عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ،پنجاب
رابطہ 9855259650
دنیا میں جب بھی کہیں آہنسا کے دم پر جدو جہد آزادی کی لڑائی لڑنے والوں کی بات چلتی ہے تو بابائے قوم مہاتما گاندھی کا نام سر فہرست آتا ہے.
آج بے شک مہاتما گاندھی کو شہید ہوئے سات دہائیوں سے اوپر ہو چکے ہیں. اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مہاتما گاندھی کی شخصیت کی حیرت انگیز مقبولیت میں اب تک کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
پورے عالم میں اہنسا کے دوت کے طور پر جانے جاتیمہاتما گاندھی کا دراصل پورا نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا۔آپ 2 اکتوبر کو صوبہ گجرات میں پیدا ہوئے۔ جب ہم مہاتما گاندھی جی کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے مشاہدہ میں یہ بات آتی ہے کہ جنوبی افریقہ میں وکالت کے دوران گاندھی جی نے رہائشی ہندوستانی باشندوں کے شہری حقوق کے سنگھرش کے لیے شہری نافرمانی کا استعمال پہلی بار کیا۔ 1915ء میں ہندوستان واپسی کے بعد، انہوں نے کسانوں اور شہری مزدوردں کے ساتھ بے تحاشہ زمین کی چنگی اور تعصب کے خلاف احتجاج کو بام عروج تک پہنچا یا۔
جبکہ 1921ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالنے کے بعد، گاندھی نے ملک سے غربت کم کرنے، خواتین کے حقوق کو بڑھانے، مذہبی اور نسلی خیرسگالی، چھوت چھات کے خاتمہ اور معاشی خود انحصاری کو بڑھانے کی مہم کی قیادت کی۔ انہوں نے بھارت کوغیر ملکی تسلّط سے آزاد کرانے کے لیے سوراج کا پر عزم راستہ اختیار کیا۔اس کے علاوہ گاندھی نے مشہور عدم تعاون تحریک کی قیادت کی۔ اس کے ساتھ ہی 1930ء میں انہوں نے برطانوی حکومت کی طرف سے عائد نمک چنگی کی مخالفت میں 400 کلومیٹر لمبا دانڈی نمک مارچ شروع کیا اس کے بعد 1942ء میں انہوں نے بھارت چھوڑو تحریک کا آغاز کیا۔
آگے چل کر ہندوستان کے سیاسی اور روحانی رہنما اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار بنے۔ آپ نے حصول آزادی کے لیے ستیہ گرہ اور عدم تشدد کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ستیہ گرہ، ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی تحریک تھی جو عدم تشدد پر مبنی تھی۔یہی تحریک آگے چل کر ساری دنیا کے لیے حقوق انسانی اور آزادی کی تحاریک کے لیے روح رواں ثابت ہوئی۔
جب انڈین نیشنل کانگریس اور مہاتما گاندھی برطانیہ پر بھارت چھوڑنے کا دباؤ بنا رہے تھے تو 1943ء میں مسلم لیگ ملک کو تقسیم کرنے اور چھوڑ نے کی قرارداد منظور کیا، مانا جاتا ہے کہ گاندھی ملک کو تقسیم کرنے کے مخالف تھے اور مشورہ دیا کہ ایک معاہدہ کے تحت کانگریس اور مسلم لیگ کی تعاون سے ایک عارضی حکومت کے تحت آزادی حاصل کی جائے۔ اس کے بعد تقسیم کے سوال پر مسلم اکثریت کے اضلاع میں ایک رائے شماری کے ذریعے حل ہو سکتا ہے لیکن محمد علی جناح براہ راست کارروائی کے حق میں تھے۔ 16 اگست 1946ء کو گاندھی مشتعل تھے اور فسادات زدہ علاقوں کا دورہ کر قتل عام کو روکنے کی ذاتی طور پر کوشش کی۔ انہوں نے بھارتی ہندو، مسلمان اور مسیحی کی اتحاد کی مضبوط کوشش کی۔ اور ہندو سماج میں“اچھوت”کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔
چنانچہ 14 اور 15 اگست، 1947ء کو برطانوی ہندوستانی سلطنت نے بھارتی آزادی ایکٹ پاس کر دیا، جو قتل عام اور
12.5 لاکھ لوگوں کے منتقلی اور کروڑوں کے نقصان کی گواہ بنی۔ ممتاز نارویجن تاریخ داں جینس اروپ سیپ کے مطابق گاندھی کی تعلیمات، اس کے پیروکاروں کی کوشش اور ان کی اپنی موجودگی تقسیم کے دوران میں نقصانات کو کم تر کرنے میں کامیاب رہی. اس ضمن میں اسٹینلے والپرٹ گاندھی کے کردار اور خیالات کا خلاصہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
”برطانوی ہند کو باٹنے کا منصوبہ گاندھی کو کبھی منظور نہیں تھا۔ تاہم انہیں احساس ہو چکا تھا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ ان کے ساتھیوں اور حواریوں کو اصول سے زیادہ اقتدار میں دلچسپی ہے، اور وہ اپنے اس بھرم سے گھرے رہے کہ بھارت کی آزادی کی جدوجہد جس کی قیادت انہوں نے کی وہ ایک بے تشدد تھی۔”
30 جنوری 1948ء کو ایک عبادتی خطبے کے لیے جاتے وقت گاندھی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ قاتل ناتھو رام گوڈسے ہندو مہاسبھا سے وابستہ تھا جو گاندھی کو پاکستان کو ادایئگی کے لیے مجبور کرنے اور کمزور کرنے کے لیے ذمہ دار سمجھتی تھی۔ گوڈسے اور اس کا ساتھی سازش کار نارایئن آپٹے کو عدالتی کارروائی کے بعد مجرم قرار دیا گیا اور 15 نومبر 1949ء کو ان دونوں کو پھانسی دی گئی۔ اس وقت گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ نئی دہلی میں واقع ہے۔ جواہر لعل نہرو نے ریڈیو سے قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ
”دوستوں اور ساتھیوں روشنی ہماری زندگی سے نکل گئی ہے، اور ہر جگہ تاریکی ہے، اور میں واقعی نہیں جانتا کہ آپ کو کیا بتاؤں اور کس طرح بتاؤں۔ کہ ہمارے محبوب قائد، باپو جیسا کہ ہم انکو کہتے تھے، بابا? قوم، اب نہیں رہے۔ شاید میں کہتا ہوں کہ میں غلط ہوں، پھر بھی، ہم انہیں پھر نہیں دیکھ سکیں گے جیسا کہ ہم نے ان کو کئی سالوں سے دیکھا ہے، ہم مشورہ کے لیے اس کے پاس نہ جا سکیں گے نا ان سے سکون حاصل کر پائیں گے، اور یہ کہ ایک سخت دھچکا ہے، نہ صرف میرے لیے، لیکن اس ملک کے لاکھوں لاکھ لوگوں کے لیے۔”
مہاتما گاندھی کی تعلیمات پر اگر غور کریں تو اس کی تین بنیادیں پہلو سامنے آتے ہیں آپ ہمیں ہمیشہ عدم تشدد یا آہنسا کے ساتھ ساتھ سچائی کے راستے پر چلنے کا درس دیتے ہیں اس کے ساتھ ہی انفرادی سیاسی حق رائے دہی یا سوراج کا حصول ان کے اہم نصب العین خیال کیے جاتے ہیں.
گاندھی جی امن پسندی اور صلح جوئی کے قائل تھے وہ اس لیے کیونکہ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور بدھ مت کی تعلیمات کا مطالعہ گہرائی سے کیا تھا۔گاندھی نے اپنے خیالات کا اظہار ایک مرتبہ کچھ اسانداز میں کیا کہ”میں جو کچھ دیکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ زندگی موت کی آغوش میں، سچائی جھوٹ کے درمیان اور روشنی اندھیرے کے بیچ میں اپنا وجود قائم رکھتی ہے۔ اس سے میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ خدا زندگی، سچائی اور نور ہے اور وہ محبت اور اعلٰی ترین وجود ہے۔”
ایک اور جگہ گاندھی جی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اسلام کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ“مجھیپہلے سے زیادہ اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ اسلام نے تلوار کے زور پر اپنا مقام پیدا نہیں کیا، بلکہ اس کا سبب پیغمبر کا اپنی ذات کو کاملاً فنا کرنا، حد درجہ سادگی، اپنے وعدوں کی انتہائی ذمہ داری سے پابندی، اپنے دوستوں سے انتہائی درجے کی عقیدت، دلیری، بے خوفی، اپنے مشن اور خدا پر پختہ ایمان ہے”. ایک دفعہ زمیندار اخبار میں مہاتما گاندھی کے تعلق سے چھپا تھا کہ گاندھی جی اسلام کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرزِ حکومت سے بے حد متاثر تھے اور وہ ہندوستان کے حکمرانوں کو بھی یہی مشورہ دیتے تھے کہ جہاں تک ہو اہل وطن کے لیڈران بھی مذکورہ بالا خلفا سے حکومت کرنے کی سیکھ حاصل کریں.
آج ملک اور اسکے عوام کو جس نازک دورسے گزرنا پڑ رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی. یہاں ہم سب اہلِ وطن کے یہ بات باعث تشویش ہے کہ آج ملک میں بڑھتی بے روزگاری نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جبکہ گرتی جی ڈی پی نے منفی 23.9 پوئنٹس تک گرتے ہوئے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں. اس کے ساتھ ساتھ دیش میں اقلیتوں کے ساتھ ساتھ خواتین میں پایا جانے والا عدم تحفظ کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے.
جس تازہ مثال راتھرس اور بلرام پور کے خوفناک واقعات سے عیاں ہو رہے ہیں اس کے علاوہ ملک کے کسانوں میں نئے کھیتی قوانین کو لیکر پائے جانے والے غم و غصہ کی لہر کی بھی ملک کی تاریخ میں اس سے قبل مثال نہیں ملتی. یقیناً آج جہاں کہیں بھی بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کی آتما ہوگی وہ ملک کے مذکورہ بالا حالات کو لیکر بے حد بے چین اور تشویش میں مبتلا ہوگی.
آج گاندھی جی کی یومِ پیدائش کے موقع پر ہمارے ملک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ گاندھی جی کو خالی لفاظی خراج عقیدت پیش کرنے کی بجائے حقیقی معنوں میں ان کی بتائی ہوئی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اتارتے ہوئے ملک کی فلاح و بہبود اور اس کے امن و استحکام کی طرف متوجہ ہوں اور جہاں تک ہو سکے ملک کی عوام کی زندگی میں مشکلات پیدا کرنے کی بجائے آسانیاں پیدا کریں یقیناً آج کے دن گاندھی جی کو یہی سب سے بڑی اور سچی شردھانجلی ہوگی.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں