مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے بزرگ عالم اور بیت العلوم سرائے میر کے سرپرست کے انتقال پرتعزیت کا اظہار کیا
نئی دہلی (یواین اےنیوزیکم دسمبر2017) ملک کی مؤقر ملی تنظیم آل انڈیا تنظیم علماء حق دہلی کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے ہندوستان کے معروف عالم دین اور بزر گ ترین شخصیت ، محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ؒ ہردوئی کے نامور خلیفہ مولانا مفتی عبد اللہ پھولپوری کے مقدس سرزمین مکہ میں دوران عمرہ اچانک سانحۂ ارتحال پر اپنے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی عبد اللہ پھولپوری کا انتقال نہ صرف امت مسلمہ ہندیہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے، بلکہ ہندوستان و پاکستان اوربرصغیر کے ان تمام مسلمانوں اور علمائے دین کا بھی ایک بہت بڑا خسارہ ہے، جو حضرت مرحوم سے بیعت و ارشاد اور سلوک و معرفت کا تعلق رکھتے تھے۔ مولانا قاسمی نے مفتی صاحب مرحوم کے خاندان اور ان کے بزرگوں کی تاب ناک تاریخ اور ان کی دینی و اصلاحی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ ایک علم و فضل کا گہوراہ کہلانے والے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے آباء و اجداد نے بیعت و ارشاد کی راہ پر چل کر بے شمار اذہان کوفسق و فجور کے دلدل سے نکال کر تزکیہ و طہارت کے سیدھے اور شفاف راستے پر ڈال دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مفتی صاحب صرف اپنی خانقاہ میں بیٹھ کر بیعت و ارشاد اور تقوی و طہارت کی مبارک محفل ہی نہیں سجاتے تھے، بلکہ مرحوم کا ہندوستان کے مدارس و مکاتب اور دینی وملی اداروں سے بھی بڑا گہرا اور والہانہ رشتہ تھا اور وہ خود اعظم گڑھ کے مشہور دینی ادارہ بیت العلوم سرائے میر کے سرپرست، منتظم کار اور روح رواں تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے انتقال سے بیت العلوم سرائے میر ہی نہیں، بلکہ ہندوستان کے دور دراز خطوں میں پھیلے ہوئے دوسرے ہزاروں مدارس و مکاتب بھی ایک مخلص اور درد مند سرپرست و مربی سے محروم ہوگیئے ہیں۔ مولانا کے انتقال کا غم اتنا شدید ہے کہ ہندستان اور بر صغیر کے مدارس و مکاتب بھی اس الم ناک سانحہ کی وجہ سے غم و الم کی چادر میں لپٹے ہوئے ہیں۔ انھوں نے مولانا کے ذریعہ اصلاحی و تبلیغی خدمات اور احیائے سنت پر مبنی قابل فخرسرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قول و عمل، نشست و برخاست اور اپنی تمام حرکات و سکنات سے سنت نبوی کی عملی تشریح و تعبیرمعلوم ہوتے تھے، انھیں دیکھ کر عام مسلمانوں کے اندر بھی سنت نبوی کی پیروی اور اتباع کا جذبہ بیدار ہوجاتا تھا۔ وہ اس زوال آمادہ عہد میں مسلمانان عالم کے لیے ایک نمایاں مرجع و مرکز کی حیثیت رکھتے تھے، اس لیے ان کے اس طرح ناگہانی اٹھ جانے کی وجہ سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امت مسلمہ پر غم و الم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مولانا مرحوم دعوت و تبلیغ اور اصلاح و ارشادکے لیے موزوں ہر قسم کے ذرائع و وسائل کو بروئے کارلاتے تھے، اسی مقصد کے تحت انھوں نے ایک اصلاحی ماہ نامہ’’ فیضان اشرف‘‘ کا بھی اجرا کیا تھا جو ہر ماہ پابندی کے ساتھ شائع ہوتا تھا اور اس کے مضامین میں اخلاقی بگاڑ، معاشرتی خرابیوں اور اصلاح احوال و قلوب کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ اس رسالے کی تحریروں کا ادہان و قلوب پر خاص اثر ہوتا تھا۔ مولانا قاسمی نے ان کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہ صرف مفتی صاحب مرحوم کی علمی یادگار بیت العلوم سرائے میر کو نہ صرف ان کی دینی و ملی خدمات کا عنوان بناکر زندہ رکھنا ہے، بلکہ احیائے سنت اور دعوت و تبلیغ جو ان کی زندگی کا ماحصل تھا، اس کو بھی عالمی پیمانے پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ صدقہ جاریہ کے طور پر باقی رہے اور آخرت میں ان کی ترقی درجات کا سبب بنے۔ انھوں نے خصوصا ہندستان کے تمام مدارس و مکاتب سے مفتی صاحب مرحوم کے لیے قرآن خوانی اور ایصال ثواب کرنے کی درخواست کی ہے۔ اللہ امت مسلمہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور ان کی تمام علمی اور خانقاہی یادگاروں کو باقی رکھے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں