جو قوم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو بھلادیتی ہے وقت بھی انکو فراموش کردیتا ہے، انوارالہدیٰ
پٹنہ(یواین اےنیوز31اکتوبر2017) جنگ آزاد ی میں محض ۲۷ سال کی عمر جام شہادت نوش کرنے والے شہید اشفاق للہ خان کی یاد میں مقامی اردو لائبریری کیمپس میں ایک یادگاری نشست منعقد ہوئی ۔جس میں انکی قربانیوں ، ہندو ۔ مسلم اتحاد اور حب الوطنی کو یاد کیا گیا ۔ نشست کی صدارت کرتے ہوئے جنگ آزادی کے مسلم شہداء کے مصنف ڈاکٹر ایم اے ابراہیمی سابق ائی اے ایس نے کہا کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں سبھی فرقہ و جماعت کے لوگوں نے اپنی اپنی قربانیاں دیں ۔ انگریزوں نے ہندوستان پر دھوکہ سے قبضہ کرلیا اور لوگوں پر بے حد ظلم اور ستم ڈھائے اور یہاں کی دولت کو لوٹ کر انگلینڈ اور یوروپ میں منتقل کیا ۔ یہاں کی اقتصادی حالت کو تباہ کیا۔ ایسے حالات میں ہندوستان کا ذی شعور طبقہ اور محب وطن ہندوستان کی آزادی کیلئے ہمیشہ بے چین رہتے۔ اسی وجہ سے ٹیپو سلطان حاکم میسور نے پہلی بار انگریزوں کے ساتھ جنگ کی اور ۱۷۹۹ ء میں سری رنگا پٹنم میں شہید ہوئے۔ اس قربانی کے بعد بھی لگاتار ہندوستان کی آزادی کیلئے انگریزوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ۔ ۱۸۵۷ء میں باضابطہ جنگ آزادی کی پہلی لڑائی ہوئی اور اس وقت سارے ہندوستان میں حب الوطنی کا جذبہ دیکھتے بنتا تھا ۔ کیونکہ انگریزوں نے لاکھوں ہندوستانیوں پر ظلم وجبر کئے ۔ اسی ظلم اور جبر کے خلاف ہندوستان میں بہت ساری تنظیموں ، دانشوروں نے اپنے اپنے طور پر جدوجہد جاری رکھا ۔ ایک طرف مہاتما گاندھی، نیتا جی سبھاش چند بوس اپنے مدبرانہ قیادت کے ساتھ ہندوستان کی عوام کو جنگ آزادی کیلئے تیار کرتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ کچھ ایسے انقلابی نوجوان بھی تھے جنہوں نے یہ محسوس کیا کہ انگریزوں کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ انکے خلاف انقلابی کاروائی کی جائے اس کے تحت بھگت سنگھ، راج گرووغیرہ نے انگریزی حکومت کے خلاف قدم اٹھایا اور انہیں جام شہادت نوش کرنا پڑی۔۱۹۰۰ء میں اشفاق اللہ خاں اتر پردیش کے شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے اور بہت ہی کم عمر سے ہی ان میں بڑی صلاحیت تھی وہ ایک خوبصورت نوجوان تھے اور حب الوطنی سے سرشار وہ ایک انقلابی شاعر بھی تھے ۔ ان کے سب سے نزدیکی ساتھی رام پرشاد بسمل تھے ۔ ایسے ہی کچھ نوجوانوں نے ہندوستان ریپبلیکن ایسوسی ایشن کا قیام کیا ۔ جس میں رام پرشاد بسمل کے علاوہ وارانسی سے راجندر لاہیری، بنگال سے سچندر ناتھ بخشی اور کیشب چکرورتی ، اناؤ سے چندر شیکھر آزاد، رائے بریلی سے بنواری لال، اٹاوہ سے مکندی لال، بنارس سے منماتھ ناتھ گپتا اور شاہجہاں پور سے مراری لال اور اشفاق اللہ خان جیسے جیالے شامل تھے۔آئر لینڈ کی طرز پر سرکاری خزانہ کے لوٹ کے بعد اس سے حاصل رقم کو ملک کی آزادی کیلئے استعمال کرنے کی تجویز پر حالانکہ شروع میں اشفا ق اللہ خان مخالفت کرتے رہے انکا کہنا تھا کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں اس طرح کی حرکت سے انگریزی حکومت مجاہد آزادی کی کوششوں کو چکنا چور کردینگے مگر انہوں نے کہا کہ اگر جماعت کی یہ تجویز اتفاق رائے سے منظور ہوتی ہے تو ہم اس کے ساتھ ہیں اور اسی فیصلہ کے بعد کاکوری ٹرین لوٹ کو انجام دیا گیا اور اسکے بعد وہ اس عمل کے بعد روپوش ہوگئے اور مختلف شہروں میں گئے اور حتیٰ کے ڈالٹین گنج میں ملازمت کی ۔ راجستھان بھی گئے ۔ راجتھان میں انکی خوبصورتی پر وہاں کی دو لڑکیاں ان پر فدا بھی ہوگئیں ۔ انہوں نے خطرہ محسوس کیا کہ انکی انقلابی سرگرمیوں پر اثر ہوگا تو وہاں سے فرار حاصل کرکے دوسرے شہر گئے جہاں ایک مسلم داروغہ نے ہی انکو گرفتار کیا انکو سرکاری گواہ بننے کے علاوہ طرح طرح کے آفر ہوئے مگر انہوں سب ٹھکرایا اور بالآخر جام شہادت نوش فرائی۔ ماہر تعلیم عبد الرحمان مدنی نے اس موقع پر شہید اشفاق للہ خان کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں کس مٹی کا ہوں یاروں میری پہچان لکھ دینا۔ کفن کے ایک ایک کونے پر ہندوستان لکھ دینا۔ حب الوطنی آدھا ایمان ہے اوراسکی مثال بناکر جنگ آزادی میں بہت سارے لوگوں نے قربانیاں دیں ۔ جن میں ایک نام اشفاق اللہ خاں کا بھی ہے ۔ ہندوستان کی سرزمیں قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ رہی ہیں ۔ رام پرشاد بسمل سے دوستی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار بخار کی حالت میں جب رام رام کہنے لگے تو لوگوں نے سمجھا کہ پتہ نہیں اشفاق نے ذہنی توازن کھودیا ہے لیکن سچائی یہ تھی کہ وہ اپنے دوست رام پرشاد بسمل کو رام رام کہ کر تکلیف کی حالت میں پکار رہے تھے ۔ رام پرشاد بسمل آریہ سماجی تھے ۔ اور دوسر ی طرف اشفا ق اللہ پکے مسلمان تھے ۔ اپنے اپنے مذہب کے پابند دونوں دوست رام پرشاد بسمل اور اشفاق اللہ خاں کی دوستی قسمیں کھائی جاسکتی ہیں اور اسی ہندو مسلم اتحاد نے ہندوستا ن کو آزاد کرایا مگر اس میں انگریزوں نے ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے طرح طرح کی چالیں چلی اور بالاخر وہ کامیاب ہوا اور ملک کی تقسیم کے ساتھ ہندو مسلم اتحاد بھی پارہ پارہ ہوگیا اور دونوں فرقے کے لوگوں میں ایک دوسرے کے ذہن میں شک و شبہات نے جگہ لے لی اور دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے اور یہ سلسلہ آج بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اشفاق اللہ خاں جیسے نوجوانوں نے ملک کی آزادی کی خاطر اور ہندو مسلم اتحاد کی خاطر جو جانیں دی ہیں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگ ملک سے محبت کریں اور وہی ہندو مسلم اتحاد قائم کرنے کی کوشش کریں ۔معروف سیاسی و سماجی رہنما باری اعظمی نے شہید اشفاق اللہ خاں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ہی لوگوں کی قربانیوں سے ہمار ا ملک آزاد ہوا۔ اشفاق اللہ چاہتے تو وہ بھی عیش و عشرت میں اپنی زندگی گزارتے مگر ملک کی آزادی کیلئے بے متفکر رہنے والے اشفاق نے محض ۲۷ سال کی عمر میں شہادت پائی۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار رہے۔ ہندوستان ری پبلیکن ایسو سی ایشن کے وہ فعال رکن تھے جو اس وقت انقلابی نوجوانوں کی ایک فعال تنظیم تھی۔ ایک بار وہ لوگ کسی مند ر میں میٹنگ کررہے تھے کہ کچھ مسلم نوجوانوں نے آکر مندر پرحملہ کرنے کی کوشش کی تو اشفاق اللہ خان نے اپنے تیور دکھاتے ہوئے کہا کہ مندر کی عزت کا بھی ہمیں خیال رکھنا ہے ۔ رام پرشاد بسمل کے ساتھ انکی دوستی بھی عدیم المثال تھی۔ گاندھی جی نے جب ترک موالات تحریک کو درمیان میں ہی ختم کرنے کا اعلان کیا تو اسیے انقلابی نوجوان خون کے آنسو پی کر رہ گئے اور اسی غصہ نے انکو اند ر سے مضبوط بنایا اور ملک کی آزادی کیلئے انقلابی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا ۔ محض ۲۷ سال کی عمر میں جام شہادت نوشکرنے کے بعد سے لے کر آج تک ہندوستانی نوجوانوں کے قومی ہیرو کی شکل میں جانے جاتے ہیں۔ آج ہم شہید اشفاق اللہ خان کی قربانیوں کو فراموش کردیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ جس مقصد کے تحت انہوں نے قربانیاں دی ہیں ان اصولوں اور خطوط پر چل کر ہی ہندوستان کو متحد اور منظم چلایا جاسکتا ہے ۔اس موقع پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بہار چیپٹر کے سکریٹری جنرل انوارالہدیٰ اشفاق اللہ خان کی شہادت کو ہندوستان کا نوجوان بلا تفریق مذہب و ملت یاد کرتا ہے اور آج بھی وہ ایک قومی رہنما کی شکل میں یاد کئے جاتے ہیں ۔ اشفا ق اللہ خان آج بھی نوجوانوں کے یو تھ ائکن ہیں۔ مگر اب کچھ دنوں سے دیکھا جارہا ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو فراموش کر چکے ہیں ۔ اس ملک کی آزادی میں جہاں سبھوں کا خون بہا ہے وہاں مسلم قوم کے کئی جیالوں نے جام شہادت نوش فرمائی ہے۔ ایسے ایک بہادر نوجوان کا نام شہید اشفاق اللہ خاں ہے ۔ آج ہم انکو یاد کرنے کیلئے یہاں موجود ہیں ۔ اپنے شہید کو یاد کرنا چاہیئے اور یہ سلسلہ اب یہاں بھی قائم ہونا چاہیئے۔ جس قوم نے اپنے اسلاف کی قربانیوں کی بھلادیتا ہے وقت بھی انکو فراموش کردیتی ہے۔ اشفاق اللہ خاں محض ۲۷ سال کی عمر میں ہی شہادت پائی۔ وہ ۲۲ ؍ اکتوبر کو اتر پردیش کے شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے تھے ۔ انکے والد شفیق اللہ خان کا تعلق ملٹری سے تھا ۔ انکا نانیہال انگریزی حکومت میں کافی پڑھا لکھا اور اونچے عہدے پر متمکن تھا ۔ اشفاق اللہ اپنے چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ انکی والدہ کافی مذہبی خاتون تھیں۔انکے بڑے بھائی ریاست اللہ خان مشہور مجاہد آزادی رام پرشاد بسمل کے ہم مکتب تھے۔ اشفا ق اللہ خان کی قربانیوں کے صلہ میں ملک اور ملت کی خدمت کرنی چاہیئے۔ جمعیت العلماء بہار کے فعال رکن مولانا سعد احمد قاسمی نے اس موقع پر کہا کہ شہید اشفا ق اللہ خان نہ صر ف آزادی کے شیدائی تھے بلکہ حب الوطنی کی ایک مثال تھے۔ ملک کی آزادی کیلئے مسلمانوں نے بھی زبردست قربانیاں پیش کی ہیں ۔ دھوکہ سے دلی کی حکومت پر قابض انگریزوں نے ۱۸۰۳ء پر دلی پر اپنا تسلط قائم کیا اور یہیں سے ملک کو آزاد کرانے کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے ۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے فتویٰ کے بعد انگریزوں کے ذریعہ انکو زود کوب بھی کیا ۔ ۱۸۵۷ء میں ملک کی پہلی جنگ آزادی کی قیادت مسلمان ہی کر رہے تھے اور اس میں دونوں قوموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور لاکھوں لاکھ لوگ شہید ہوئے ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا پھر اشفاق اللہ خاں جیسے انقلابی نوجوانوں نے بھی اپنی جانوں کی قربانیاں دیں ۔ تمام فرقہ کے لوگوں کی قربانیوں کے بعد ہی یہ ملک آزاد ہوا ہمیں اپنے اسلاف کو یاد رکھنا چاہیئے ۔ انلوگوں کی قربانیاں بیش قیمتی ہیں ۔علمی مجلس بہار کے جنرل سکریٹری پرویز کے شکریہ کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئیاس موقع پر پرویز عالم، معصومہ خاتون، انظار عالم، محمدنسیم، غٖفران عالم، محمد عارف، محمد اسلم، محمد ٖفخر الدین، ارشاد عالم کے علاوہ درجنوں نوجوان موجود تھے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں