ایک سو چار سالوں سے لگاتار ایشیا کا سب سے بڑا جلوس،جلوس محمدی 2دسمبر کو کو پریڈ گراؤنڈ کانپور سے نکالا جائے گا
کانپور،(یواین اےنیوز29نومبر2017) گذشتہ 104برسوں یعنی1913 سے لگاتار ہر سال پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے یوم ولادت پاک۱۲؍ربیع الاول کے مبارک ومسعود موقع پر اٹھایاجاجانے والا ایشیا کا سب سے بڑا جلوش محمدیﷺ اس سال بھی حسب روایت مورخہ 02؍دسمبر 2017 بروز سنیچر دوپہر ایک بجے جمعےۃ علماء شہر کانپور کے زیر اہتمام وزیر قیادت پریڈ گراؤنڈ(رجبی گراؤنڈ) سے اٹھایاجائیگا۔ جس کی تیاریاں تقریباً مکمل کر لی گئی ہیں ۔ امسال کاجلوس محمدیﷺ کا 105 واں جلوس ہوگا۔ (انشاء اللہ)جمعےۃ علماء اترپردیش کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی ، جمعےۃ علماء شہر کانپور کے صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں ، سکریٹری زبیر احمدفاروقی، نے آج یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مذکورہ اطلاع دی۔ مولانا اسامہ نے بتایا کہ جلوس محمدیﷺ کی اپنی ایک سنہری تاریخ ہے جب 1913 میں تحریک جنگ آزادی زور وشور سے جاری تھی تب یہ جلوس محمدی ﷺ نکلنا شروع ہوا تھا۔ اس جلوس کے ذریعہ شہر کانپور کے مسلمانوں وہندوؤں سمیت دیگر سب ہی مذاہب کے لوگوں نے اس میں شامل ہوکر اور باہمی اتحاد ویگانگت کا مظاہرہ کر کے فرنگیوں کے ہوش اڑا دئے تھے تب انگریزوں نے ہندو مسلم ، سکھ ایکتا واتحاد کو توڑنے کے لئے فرقہ وارانہ فسادات کی حکمت عملی کا کھیل کھیلنا شروع کیا لیکن وہ اپنی ناپاک کوشش میں منشاء کامیاب نہیں ہوسکے اور کانپورشہر کا یہ عظیم جلوس محمدیﷺ لگاتار امن و انسانیت ، محبت واخوت ، رواداری وخیر سگالی ، بھائی چارہ واتحاد کا پیغام دیتارہا ہے جو آقائے دوعالم رحمتہ للعالمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم کی دین ہے۔ جمعےۃ علماء کے ان عہدیداران نے مزید بتایا کہ ملک کی تقسیم کے بعد جب فرقہ پرستی نقطہ عروج پر تھی تب بھی اس جلوس محمدیﷺ نے شہر کانپور سمیت پورے خطہ میں امن وامان اور بھائی چارے کا ماحول قائم رکھنے میں اہم تاریخی کردار اداکیا۔ 1948 میں جب شہر میں کوئی فرد یا افراد یاکوئی تنظیم اس جلوس کو نکالنے کے لئے تیار نہیں تھی، تب جمعےۃ علماء شہرکانپور نے اس جلوس کی باگ دوڑ سنبھالی اور تبھی سے یہ جلوس جمعےۃ علماء شہرکانپور کے زیر اہتمام وزیر قیادت ہر سال اٹھایا جارہا ہے۔ اس طرح جمعےۃ علماء شہرکانپور کے ذریعہ یہ جلوس نکالتے ہوئے 67 سال پورے ہوچکے ہیں اور اس بار اسے68واں جلوس محمدیﷺاٹھانے کا شرف حاصل ہورہا ہے۔ جمعےۃ علماء اترپردیش کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نے جلوس محمدی ﷺ میں شامل ہونے والے تمام شہریوں خصوصاً تمام مسلمانوں سے پر زور اپیل کی ہے کہ جلوس کے روٹ میں بہت ہی زیادہ تنگ اور سکرے راستے بھی پڑتے ہیں جس سے جلوس کو اپنے روایتی اور قدیمی راستوں کا خیال رکھتے ہوئے گذرناپڑتا ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے جلوس محمدیﷺ میں شامل ہونے والے عقیدت مندوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور کثیر تعداد میں عوام وخواص شامل ہوتے ہیں جو جلوس کی زبردست مقبولیت کا ثبوت ہے۔ ایک فکر کی بات یہ ہے کہ آگے سے آگے اپنے جھنڈوں کو لگانے کی کوشش کی وجہ سے جلوس کے راستوں میں جام لگ جاتا ہے خاص طور پر جب چھوٹا ہاتھی لوڈر کو جلوس میں شامل کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو راستہ میں مزید رکاوٹیں پیداہوتی ہیں۔ اس لئے جو انجمنیں جلوس میں شرکت کرنا چاہتی ہیں ان کو چاہئے کہ وہ رجبی گراؤنڈ (پریڈ) سے بعد نماز فجر پہنچ کر اپنی شمولیت کے ٹوکن لے لیں اور پریڈ سے ہی اپنے نمبر پر جلوس میں شامل ہوکر اپناخراج عقیدت پیش کریں اور جلوس میں چھوٹاہاتھی لوڈر وغیرہ شامل نہ کریں۔ انہوں نے تمام کالجوں کے طلباء واولڈ بوائز سے درخواست کی ہے کہ اگر وہ اپنی جیپ جلوس میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو بھی وہی طریقہ اختیارکرنا چاہئے کہ پہلے رجبی گراؤنڈ( پریڈ) سے ٹوکن لیں اور پھر اپنے نمبر پر جلوس میں شامل ہوں۔ نیز جلوس درمیان سے داخل ہونے والی انجمنوں سے اور لوڈر وغیرہ داخل کرنے والے افراد سے درخواست ہے کہ وہ بھی رجبی گراؤنڈ سے ٹوکن حاصل کر کے اپنے نمبروں پر جلوس میں شامل ہوں۔ اس کے علاوہ جلوس میں شامل ہونے والے سب ہی شرکاء مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں۔ (۱)۔ پاک وصاف کپڑے پہن کر جلوس میں شرکت کریں۔ کپڑوں پرخوشبو اور سرپرٹوپی لگانے کا خیال رکھیں۔ (۲)جلوس میں حمد الہیٰ ، درود وسلام ، نعت ومنقبت اور مدح صحابہؓ کا وردنہایت اہتمام کے ساتھ کرتے رہیں۔ (۳) جلوس کے تمام راستہ میں اسلامی تہذیب وشائستگی کا مظاہرہ کریں۔ (۴)جلوس کے جھنڈوں میں لوہے کا راڈ استعمال کرنے کے بجائے بانسوں اور بلیوں کا استعمال کریں۔(۵) لاؤڈ اسپیکر ۔ مائکو یعنی ساؤنڈ سسٹم کی آواز کو کم رکھیں یعنی انہیں دھیما رکھیں۔(۶)کسی طرح کے سیاسی نعرے، جھنڈے، بینر اور بیج کا استعمال نہ کریں۔ (۷) جلوس کے دوران کوئی ایسا نعرہ نہ لگایاجائے۔ کوئی گیت نہ گایا جائے جس سے کسی کے جذبات کو کوئی ٹھیس پہنچ سکتی ہو۔(۸) جلوس محمدیﷺ میں تبرک کی تقسیم کرنے والی تنظیمیں اور حضرات تبرک پھینک کر تقسیم نہ کریں بلکہ لوگوں کے ہاتھوں میں دیں تاکہ رزق کی توہین نہ ہو اور اللہ کی ناراضگی کا سبب نہ بنے۔ مولانا محمدمتین الحق اسامہ قاسمی اور ڈاکٹر حلیم اللہ خاں نے اپنی اس اپیل کے ذریعہ تمام برادرن ملت کو باور کرایا ہے کہ جلوس محمدیﷺ کے تقدس اور عظمت کے پیش نظر شمع رسالت کے پروانوں کی ذمہ داری ہے کہ جلوس محمدیﷺ کو امن وانسانیت اور اسلامی تہذیب اور شائستگی کا آئینہ دار بنائیں او ر دنیا کو دکھادیں کہ ہم اُس مقدس پیغمبر اسلام کے نام لیوا ہیں جس کا پیغام ہے محبت، جس کی دعوت ہے یکجہتی اور اتحاد۔صدر ڈاکٹر حلیم اللہ نے کہا کہ جلوس محمدیﷺ کا تعلق کسی بھی طرح کی سیاست سے نہیں ہے اس لئے کسی بھی شخص کو اپنی سیاسی وابستگی کے ساتھ جلوس میں شرکت کی اجازت نہیں ہے ۔ نیز کسی بھی پارٹی کے جھنڈے ، بیج اور بینرٹوپیاں وغیرہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے جلوس کے تقدس ، نظم وضبط، اسلامی روایات کو نگاہ میں رکھنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سیاسی اور دل آزار نعرے لگانے کوممنوع قرار دیا ہے۔ سکریٹری حامد علی انصاری نے کہا کہ کوئی انجمن اپنے پرچم لیکر جلوس میں درمیان سے داخل ہونے کی کوشش نہ کرے اس سے جلوس میں بدنظمی پیداہوتی ہے ۔ جلوس والے دن فجر کی نماز کے بعد رجبی گراؤنڈ پر پہنچ کر اپنے نمبر کے ٹوکن حاصل کریں اور اسی نمبر سے جلوس میں شامل ہوں۔ سکریٹری زبیر احمدفاروقی نے اخبار نوسیوں سے اپیل کی کہ اس بات کوعوام الناس تک پہنچانے میں مدد کریں کہ جلوس محمدیﷺ خیرسگالی، امن اور اتحاد کا پیغامہے۔ خواہ وہ ہندو مسلم اتحاد ہویاپھر اہل اسلام کے مختلف طبقوں اور مسالک میں ۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے جلوس کو امن وسکون اور روایتی طور پر نکالنے کے لئے کسی انجمن کو پرچم لیکریا چھوٹا ہاتھی لوڈر وغیرہ کوجلوس کے درمیان میں شامل کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے اور سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو لوڈر وغیرہ کا چالان کرنے کے ساتھ ضبط بھی کیاجاسکتا ہے اس لئے انہوں نے تمام انجمنوں وغیرہ سے اپیل کی ہے کہ جلوس میں اپنے نمبر یا جلوس میں بیچ سے شامل ہونے کے لئے پریڈ باٹا چوراہا دھرم شالے کی جانب سے جاکر آئی ایم اے ہال نوین مارکیٹ سے جلوس میں شامل ہوں اور جلوس کے نظم ونسق کو بہتر بنانے میں تعاون کریں۔ جلوس کو بہتر نظم وضبط سے نکالنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے جلوس کے درمیان سے اپنے جھنڈے اور لوڈر وغیرہ داخل کرنے پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے اس طرح سے بدامنی اور انتشار کا اندیشہ رہتا ہے اور کسی بھی صورت میں کسی بھی جھنڈے اور لوڈر وغیرہ کو درمیان سے داخل نہیں ہونے دیا جائیگا۔ جس کی نگرانی ویڈیو گرافی ، سی سی ٹی وی کرویج اور ڈرون کیمروں سے کی جائیگی۔خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائیگی ۔پریس کانفرنس میں ڈاکٹر حلیم اللہ خاں،مولانامحمد اکرم جامعی ، مولانا نور الدین قاسمی، محمود عالم قریشی ، زبیر احمد فاروقی وغیرہ موجود رہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں