تازہ ترین

پیر، 20 فروری، 2023

تعلیم نسواں کے فروغ کے بغیر سماج میں تبدیلی ناممکن : اسمعیل ندوی

تعلیم نسواں کے فروغ کے بغیر سماج میں تبدیلی ناممکن : اسمعیل ندوی

جونپور (حاجی ضیاء الدین ) کھیتا سرائے تھانہ حلقہ کے موضع جمدہاں واقع جامعتہ الصالحات میں سالانہ جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مدرسہ سلیمانیہ اور جامعتہ الصالحات کے طلبہ و طالبات نے تہذیبی و ثقافتی پروگرام پیش کیا ۔پہلی نشست میں جامعتہ الصالحات کی نشست کی نظامت اسماء فلاحی نے کی ۔کلثم نجم السحر کے ذریعہ تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہو درس حدیث لائبہ راشد نعت ثانیہ انصار نے پیش کیااستقبالیہ نظم نازیہ عبدالولی نے پیش کیا ۔


جامعہ کی طالبات کے ذریعہ قر آن مجید ، والدین کے حقوق ، خدمت ،معاشرے کے حالات وغیرہ پر جامع خطاب کیاگیا۔وہیں بعد نماز مغرب دینی جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت حافظ کمال الدین استاد مدرسہ سلیمانیہ اور نظامت فیضی نعمانی نے کیا ۔


اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے مہمان خصوصی اسمعیل ندوی نے کہا کہ مذہب اسلام میں سب سے پہلا حکم پڑھنے کا آیا ہے جن قوموں نے سنجیدگی کے ساتھ حصول تعلیم پرتوجہ دی کامیابی کا پرچم بلند کیا ہے جس طرح چھوٹے بچوں نے تقریروں و فن کاری کے ذریعہ سماج کو علمی طور پر بیدار کر نے کی کوشش کی ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔انھوںنے مزید کہا کہ دور حاضر میں لوگ تعلیم کو پیسوں سے خریدنا چاہتے ہیںوہ سمجھتے ہیں کی اسکولوں میں داخلہ کرا دینے سے ہم ذمہ درایوں سے سبکدوش ہو گئے ۔


اب تعلیم و تربیت کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری اساتذہ کی ہوگئی ایسے لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں تعلیم کے تئیں بچوں کی نگرانی والدین کے ذمہ ہو تی ہے استاد یقینا یہ کوشش کر تا ہے کہ مدرسہ کا ہر طالب علمی پروان چڑھ کر ملک اور علاقہ میں نام روشن کر سکے جب تک سر پرستوں کی جانب سے بچے کی حوصلہ افزائی نہیں ہو تی ہے بچہ تعلیمی میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا ہے ۔انھوںنے کہا کہ جب کوئی لڑکا پڑھتا ہے تو فرد پڑھتا لیکن جب کوئی لڑکی پڑھتی ہے تو خاندان پڑھتا ہے بہتر سماج کی نش و نما خواتین کے بغیر ممکن نہیں ہے کیوں کہ سماج میں تبدیلی خواتین کی حمایت و تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔


 اس لئے تعلیم نسواں کے فروغ کے بغیر سماج میں تبدیلی لانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ہے اللہ کا شکر ہے کہ پردہ میں رہتے ہوئے بچیاں بخاری و ترمزی کی حدیث کو یاد کر رہی ہیں اور امید ہے کہ مذہبی اسلامی کی آبیاری کر نے میں یہی بچیاں مدد گار ثابت ہو ں گی آج کا نہو نہال آنے والا مستقبل کا اثاثہ ہے اس لئے ہمیں اپنے اثاثہ کو بچانے کی ضرورت ہے۔


جامعہ کے ناظم حافظ پر ویز احمد نے کہا کہ تعلیم نسواں اور مکتب کے فروغ کی ضرورت ہے اگر بیداری کا ثبوت نہ دیا گیا تو گھروں سے مذہب اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور ہم صرف نام کے مسلما ن رہ جائیں گے ،اس موقع پر محمد فیصل ندوی ، محفوظ احمد ، ڈاکٹر شکیل احمد ، حاجی حطیم احمد ، شیخ محمد ہارون ، اسرائیل پر دھان ، حافظ محمد راشد وغیرہ خصوصی طور پر موجو د تھے  
خطاب کر تے ہوئے مولانا اسمعیل ندوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad