نئی دہلی۔۶؍جنوری: جے این یو طلبہ یونین صدر ایشی گھوش نے آج پریس کانفرنس کرکے اتوار کو کیمپس میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں بتایا۔ انہو ںنے کہاکہ کیمپس میں جو حملہ ہوا ہے اسے بی جے پی اور سنگھ کے لوگوں نے کروایا ہے، انہوں نے کہا کہ اس حملے کو جامعہ ملیہ اسلامیہ او راے ایم یو میں ہوئے حملوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاناچاہئے۔ ایشی گھوش نے مزید کہاکہ ہم گزشتہ 68 دنوں سے فیس بڑھوتری کے خلاف مہم چلارہے ہیں لیکن گزشتہ چار پانچ دنوں سے اے بی وی پی کے لوگ اس مہم کو توڑنے کی کوشش کررہے تھے، انہو ںنے کہاکہ جے این یو ایس یو اس لیے رجسٹریشن کا بائیکاٹ کررہا تھا کیوں کہ وائس چانسلر وزیر تعلیم کو سننے کو تیار نہیں ہیں ان کے پاس آخری راستہ تشدد ہی بچ گیا ہے۔ گھوش نے یونیورسٹی کے پروفیسر پر سنگین سوال کھڑے کیے اور کہاکہ آر ایس ایس سے منسلک پروفیسر موہا پاترا نے ہمیں دیکھ لینے کی دھمکی دی ہے۔
کیمپس میں گارڈس سے نے بھی طلبہ وطالبات پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ جے این یو ٹیچر ایسوسی ایشن کے ساتھ سابر متی ٹی پوائنٹ پر بات کررہے تھے تبھی ہمیں اطلاع ملی کہ کیمپس میں حملہ آور گھس آئے ہیں، اس بات کی اطلاع ہم نے قریب موجود پولس تھانے کے ایس ایچ او کو اپنے فون سے میسج اور وہاٹس ایپ بھیج کر دی، ایس پی اور انسپکٹر کو بھی بتایا کہ منہ ڈھک کر لوگ ایڈ بلاک پر طلبہ کو مار رہے ہیں، انہوں نے کہاکہ میں آدھے گھنٹے بعد پولس سے بات کی تو پولس نے کہاکہ حملہ آوروں کو ہٹا دیاگیا ہے، لیکن سات بجے کے بعد 60-70 نقاب پوش کیمپس پر حملہ کیا میں یہیں چائے پی رہی تھی، مجھے راستے میں پکڑ لیاگیا، میری بہن کے ساتھ ساتھ ایک اور لڑکی کو ایک کار کے پاس پکڑ لیاگیا، ہمیں تیس لڑکوں نے گھیر لیا، تبھی میرے سر پر لوہے کی سلاخ سے حملہ کیاگیا، اس کے بعد گھونسہ اور ہتھوڑے کا بھی استعمال کرکے ہماری لنچنگ کی کوشش ہوئی۔
نقاب پوشوں میں سے ہی کچھ لوگوں نے کہاکہ یہاں سے بھاگو ان لوگوں کو نہیں مارنا تھا، اس کے بعد مجھے ایمس لے جاکر میرا علاج کیاگیا، اپیکشا اور تروپتی نامی لڑکیوں کے جسم پر چڑھ کر انہیں مارا گیا، انہوں نے کہاکہ جے این یو کے گارڈس نے ہمیں ان لوگوں سے نہیں بچایا، الٹے وہ یہ کہہ کر نکل گئے کہ آپ آپس میں لڑائی مت کرو۔ ایشی نے کہاکہ یہ حکومت کیاچاہ رہی ہے، ہمیں سمجھنا پڑے گا، دہلی پولس گونگی بنی رہی، پہلے جامعہ کے ساتھ یہی ہوا، ٹیر گیس تک سے حملے ہوئے، جے این یو ہمارا گھر ہے ، آر ایس ایس بی جے پی ہم سے ہمارا گھر نہیں چھن سکتی۔ آپ لوگ ہم سے ہماری ہمت نہیں چھین سکتے۔ انہوں نے کہاکہ میرے سر سے خون رس رہا تھا، ایمبولینس سے لے جاتے وقت اے بی وی پی نے راستہ روک دیا، جو میرے ساتھ ہوا درست ہوا، فیس واپسی کی مہم جاری رہی گی، آپ ہم پر راڈ سے حملہ کریں گے، ہم جے این کی تہذیب اور بحث سے جواب دیں گے، اب ہم سی اے اے اور این آر سی کی بھی لڑائی لڑیں گے۔ گھوش نے کہاکہ جے این یو وائس چانسلر استعفیٰ دیں کیو ںکہ میرے اوپر حملہ جے این یو کے سبھی بچوں پر حملہ ہے جنہوں نے مجھے ووٹ دیا، وائس چانسلر استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو وزارت تعلیم انہیں ہٹائے۔
انہوں نے کہاکہ میرے علاج کے دوران ایمس کے ڈاکٹروں نے کہاکہ فیس کی مار انہیں بھی پڑی ہے اور وہ جے این یو کی فیس رول بیک کو واپس لینے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔ ادھر طلبہ یونین نے بھی صدر یونین کی آواز پر لبیک ہوکر وائس چانسلر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ طلبہ یونین کی طرف سے جاری بیان میں کہاگیا ہے یہ وائس چانسلر بزدل ہے جو چور دروازے سے غیر قانونی پالیسیوں کا تعارف کراتا ہے، طلبہ یا اساتذہ کے سوالوں سے دور بھاگتا ہے اور پھر جے این یو کو غیر فعال کرنے کے حالات بناتا ہے۔طلبہ نے الزام لگایا کہ وائس چانسلر تشدد پھیلانے اور یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کرنے کےلیے غنڈوں کا استعمال کررہے ہیں۔ طلبہ کے مطالبے کے مطابق وائس چانسلر استعفیٰ دے یا ایم ایچ آر ڈی اسے ہٹائے، جولوگ اس یونیورسٹی کو خراب اور برباد کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق کل ہوئے تشدد میں معاملہ درج کرلیاگیا ہے، اس کے ساتھ ہی کیس کو کرائم برانچ کے سپرد کردیاگیا ہے، پولس کے مطابق کچھ ملزمین کی شناخت کرلی گئی ہے، دہلی پولس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمین کو جلد گرفتار کیاجائے گا۔ اسی درمیان کئی زخمی طالب علم کو ایمس سے چھٹی مل گئی ہے، اور دیگرکا علاج اب بھی جاری ہے۔
پولس تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کچھ خواتین چہرے ڈھکی ہوئی تھی اور ان کے ہا تھوں میں لاٹھیاں تھیں، اتنا ہی نہیں یہ لوگ طلبہ کو دھمکیاں دے رہے تھے، پولس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ طلبہ کی طرف سے شکایت کی گئی ہے کہ باہری لوگوں نے یونیورسٹی کے عقبی گیٹ سے اینٹری کی جس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ حملے سے قبل وہاٹس ایپ گروپوں میں حملے کی سازش کررہے نمبرات بھی نیوز ایجنسیوں کی تفتیش میں اے بی وی پی سے منسلک افراد کے نکلے ہیں۔ انڈین ایکسپریس نے کچھ نمبروں پر بات کی جس پر ان لوگوں نے کہاکہ ہم تو اے بی وی پی کے ہیں لیکن ہمارے نمبروں کا مس یوز کیاگیا ہے۔ فی الحال یہ نمبرات بند بتائے جارہے ہیں۔ ادھر وزارت داخلہ نے بھی دہلی پولس کو تشدد کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ جے این یو کے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار نے گزشتہ شب یونیورسٹی کیمپس میں ہوئے تشدد کے پیچھے بائیں بازو طلباء کا ہاتھ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طلباء کے سیمسٹر کے رجسٹریشن کے عمل میں خلل ڈالا جس کے بعد یہ تشدد بھڑکا ۔مسٹر کمار نے بائیں بازو طلباء کا نام لئے بغیر پیر کے روز ٹوئیٹ کرکے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلباء نے یونیورسٹی کے مواصلاتی نظام کو کاٹ کر موسم سرما آن لائن رجسٹریشن کے عمل کو ٹھپ کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے تشدد شروع کی ا اور یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ بھی کی جس سے جھگڑے کی شروعات ہوئی۔
انہوں نے بھروسہ دلایا کہ طلباء کی حفاظت کی کوشش اور بیرونی عناصر کی روک تھام کی جائےگی ۔ یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر تشدد کی جگہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ ہم طلباء کے ساتھ ہیں۔ وہیں سابرمتی کیمپس کے نگراں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نگراں آر مینا نے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے کہ کیمپس کی سیکوریٹی کےلیے انتظامات کیا لیکن ناکام رہا اس لیے میں اپنا استعفیٰ دے رہا ہوں۔ ادھر یونیورسٹی کے نارتھ گیٹ پر سینکڑوں کی تعداد میں طلبا و طالبات جمع گئے ہیں اور گزشتہ روز سابرمتی ہاسٹل میں گھس کر طلبا و طالبات پر ہوئے حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔ مظاہرے میں شریک طلبا جے این یو انتظامیہ اور دہلی پولس کے خلاف بینر لیے ہوئے ہیں۔اس درمیان جواہر لال نہرو یونیورسٹی ٹیچرس فیڈریشن (جے این یو ٹی ایف) نے جے این یو طلبا کی حمایت کرنے اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ جے این یو ٹی ایف نے کہا ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں طلبا کے ساتھ ہیں اور جے این یو کیمپس میں ماحول بہتر بنانے کے لیے ضروری قدم اٹھائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں