تازہ ترین

جمعرات، 16 جنوری، 2020

افواہوں کے بجائے طالبات قانون پڑھیں اور جانیں، عالم شخص حالات سے باخبر ہوتاہے الماس فاؤنڈیشن اسکول بیدرمیں مولانا مفتی غلام یزدانی اشاعتی اور محمدیوسف رحیم بیدری کاخطاب

بیدر۔محمدیوسف رحیم بیدری(یو این اے نیوز 16جنوری 2020 )سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ (شہریت ترمیمی قانون) جب بل کی شکل میں تھاتب سے ملک بھر میں اس بل کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ بعدازاں ماہ ڈسمبرکی 12تاریخ کو جب ایکٹ بناتب بھی مظاہرے ہوئے اور مظاہروں کا یہ سلسلہ ہنوزجاری ہے۔ ماہر ین قانون کے مطابق یہ مظاہرے خالی خولی مظاہرے نہیں ہیں بلکہ یہ مظاہرے بھارت کے آئین کو بچانے کے لئے کئے جارہے انتہائی اہم ترین مظاہرے ہیں، بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے کیونکہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون بناکر ملک کے آئین پر راست حملہ کیاہے۔تاہم بھارت کا مسلمان یہ سمجھتاہے کہ شہریت ترمیمی قانون سے مسلمانوں پر حملہ ہواہے۔ اس کی شہریت پر قدغن لگے گا۔ 

سچائی وہی ہے جو ماہرین قانون بیان کررہے ہیںکہ CAAنے بھارت کے آئین کاحلیہ بگاڑ دیاہے۔ اگر اس قانون کو اسی طرح رہنے دیاگیاتو کہانہیں جاسکتاکہ 2019کی اس ترمیم کے بعدشہریت قانون کو لے کر کہانہیں جاسکتا کہ اور کتنی ترامیم کہاں کہاں واقع ہوں گی۔یہ باتیں ممتاز سماجی کارکن اور شاعروادیب محمدیوسف رحیم بیدری نے کہیں۔ وہ آج الالماس فاؤنڈیشن اسکول کے تحت چلنے والے جامعتہ الحسنات للبنات موقوعہ نئی کمان بیدر میں عا لمیت میں زیرتعلیم طالبات سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے گزٹ آف انڈیا میں انگریزی میں شائع CAقانون کو پڑھ کرسنایااور بتایاکہ شہریت ترمیمی قانون2019 یہ کہتاہے کہ ہروہ شخص جو ہندو، سکھ، بودھسٹ، جین، پارسی اور کرسچین طبقہ سے تعلق رکھتاہے اور جو افغانستان، بنگلہ دیش یاپاکستان کا رہنے والا ہو، اور جو 31ڈسمبر 2014سے قبل ہندوستان میں رہتاہواور جو غیرملکیوں کے قانون 1946کے تحت یاکسی اور قاعدے کے مطابق شہریت کے لئے درخواست دے اس کو غیرقانونی پناہ گزیں نہیں سمجھاجائے گا۔

 مذکورہ 6طبقات میں مسلمانوں کو شامل نہیں رکھاگیا۔ اسلئے مسلمانوں نے سمجھا کہ انہیں شہریت سے باہر کیاجائے گا۔ بھارت کے مسلمانوں نے اس لئے ایسا سمجھا کیونکہ وزیرداخلہ امیت شاہ نے Chronologyسمجھائی تھی کہ CAAکے بعد NRCآئے گا۔ NRCآسام کے بعد پورے ملک میں لاگو کرنے کی بات مرکزی حکومت کررہی تھی۔آسام میں NRCسے باہر 19لاکھ لوگ ہوچکے تھے، جن میں 14لاکھ ہند واور5لاکھ مسلمان تھے۔ مسلمانوں نے امیت شاہ وزیرداخلہ کی کرونالوجی اس طرح سمجھی کہ 14لاکھ ہندووں(جن میں کرسچین، بودھ، آدیباسی اور دیگر طبقے کے افراد بھی شامل ہیں)کو مرکزی حکومتCAAکے تحت دوبارہ شہریت دے گی اور 5لاکھ مسلمانوں کو عقوبت خانوں (Detention Camp)کے حوالے کردیاجائے گاکیونکہ انہیں CAAمیں جگہ نہیں دی گئی ہے۔ پھر تو ایک نہ تھمنے والے احتجاج کا طوفان ملک بھر میں اٹھ کھڑا ہوا۔دوسری جانب ماہرین قانون نے جب اس قانون کوپڑھاتو انہیں لگا کہ یہ قانون دراصل'' بھارت کے آئین ''کی روح کے برعکس ہے۔ بھارت کاآئین اپنے شہری کو مساوات اور قوانین کے تحفظ سے محروم نہیں کرتا۔ وہ مذہب، نسل، ذات، جنس، مقام پیدائش کی بناپرکسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتتا۔جبکہ شہریت ترمیمی قانون نے تین ممالک اور وہاں کے6 طبقات کانام لے کر امتیاز برتا ہے۔ اور پوچھنے والے یہ بھی پوچھ رہے اور بول رہے ہیں کہ اس طرح سری لنکا، چین اور بھوٹان کے ہندوؤں پر بھی اپنے دروازے اس قانون کی روسے خودبخود بند ہوگئے ہیں۔

 ایک غلطی کے نتیجے میں دوسری غلطی سامنے آئی ہے۔اگر اس قانون کوواپس نہیں لیاگیاتو آئندہ حالات اور بھی بدتر ہوں گے۔ دیگر طبقات بھی بڑی تعداد میں اس قانون کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ جناب بیدری نے طالبات کوبتایاکہ ہم اپنے ملک کے حالات سے Factکی بنیاد پر باخبر رہیں۔ افواہیں بہت سی ہوتی ہیں۔ افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے خود پڑھیں، جانیں اور سمجھیں۔ اس تعلق سے آج کی نشست کو ایک اہم نشست قرار دیتے ہوئے الماس فاؤنڈیشن کی کوششوں کو انھوں نے سراہا۔مولانا مفتی غلام یزدانی اشاعتی سرپرست الماس فاؤنڈیشن اسکول بید رنے ابتداء میں پروگرام کا تعارف کرواتے ہوئے کہاکہ بھارت کے قانون کو جاننا،آج کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے آج ہم نے ممتاز سماجی کارکن اور جہد کار محمدیوسف رحیم بیدری کو زحمت دی ہے۔ عا لمیت کررہی آپ طالبات اور ان کی استانیوں کے سامنے آئین ِ ہند سے متعلق باتیں پیش کرنے کے ساتھ اس بات پر بھی یوسف رحیم بیدری روشنی ڈالیں گے کہ سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) ہم سب کے لئے کتنافائدہ مند ہے اور کتنا نقصان دہ۔انھوں نے طالبات سے کہاکہ وہ حالات سے باخبر رہیں۔ عالم وہی ہوتاہے جو عالم کے حالات سے باخبر ہوتاہے۔ شیخ یاسر سکریڑی ادارہ اور صحافی اختررحمن بھی اس موقع پر موجودتھے۔ مولانا مفتی غلام یزدانی اشاعتی کے اظہا رتشکر پر پروگرام اختتام کوپہنچا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad