مولانا غیاث احمد رشادی روزانہ بچوں اور بالغ احباب کو عربی زبان سکھا رہے ہیں
حیدرآباد(یو این اے نیوز 16جنوری 2020 ) مولانا شہاب الدین قاسمی آرگنائزر منبر و محراب فاؤنڈیشن انڈیا کی اطلاع کے مطابق منبر و محراب فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مسجد الفلاح واحد نگر، قدیم ملک پیٹ حیدرآبادمیں مولانا غیاث احمد رشادی روزانہ فجر کی اذان کے ساتھ ہی سات سال سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کو عربی زبان سکھارہے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ وہ مستقبل میں قرآنِ مجید کو سمجھ سکیں۔ واضح ہوکہ مسجد الفلاح میں دوسو معصوم بچوں نے چالیس دن تک نماز فجر ادا کی تھی، جس پر انہیں بطور انعام سائیکلیں دی گئی تھیں۔ اس کے بعد 13 جنوری بروز پیر سے ان معصوم بچوں کیلئے ایک ترغیبی نظام رکھا گیا ہے۔ روزانہ تقریباً 80 بچے اذانِ فجر سے نماز فجر تک قرآنِ مجید کے الفاظ کا ترجمہ یاد کررہے ہیں۔ نیز ہر ہر لفظ کو قرآنِ مجید سے ڈھونڈ کر مثالیں لکھ کر لارہے ہیں۔
مولانا غیاث احمد رشادی روزانہ فجر کی اذان سے نماز کے آغاز تک اپنے تجربات کی روشنی میں انہیں قرآنِ مجید کی زبان سکھارہے ہیں، جس کے لئے مولانا نے اپنی محنت سے مختصر سا نصاب بھی تیار کیا ہے۔ جو معصوم بچے اپنی لیاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں انہیں انعامات بھی دئیے جارہے ہیں۔ 18 /جنوری تا 20 /مارچ جو بچے فجر کی اذان سے پہلے مسجد الفلاح میں پابندی کے ساتھ حاضر رہیں گے انہیں خصوصی انعام بھی دیاجائے گا۔ اس کے علاوہ بالغ احباب کے لئے نمازِ فجر کے ساتھ ہی عربی زبان سیکھنے کیلئے تیس تا چالیس منٹ روزانہ کلاس لی جارہی ہے، جس میں تیس سے زائد بالغ احباب شرکت کررہے ہیں۔ ان معصوم بچوں کے لئے ہر اتوار صبح 11 بجے تا 12 بجے دینی ملاقات کے عنوان سے ایک مجلس منعقد ہورہی ہے اور ترغیبی انعامات بھی دئیے جارہے ہیں اور ہر اتوار 12 بجے تا 2 بجے بالغ احباب کے لئے دینی ملاقات کے عنوان سے مجلس کا انعقاد ہورہا ہے۔
ہر چہارشنبہ 11 بجے تا 1 بجے خواتین کیلئے تفہیم شریعت کورس مسجد الفلاح سے متصل دفتر صفا بیت المال کے سیکنڈ فلور پر رکھا گیا ہے، جس میں مفتی عبدالمہیمن اظہرالقاسمی خواتین کو دینی تعلیم دے رہے ہیں۔ مولانا غیاث احمد رشادی نے مساجد کی انتظامی کمیٹیوںسے اپیل کی ہے کہ وہ اس نظام کو اپنی مساجد میں بھی جاری کریں۔ اگر محلہ کے سارے ہی افراد اپنی اپنی مساجد سے مربوط رہیں گے اور دین اسلام سے جڑے رہیں گے تو ملک کے موجودہ مصائب دور ہوں گے اور بہت جلد اس ملک میں اسلام کی سربلندی کا ایک انقلاب آئے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں