بیدر۔محمدیوسف رحیم بیدری(یواین اے نیوز 19جنوری2020)شہر کے گنیان سدھا نامی تعلیمی ادارے میں آرٹس اور سائنس کارنیوال کااہتمام عظیم الشان پیمانے پر کیاگیا۔جس میں 468ماڈل93کلاس رومس،لابی اور اسکول کے احاطہ میں پیش کئے گئے۔اس کارنیوال سے دودن کے بیچ 10ہزار افراد نے استفادہ کیااور شریک ہوکر ہمارے طلبہ کاحوصلہ بڑھایا۔ یہ باتیں گنیان سدھا تعلیمی ادارے کی چیرپرسن ڈاکٹر پورنیماجی نے کہیں۔ وہ آج اپنے تعلیمی ادارے میں صحافیوں سے بات کررہی تھیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ چندریان 2، بیدری آرٹ، بیدرکاقلعہ اور Fit Indiaیہ ایسے ماڈل اورموضوع ہیں جن پر کافی خرچ کیاگیا۔کتنا خر چ ہوادریافت کرنے پر بتایاکہ پورے کارنیوال پر5-6لاکھ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ چندریان 2حالانکہ ناکامی دوچار ہوا لیکن ناکامی ہی کامیابی کازینہ ہوتی ہے۔یہاںپیش کئے گئے تمام ماڈل متعلقہ مضامین اور معاشرتی نظریہ کے عین مطابق ہیں۔ ادارے کے ڈائرکٹر مونیشور لکھا نے بتایاکہ طلبہ کے ہاتھ سے بنائی گئی۔
ڈکشنری اور کامرس، بینکنگ وغیرہ دیکھنے سے تعلق رکھنے والے ماڈل ہیں۔ چیرپرسن ڈاکٹر پورنیما نے ہنسنے ہنسانے سے متعلق سوال پر کہاکہ یہاں ہم چوک گئے ہیں۔ آئندہ خیال رکھاجائے گا۔ واضح رہے کہ جو ماڈل بنائے گئے ہیں اس میں تھرماکول کا کم سے کم استعمال کیاگیاہے۔ باب الداخلہ پر بیدرکی معروف صنعت بیدری ورک پر کام ہواہے۔ اس کو طلبہ پیش کررہے تھے۔ بائیں جانب راکسن سپروائزر کی زیرنگرانی 14طلبہ نے روبوٹک پروجیکٹ پیش کیاہے۔ ششم جماعت کے طالب علم پرساداور دیگر موجودتھے۔ اس حصہ پر گاؤں کے طلبہ نے محنت کی ہے۔ اسی کے فوری بعد گاندھی جی سے متعلق ان کابچپن، آفریقہ میں قیام، نمک ستیہ گرہ اور آشرم کی زندگی اور راج گھاٹ سے متعلق بغیر کچھ کہے ماڈل رکھے گئے ہیں۔ نیوٹرشن کے حصہ میں ششم جماعت کی بشریٰ فاطمہ اپنے گروپ کے ساتھ پڈنگ اور دیگر اشیاء فروخت کرتی نظر آئیں۔ عرضینہ جبین (چہارم، گوداوری) نے زمین کی گردش پر روشنی ڈالی۔
اسی مقام پر ہمارا استقبال ویبھو نے کیا۔ اور یہ استقبال خود سے کیاگیا۔ پنجم جماعت (کاویری) کی انویشا، وجے لکشمی، مادھو اور سفیان نے Adaptation in Animalsپیش کیا۔ وجے نگر ایمپائر پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ اسمارٹ ولیج جس کو تلسی داس نے شروع کیاہے۔ وہ ہم بتارہے ہیں یہ بات ہشتم (گنگا) کے روہن اور رتیش نے بتائی۔ اور کہاکہ یہاں غریبوں کے لئے اسکول اور کسانوں کے لئے کھیتی ہوتی ہے۔ چھوٹے بچوں کاکافی خیال رکھاجاتاہے۔ ایک روم میں داس ساہتیہ پر ہشتم جماعت (یمونا) کے سمیت نے روشی ڈالی،چھوٹے چھوٹے طالب علم(سوم۔ کاویری) شیوانی، ویبھو، شویتا، سنجنا اور سنکیت نے 18کنڑا شعرا کے بارے میں بتاتے ہوئے نظر آئے۔ ہشتم (نرمدا) کا وشواناتھ ایک ٹیبل پر آئین ہند ہاتھ میں لئے کھڑ انظر آیا۔ وہ ڈاکٹر امبیڈکر بناہواتھا۔ اس کے ساتھ ایک اورطالب علم آشیش بھی تھا۔ایک روم پر ہمارااستقبال ننھے سرجیل نے کیا۔ جب ہم آگے بڑھے تو ہمیں ہاتھ سے بنی انگریزی ڈکشنری دیکھنے کو ملی جو 8ftلمبی اور 8فٹ چوڑی ہے۔
اس کو سمیت اور رشی کیش (ہفتم۔ کرشنا)طلبہ پیش کررہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی ٹیچر بھی کھڑی تھیں۔ ایک جگہ برایہا دیشور ی مندر بھی دیکھنے کوملا۔ ڈانس کے لئے سنگمیش اور انکیت پوری طرح تیار تھے لیکن اس کاحلیہ سردارجی اور ایک مہاراج کاتھا۔ مشن انترکش سیکشن میں نہم (نرمدا) کی لکشمی ساؤدی اور سمردھا اپنااپناماڈل پیش کررہی تھیں۔ایک مقام پر بدری ناتھ مندر کی اہمیت پر انمول، آدتیہ، پرتھوی راج اور شویتا(چہارم۔ گنگا)نے روشنی ڈالی۔ پہیلی میری سہیلی جیسا دلچسپ پروگرام بھی تھا۔ جس کو کیرتی، اشوک۔ فضیل اور بسواپرساد (سوم۔ کرشنا) پیش کررہے تھے۔ کافی سے زیادہ ماڈل تھے جس کو دیکھنے کے لئے وقت اور دلچسپی مطلوب تھی۔ بہرحال گنیان سدھا تعلیمی ادارے نے طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر اس کارنیول میں کافی کچھ ایسا پیش کیاہے جس کو یادرکھاجاسکتاہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں