تازہ ترین

بدھ، 22 فروری، 2023

ہم مومن ہیں یا مسلمان ؟ ۔۔ ایک جائزہ

ہم مومن ہیں یا مسلمان ؟  ۔۔ ایک جائزہ

تحریر: مسعودجاوید

جب ہم اپنے ساتھ اپنے ارد گرد کا جائزہ لیتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ قرآن کریم کی آیت قَالَتِ ٱلْأَعْرَابُ ءَامَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُواْ وَلَٰكِن قُولُوٓاْ أَسْلَمْنَا کی زبان میں ہم مسلمان ہیں مومن نہیں‌ ۔ 


مومن ہوتے تو ہمیں آخرت کی فکر ہوتی۔ اور جب آخرت کی فکر ہوتی تو ہمارے اعمال حقیقی ایمان کے مظہر ہوتے۔ 


مومنوں سے کہا گیا کہ قبرستانوں سے گزرا کرو تاکہ مرنے کے بعد کی زندگی پر تمہارا ایمان تازہ ہوتا رہے۔  لیکن یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ جنازہ کے ساتھ چل رہے ہیں اور گپ شپ ہنسی مذاق اور غیبت کرتے چل رہے ہیں۔ تدفین کے بعد واپس آتے ہیں اور کھانے پینے میں مشغول اس کے بعد قرآن خوانی کے نام پر قورمہ بریانی کی تیاری ! 


منافقین ، مقامی زبان میں اگر کہا جائے تو داڑھی ٹوپی،  یعنی ظاہری طور پر  مسلمان تھے لیکن لا إله إلا الله، محمد رسول الله، آمنت بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره من الله تعالى والبعث بعد الموت پر ان کا ایمان نہیں تھا  فقط اقرار باللسان تھا۔  ہم ان سے اگر مختلف ہیں تو ہمارا  ایمان بالقلب ہوتا اور پھر ہماری کیفیت وہی ہوتی جو رمضان میں ایک روزے دار کی ہوتی ہے کہ گھر میں اکیلا ہے پیاس کی شدت ہے فریج میں پانی بھی ہے پھر بھی نہیں پیتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔  دوسرے گناہوں کے ارتکاب کے‌ وقت ہماری یہ کیفیت کیوں نہیں ہوتی ہے ! 


جب تک مرنے کے بعد قبر، عالم برزخ، قیامت کے روز حساب کتاب اور جنت و جہنم کی حقیقت یعنی ہمارا عقیدہ ہمارے دلوں میں راسخ نہیں ہوگا ہم جائز ناجائز ، حلال حرام ، بھلائی کے کام کرنے اور برائی سے بچنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ 



اللہ نے ہمیں خیر امت کہا ہے اور خیر امت ہونے کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے اعمال اور اخلاق کے ذریعے دین اسلام سے لوگوں کو متعارف کرائیں۔ 


ترکی میں زلزلہ ہو یا اپنے ملک میں قدرتی آفات و مصائب، یہ ہمیں بیدار نہیں کرتے ہیں۔

 موت کا خوف تو ہمارے دلوں میں ہے لیکن موت کے بعد کی زندگی کا ہمیں احساس نہیں ہے۔ قبرستان کے پاس سے ہمارا گزر ہوتا ہے لیکن ہم خبر دار نہیں ہوتے ہیں کہ ایک روز ہمیں بھی یہاں بلا یارومددگار دفن ہونا ہے۔ دنیا میں ہر کام میں رسک ہے وہ کام  ہوگا بھی یا نہیں یہ یقینی نہیں ہے  لیکن موت ایک واحد شئ ہے جو ہر ذی روح ہر جاندار کو لا محالہ آئے گی اور مقررہ وقت پر آئے گی ۔  ضروری نہیں اسی برس پورے ہونے پر آئے۔ بچے اور جوان بھی ناگہانی موت کے لقمے بن رہے ہیں۔  


آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں
موت کا یقین تو ہر انسان کو ہے لیکن موت کے بعد کے ادوار کا یقین مومنین کو ہے ۔ کاش مسلمانوں کو بھی ہوتا! یہ مثل بہت مشہور ہے کہ قبر میں پاؤں لٹک چکے ہیں پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا ہے۔ دوسروں کے حقوق ادا نہیں کر رہا ہے، غصب کر رہا ہے اور اس کے لئے طرح طرح کی تاویل کر کے لوگوں کی نظروں میں سرخ رو ہو رہا ہے لیکن اصل اسکور وہ ہے جو اللہ کے یہاں شمار ہوگا ۔ 


تو اصل بگاڑ کی وجہ ہے موت کے بعد کے ادوار کے احساسات سے عاری ہونا۔ 


پولیس کے ڈنڈے سے ڈر کر اگر آپ جرم کرنے سے باز رہتے ہیں تو آپ ایک اچھے اور ذمہ دار شہری نہیں ہیں۔ ذمہ دار شہری وہ ہوتا ہے جو دستور کے مطابق اپنے حقوق کا استعمال کرتا ہے اور فرائض ادا کرتا ہے۔ اسی طرح مومن وہ ہے جو آخرت کے حساب وکتاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے اعمال اور اخلاق کو شریعت کے مطابق ڈھالتا ہے۔ 


ہم مسلمان اپنے نام اور وضع قطع ، لباس اور کھانے پینے کی عادات طور طریقوں کے اعتبار سے ہیں لیکن ایمان کا پیمانے پر پورا نہیں اترتے ہیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad