظت کرنے میں لگے ہیں، جو خاک وطن سے تاحیات باوضو رہتے ہیں اور مرنے کے بعد اسی کی مٹی میں دفن ہوتے ہیں۔

گوتمؔ نے آبرو دی اس معبد کہن کو 
سرمدؔ نے اس زمیں پر صدقے کیا وطن کو 
اکبرؔ نے جام الفت بخشا اس انجمن کو 
سینچا لہو سے اپنے راناؔ نے اس چمن کو 
گرد و غبار یاں کا خلعت ہے اپنے تن کو 
مر کر بھی چاہتے ہیں خاک وطن کفن کو 

عنوان سے مضمون کا غرض عیاں ہوتا ہے، اس عنوان کا ایک پس منظر ہے، مولانا عامر عثمانی صاحب کی یہ مشہور نظم کا ایک مصرعہ ہے جو ۱۹۴۷ء سے قبل دیوبند کے ہر جلسے میں پڑھی جاتی تھی، اس سے قبل یا رنج و بلا کا خوف نہ کر یا نام نہ لے آزادی کا کہ عنوان سے ایک مضمون قلمبند کیا تھا جس میں ابتدائی صورتحال اور اسکا پس منظر لکھا تھا، اس وقت موجودہ تحریک آزادی کو طلباء اپنے کندھوں پر لئے ہوئے تھے، مگر اب چونکہ تحریک میں عوام الناس کا بھی اہم کردار ہے تو اس کی دوسری قسط شعر کے دوسرے مصرعے کے ساتھ لکھی ہے، تحریک دگرگوں جاری ہے، سپریم کورٹ نے اگلی سماعت ۴ ہفتوں بعد کی رکھی ہے، عدلیہ سے انصاف کی آس تو ہے مگر جو اعتماد کا ایک درجہ ہونا چاہئے تھا عوام میں اب بظاہر وہ نظر نہیں آتا، تڑیپاروں کا کہنا ہے کہ ایک انچ نہیں ڈگمگانا، اس سے بوکھلاہٹ واضح ہورہی ہے، عجیب مزاق تو یہ کہ کالے قانون کی حمایت میں جو لوگ آرہے ہیں انہیں مطلب ہی نہیں پتا اس قانون کا، مگر ہاں وہ کھلے لفظوں میں یہ ضرور کہہ رہے ہیں کہ ہم ہندو راشٹر دیکھنا چاہتے ہیں، باشعور نوجوانوں کی قیادت تحریک کو مضبوط کر کے ان جاہلوں سے برسر پیکار ہے، روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہے کہ آزاد ہند کے آئین کی تمہید کے خلاف ہے یہ قانون، تمہید میں سیکولر اور برابری کا لفظ واضح ہے، مذہب کے بنیاد پر اس قسم کا قانون آزاد ہند پر ایک کالا داغ بن رہا ہے، جس کی مخالفت محض ہندوستان میں نہیں بلکہ امریکہ سے لیکر یورپ تک ہر جگہ ہورہی ہے، یہ محض اتفاق نہیں کہ ان سرد راتوں میں اور دن کے کہرے میں مرد و زن اپنے تمام تر مصروفیات کو درکنار رکھ قوم و ملت کی خاطر محاذ پر کھڑے ہیں اور ان کی نظریں حق و انصاف کی متلاشی ہیں، وہ علانیہ اقرار کر چکے ہیں کہ اگر عدلیہ اس قانون کو آئینی مانتی ہے تو تحریک عدم تعاون شروع کی جائیگی، ۱۹۰۶ء میں گاندھی نے پہلی بار ستیہ گرہ کیا تھا، اور یہ ستیہ گرہ افریقن سرکار کے خلاف تھا جنہوں نے ہندوستانیوں پر یہی شہریت قانون لاگو کیا تھا، جس کے جواب میں شہریوں نے کاغذات جلا دئے تھے، ہو بہو اسی طرح آج عوام نے پختہ عہد کرلیا ہے کہ ہم کاغذ نہیں دیکھائینگے، تم زہر کی چائے ابالو گے ہم گٹ گٹ پی جائینگے، ہم کاغذ نہیں دیکھائینگے! 

شیدائے بوستاں کو سرو و سمن مبارک 
رنگیں طبیعتوں کو رنگ سخن مبارک 
بلبل کو گل مبارک گل کو چمن مبارک 
ہم بے کسوں کو اپنا پیارا وطن مبارک

آزادی کی اس لڑائی میں جو ہمیشہ قیادت کے دعویدار رہے وہ نا پائدار رہے، ان کا وجود سمندر میں قطروں کی شکل میں ملا، مگر وہیں ابھرتی ہوئی ایک نئی قیادت دیکھنے کو ملی، کنہیا کمار سے لیکر چندر شیکھر آزاد تک، لدیدا سے لیکر آشو گھوش تک، کئی نام ہیں جن سے قوم کو بہت امیدیں ہیں مگر وہیں بہت سے منتظر فردا ہیں کہ آزادی کا الزام ان کے سر لاد دیا جائے، دستوری تقاریر اور مروجہ مضامین سے ہٹ کر سچائی بیان کرنے والوں اور حقائق لکھنے والوں کو فوقیت ملی، جو کہ خوش آئین قدم ہے، الزامات کے اس بہاؤ سے باہر نکل کر ہمیں ان مخلصوں کی کاوشوں کو سراہنا ہوگا جو قوم کے لئے ایک آواز میں کھڑے ہیں اور ان سے کنارہ کش ہونا ہوگا جن کی آواز میں آج تک قوم کھڑی تھی۔
مانا کہ بساط عالم پر مجبور ہے تو لاچار ہے تو
باطل کے عساکر کے آگے ٹوٹی ہوئی اک تلوار ہے تو
آباد ہیں وہ برباد ہے تو زردار ہیں وہ نادار ہے تو
وہ روئے زمیں کے مالک ہیں اور دوش زمیں پر بار ہے تو
لیکن یہ جہاں سب تیرا ہے، تاریخ سلف دہراتا چل
ایمان و عمل کے بربط پر، اسلام کا نغمہ گاتا چل

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad