تازہ ترین

پیر، 6 فروری، 2023

تعلیم نسواں کیلئے مدرسہ اسماء عربک کالج کی خدمات بے مثال

جونپور  (حاجی ضیاء الدین )ضلع مرکز سے تقریبا ۲۸ کلو میٹر دور واقع شاہ گنج تحصیل کا کافی اہمیت کا حامل گاؤں پارہ کمال جہاں ایک سے بڑھ کر ایک لعل وگوہر پیدا ہو ئے ہیں کثیر مسلم آبادی والے مذکورہ گاؤں کے مسلمان سر کاری نوکریوں کے علاوہ سیاسی شعبہ میں اپنی لیاقت کا لوہا منوایا ہے گاؤں میں ایم ایل اے ، وزیر ۔بلاک پر لکھ۔ضلع پریشد ، ماسٹر، ڈاکٹر وریلوے میں ملازمین پیدا ہو ئے ہیں ان میں سے ہی ایک ممتاز نام ڈاکٹر عبدالوحید قاسمی کا ہے جنہوں نے تعلیم نسواں کے لئے مثالی کام کیا ہے ان کے ذریعہ لگایا گیا پودا اب تناور درخت بن چکا ہے.

 اور جونپور کے علاوہ اعظم گڑھ ضلع کے سرحدی گاؤں کی ہزاروں طالبات علوم دینیہ وغیرہ سے فیض یاب ہو کر امور خانہ داری سے لے کر دیگر شعبے میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں   تو وہیں ڈاکٹر عبدالوحید قاسمی کی تصانیف سے لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں ۔ڈاکٹر عبدالوحید قاسمی کی پیدائش ۱۹۵۸ میں ہوئی ان کے والد کا نام مولانا عبدالرشید تھا ان کے نانا بھی مشہور عالم دین تھے کم عمری میں والد کا انتقال ہو گیا ابتدائی تعلیم گاؤں کے نزدیک ادارہ علوم اسلامیہ اسرہٹہ  میں ہوئی اس کے بعد عربی چہارم تک کی تعلیم شاہ گنج واقع مدرسہ بدرالاسلام میں ہوئی اور اعلی تعلیم کے لئے دیو بند چلے گئے۔


 اور ۱۹۷۷ میں فضیلت کی ڈگری حاصل کر نے کے بعد ۱۹۸۱  میں لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن تک کی تعلیم مکمل کی اور ۱۹۸۷ میں ممبئی یونیورسٹی سے عربی میں پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد بنارس ہندو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی بچپن میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ جا نے کے بعد تمام تر مسائل در پیش ہو نے کے بعد بھی حصول تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ کیا اور اپنے ہدف کو پورا کر نے میں لگے رہے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ عزم ہو تو نامساعد حالات میں بھی منزل کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔

 اس دوران شہر کے مدرسہ قرآنیہ میں بطور صدر مدرس تعینات ہوئے اور ۳۲ سالوں کی خدمت کے بعد سبکدوش ہوگئے۔ ڈاکٹر عبدالوحید قاسمی نے بتایا کہ تعلیم نسواں کے لئے دل میں ایک کڑھن تھی کیوں کہ مذہب اسلام کی تعلیمات کثرت کے ساتھ امہات المومنین کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے اور علاقہ میں تعلیم نسواں کا نظام نہ ہونے سے معمولی تعلیم دلواکر لڑکیوں کو گھروں میں بٹھال دیا جاتا تھا جس سے بہت بڑا نقصان ہوتا تھا۔


 اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دوران مکاتب گھریلو خواتین ہی گھر میں بچوں کو قر آن ، دنیات وغیرہ کی تعلیم دلوانے میں مدد گار ثابت ہوا کرتی تھیں تب جاکر حصول تعلیم کا مقصد پورا ہوتا تھا کہتے ہیں کہ بچے کی اول تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے لیکن کسی ماں کی گود ہی تعلیم و تربیت سے خالی ہو تو وہ اپنے بچوں کو کیا تربیت دے پائے گی یہی کرب دن و رات کھائے جا رہا تھا کہ ۱۹۹۹ میں کھیتا سرائے قصبہ میں کرائے کے مکان میں تعلیم نسواں کے لئے مدرسہ اسماء عربک کالج کے نام سے چند مخلص افراد کے مشورے سے ۳۵ بچوں کے ساتھ ابتداء کر دی گئی۔


 ابتدائی زمانے میں معاشرے میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانا عیب سمجھا جاتا تھا اس کے لئے اپنے ذرائع سے گاؤں گاؤں جاکر جلسہ کرنا پڑا لوگوں کو ترغیب دی گئی اور لوگ اپنی بچیوں کو تعلیم دلوانے کے لئے راضی ہو ئے تو طالبات کی کثرت ہو نے لگی اس کے بعد اسماء عربک کالج کے لئے ۲۰۰۲ میں  پارہ کمال گاؤں کے نزدیک گوراری خلیل پور میں چند کمرے تیار کروائے گئے اور علاقہ کے لوگ بیدار ہوتے گئے اور اسماء عربک کالج کی توسیع ہوتی گئی موجودہ وقت میں تقریبا دو ہزار کے قریب طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں جس میں عربی بورڈ سے عالیہ تک اور یوپی بورڈ سے ہندی میڈیم اور انگلش میڈیم سے بارہویں تک منظوری حاصل ہے ۔


ڈاکٹر عبدالوحید قاسمی نے بتایا کہ ابتدائی زمانے میں بچیوں کی آمدو رفت جہاں ایک مسئلہ تھا وہیں معلمات کا ملنا بھی دشوارتھا علماء کرام بھی تعلیم نسواں کے حق میں نہ تھے پھر بھی حوصلہ کم نہ ہوا اور اللہ کا شکر ہے کہ علاقہ میں اسماء عربک کالج کی فارغین طالبات کی کثرت پائی جاتی ہے نسواں ڈگری کالج کے قیام کا منصوبہ ہے امید ہے کہ کامیابی ضروری ملے گی ڈاکٹر عبد الوحید قاسمی کے ذریعہ لگایا گیا علمی پودہ جہاں لوگوں کو فیض پہنچا رہا ہے وہیں ان کی تصانیف جس میں ۱۹۸۷ میں شائع ہوئی گھر اور مسائل تربیت ، آنگن کا چراغ ، کرامت علی جونپوری حیات و خدمات ، شاہراہ دعوت و تر بیت ،عقائد الاسلام عربی تصنیف کے علاوہ شعری مجموعہ کلام وحید سے لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں۔


 ڈاکٹر عبدالوحید قاسمی کے بڑے بیٹے ڈاکٹر فخرالدین وحید عربی زبان میں جے این یو سے پی ایچ ڈی ہیں اور شاہ گنج کے موضع صبرحد میں حفاظ اور عالم طلباء کو ماڈرن علوم سے جوڑنے کے مقصد سے تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں ہمام وحید ایل ایل ایم تک کی تعلیم کے بعد کانگریس پارٹی سے وابسطہ ہیں اور ان دنوں کانگریس پارٹی کے ترجمان کے عہدے پر فائز ہیں عمار وحید ایم اے بی ایڈ کی تعلیم سے فراغت کے بعد اپنے والد کے ساتھ اسماء عربک کالج کا تعلیمی نظام دیکھ رہے ہیں۔


 عازب وحید بی ایس سی میں زیر تعلیم ہیں وہیں ڈاکٹر عبدالوحید قاسمی کی ۶ بیٹیاں عالمہ اور ایم اے تک فارغ ہیں جس میں چند بیٹیاں شادی ہوجا نے کے بعد امور خانہ کی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad