تازہ ترین

اتوار، 29 اکتوبر، 2017

ہندوتووادی ہندوستانی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کیوں کررہےہیں؟مولانا عبدالحمید نعمانی۔


ہندوتووادی ہندوستانی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کیوں کررہےہیں؟مولانا عبدالحمید نعمانی۔
مکرمی۔ہندوتو وادیوں کی ،بہت دنوں سے کوشش ہے کہ اپنی پسند کی تاریخ لکھی جائے، چاہے سچ کا قتل عام اور ماضی کو لہولہان ہی کیوں نہ کرنا پڑے، قدیم تاریخ ہویا جدید تاریخ، دونوں میں جو ہوا وہ دکھانے کے بجائے، صرف اپنی پسند دکھانا چاہتے ہیں، مشہور مورخ ارجن دیو کی کتاب شائع کرنے سے انا کانی اسی کا حصہ ہے، بڑی تیزی سے ماضی کو حال میں بدل کر سامنے لانے کا کام ہو رہا ہے، حالاں کہ حال کے لوگوں کا ماضی پر کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے، اگر ماضی میں مہارانا پرتاپ اکبر سے ہار گیا تھا تو آج اسے فاتح کیسے دکھایا جا سکتا ہے؟ اگر شاہ جہاں نے کل تاج محل بنوایا تھا تو آج یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس نے ایک شیو مندر یا ہندو بھون میں اپنی بیوی کو دفن کر دیا تھا، تاج محل یقیناً بھارت کے پیسے سے بنا ہے، جیسا کہ اور بھی سرکاری عمارات بنی ہیں، لیکن شاہ جہاں کا کام ایک تاریخ ہے، کچھ بے شعور لوگ اسے مٹانے اور ڈھانے کی بات کر کے اپنے انہدامی ذہن کا ثبوت دے رہے ہیں، تاریخ میں بہت زیادہ ادبیت، لفاظی اور طنز سے کام نہیں چلتا ہے، تاج محل کے متعلق ساحر لدھیانوی کا تبصرہ محض ایک شاعری ہے، روٹی، کپڑا اور مکان سے آگے بھی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں، غریبوں کے ذہن ودل میں بھی تو تاج محل ہوتا ہے چاہے جیسا ہو، خواہ مٹی کا ہی کیوں نہ ہو، محبت کی نشانی اور مزاق کی بات میں فرق ہوتا ہے، تاریخ بنانا اور اس کو بچانا دونوں اہم ہیں، گزشتہ کچھ عرصے سے تاریخ کے حوالے کو غائب کرنے اور بدلنے کی زبردست مہم چلائی جا رہی ہے، ہمارے قابل ذکر اداروں کو چاہیے کہ ان کو محفوظ کرنے پر توجہ دیں ورنہ آج کا سچ، کل جھوٹ بن جائے گا، آج جمعیتہ علماء ہند کی ایکتا سمیلن ہوری ہے، اللہ کرے اس میں کوئی اس پر توجہ دے، دلا دے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad