مدرسہ چشمہ فیض ململ اور ہماری یادیں
پہلی قسط
تحریر محمد آبشارالدین
دس سال بعد ایک دوستنے کال کیا کہ اپنا مادرے علمی 15سال بعد جلسئہ دستار بندی کرانے جارہی ہے ،یہ سن کر دل میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئ اور اس وقت کا شدت سے انتظار کرنے بھی لگا اور تمام قدیم دوست کی یادیں بھی بازگشت کرنے لگیں اور بچپن کی وہ بدمعاشیاں بھی یاد آنے لگیں کہ جمعرات کے رات میں سب کا لوٹا غائب کردینا اور جب صبح ہوتی تو سارے طلبہ بیت الخلاء جانے کے لیئے لوٹے کے جستجو میں ادھر ادھر پھرتے اور ہم اس کا مزہ لیتے پھر دوسری طرف جب ٹھنڈک کا زمانہ آتا تو تمام روم پاٹنر کا ایک دوسرے سے لحاف باندھ دیتا اور ایک طرف کھیچ دیتا اس کے بعد کیا دیکھتے دیکھتے 1857 کی جنگ کی شکل اختیار کرلیتی اور خوب گھوسا گھاسی چلتا
اور فجر کی نمازسے پہلے بتانا ہی بھول گیا جب کوئی استاد فجر کے لیئے اٹھاتے تو اپنا بکسہ آگے رکھ دیتا اور اس کے پیچھے خود جاکر سوجاتا
جمعرات کے دن کے بارے میں تو پوچھیے مت وہ دن تو ہم لوگ کے لیئے عید کے دن سے بھی زیادہ خوشی کا دن ہوتا اب رہا استاد کا تعلق تو سارے اساتذہ ہم کو بہت مانتے تھے تو کوئ پرنسپل صاحب کہ کر بلاتے تو کوئی پلوا اور یہ ماسٹر آزاد صاحب کا بچوں کے لیئے یہی طرز کلام تھا اور مولانا مکین صاحب کا اوں اوں والا انداز تو اپنے آپ میں نرالا تھا جب کسی طالب علم کے لیئے انہوں نے اوں اوں کردیا تو سمجھو اس کی خیر ہی نہیں قاری فیض صاحب کاانداز ہی نرالاتھا جہاں تک قاری غزالی صاحب کا تعلق ہے تو ہم ان زکر کرکٹ کے میدان سے کرتے ہیں ان کی غضب کی گیند بازی اور غضب کی بلے بازی جسے دیکھنے کے لیئے ہر جمعرات کو ململ کے فیلڈ پرجاتا تاکہ اس سے لطف واندوز ہو سکوں ان کے پڑھانے کا طریقہ اور ان کی قرات کو سن کر پتھر بھی ایمان لے آتا اور اگر آج کے دور میں ان کی قراءت کو یوٹیوب پر اپلوڈ کیا جاتا تو تمام یوٹیوبر فیل ہوجاتے خیر وقت وقت ہوتا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں