کانگریس میں شامل ہوسکتے ورون گاندھی۔
سلطان پور(یواین اے نیوز 29اکتوبر2017)سلطان پور سے بی جے پی ایم پی ورون گاندھی کے کانگریس میں شامل ہونے کے سیاسی گلیاروں میں بحث زور پکڑ رہی ہے، واضح رہے کہ ورون گاندھی کو بی جے پی کی طرف سے مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے،پرنکا گاندھی کی کانگریس میں آنے کی صلاح کے بعد سے اور ہل چل مچی ہے۔ورون گاندھی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے پارلیمنٹ سے اپنی رکنیت سے استعفی دے کر گانگریس میں شامل ہو سکتے ہے، کانگریس کے ذرائع کے مطابق ورون گاندھی کو کانگریس میں ایک بڑا عہدہ دیا جا سکتا ہے.ذرائع کی مانیں تو کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کو پارٹی کی کمان ملتے ہی ورون گاندھی کو کانگریس میں قابل احترام عہدے دے کر اہمیت دی جا سکتا ہے.ذرائع کے مطابق، پریکا گاندھی نے ورون گاندھی سے گھر واپسی کے بارے میں بات کی ہے.ورون گاندھی کے حالیہ تیور بھی مرکزی حکومت کے تئیں تیکھے رہے ہیں، چاہے روہنگیا کا معاملہ ہو یا پھر بے روزگاری ورون گاندھی کے تیور بی جے پی کے سر سےسر نہیں مل رہے ہیں۔واضح طور پر،ورون گاندھی نے کبھی بھی راہل گاندھی کے خلاف کسی ریلی میں کبھی بھی غلط نہیں کہا ہے. راہل گاندھی نے بھی اپوزیشن پارٹی میں رہنے کے باوجود بھائی ورون گاندھی یا چاچی مینکا گاندھی کے خلاف کبھی براہ راست کچھ نہیں کہا.اگر ورون کانگریس میں آتے ہیں تو تقریبا ساڑھے تین دہائی بعد نہرو خاندان میں اتحاد ہو سکتی ہے اس سے پارٹی کے کارکنان کا حوصلہ بڑھے گا ایسی امید کانگریس لیڈروں کو ہے ورون گاندھی کی پیلی بھیت، سلطانپور، لکھیم پور کھیری ضلع میں پکڑ ہے اس سے کانگریس کو فایدہ پہنچ سکتا ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں