اخلاق حسنہ اور اخلاقی تقاضے
تحریر۔عبیدالرحمن الحسینی
ﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضور نبی کریم ﷺ کے خلق عظیم کی عظمت یوں بیان فرمائی ہے بے شک آپ کو خلق عظیم عطا کیا گیا حضرت عائشہ صدیقہؓ سے حضور اکرم کے خلق کے بارے میں پوچھا گیا توآپؓ نے فرمایا کہ رسول ﷲ ﷺ کا خلق قرآن پاک ہے۔حضور اکرم نے ارشاد فرمایا میں حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں موطا امام مالک میں حضرت معاذ بن جبلؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم نے مجھے یمن بھیجتے وقت جو آخری وصیت رکاب پر پاوں رکھتے وقت فرمائی وہ یہ تھی لوگوں کے ساتھ بہتر اخلاق سے پیش آنا حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے حضور نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مومن اپنی خوش اخلاقی کے ذریعہ رات کو عبادت کرنے والے اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھنے والے شخص کا درجہ پا لیتا ہے۔حضور اکرم ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی اختیار فرماتے تھے۔ آپ ہر ایک کے ساتھ نرمی و اخلاق سے پیش آتے۔ آپ کی خندہ پیشانی اور خوش خلقی تمام لوگوں کے لئے عام تھی۔ آپ کی ہر بات اور ہر کام شریفانہ اخلاق کے منتہا سے اوپر تھا۔ آپ اکثر یہ دعا فرماتے کہ اے ﷲ جیسا کہ تو نے مجھے حسن صورت عطا کیا ہے حسن اخلاق بھی عطا فرما حالانکہ حضور اکرم کے اخلاق حسنہ کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ آپﷺ کے اخلاق کریمانہ میں یہ بات شامل تھی کہ اگر کوئی نیک کام کرتا تو اس کی تعریف فرماتے اور خوش ہوتے اگر کوئی برا کام کرتا تو اسے روکتے آپ خود بھی نیکی میں جلدی کرتے۔ آپ کے نزدیک نیک انسان وہ تھے جونیکی سے دوسروں کو فائدہ پہنچاتے۔ آپ جب نصیحت فرماتے تو تمام لوگوں کو مخاطب فرماتے۔ آپ کا حلم بردباری اورخوش اطواری تمام صحابہ کرامؓ کے ساتھ یکساں تھی ۔جو کوئی آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا مایوس نہ لوٹتا۔ آپ کی شفقت و رحمت مخلوق باری تعالیٰ کیلئے عام تھی۔ آپ ہر ایک سے گفتگو کرتے وقت سلام سے ابتداءفرماتے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں کوئی چیز تقسیم فرماتے توہر ایک کومساوی حصہ عطا فرماتے اور کسی کو محروم نہ فرماتے۔ حتیٰ کہ کسی ایک کو بھی یہ گمان نہ ہوتا کہ فلاں زیادہ پسندیدہ ہے ہر ایک کو یہ گمان ہوتا کہ وہی پسندیدہ ہے۔ ہمیں اپنے پیارے نبی اکرم کے اخلاق حسنہ کے مطابق زندگی گزارنی چاہئے۔ پیار و محبت کے پھول کھلیں اور ماحول میں آلودگی ختم ہو جو لسانی علاقائی اور مذہبی جنونیت کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہے۔ معاشرہ کے اندر زندہ رہتے ہوئے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ یاد رکھو انسان کو کسی راستے پر رہنمائی کر کے لے جانا آسان ہے مگر اس کا راستے پر بزور دھکیل کر لے جانا بہت مشکل ہے۔ تلوار کی نسبت تبسم سے مجبور کرنا اچھا ہے۔ جن کے ساتھ تمہیں ہمارا معاملہ پڑے ان پر دیانت داری سے اپنا اعتبار جمانے کی کوشش کی جائے۔ اکثر اشخاص لیاقت سے نہیں بلکہ محض اخلاق کے زور پر قوت اور اثر پیدا کر لیتے ہیں۔ دوسروں کی جائز خواہشات کو جہاں تک عقل مندی اور راست بازی اجازت دے پورا کرنے کی کوشش کرو۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جس شخص کو ہمارے ساتھ کوئی معاملہ پڑے وہ محسوس کرے کہ اس کو اس میں خوشی حاصل ہوئی ہے۔ وہ آئندہ بھی ہمارے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے مستعد نظر آئے۔ دنیا کے معاملات میں جذبات کو بہت بڑا دخل ہے۔ ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ مہربانی اخلاق اور مروت سے پیش آیا جائے۔خالق کی خوشنودی اور مخلوق میں ہردلعزیزی حاصل کرنے کے لئے اخلاق سب سے بڑا سب سے بہتر اور سب سے آسان ذریعہ ہے۔ انسان ہزار عالم و فاضل اور عابد و زاہد ہو اگر وہ اوصاف اخلاق سے محروم ہے تو اس کے علم و فضیلت اور عبادت و زہد سب ہیچ ہیں۔ اعتقادی طور پر انسان خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو لیکن ہر انسان میں حقیقی جوہر انسانیت ہونا ضروری ہے۔ حضور اکرم کے اخلاق کریمانہ میں یہ بات بھی شامل تھی کہ آپ مدینہ منورہ کی گلیوں میں انصاری بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے تو ان کے سروں پر محبت و شفقت سے دست مبارک رکھتے اور انہیں سلام کہتے۔ ان کے لئے دعا فرماتے۔ اگر کوئی صحابیؓ آدھی رات کے وقت بھی مہمان بناتا تو آپ تشریف لے جاتے اور آرام کا عذر نہ فرماتے۔آپ ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کا برتاو کرتے ۔ ہم عظیم رہبر اسلام کے امتی ہیں اور ان صفات کو زندگی کا حصہ بنانا انتہائی ضروری ہے بلکہ اسی میں نجات ہے۔ جو آدمی تکریم انسانیت سیکھ لے وہ معاشرہ کا اچھا انسان بن جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں اخلاقی کمزوریوں کی وجہ سے معاشرے بھرا پڑا ہے جہاں مسلمان مسلمان کا خیر خواہ ہونا چاہئے تھا وہاں اس نے اپنے بھائی کو مالی اور اخلاقی طور پر پریشان کرنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ دفاتر میں افسران کا رویہ انتہائی ناروا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ علم حاصل کرنے والا شخص اخلاقیات کا نمونہ ہو اور اس کے علم کی خوبصورت جھلک اس کی گفتاراور کردار سے نظر آئے لیکن یہاں اخلاقی پستی نے امت مسلمہ کو اپنی پہچان سے دور کر دیا ہے۔ ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ اخلاقی رویہ بہتر رکھنا چاہئے تاکہ بہتر معاشرہ قائم اور حضور اکرم کی تعلیمات عام ہوں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں