مصنف: محمد یُوسُف دھالیوال
yousufdhaliwal06@gmail.com
آج میڈیا ، خصوصاً پرنٹ میڈیا ، ادب ، سائنس ، سیاست اور معاشیات کے حوالے سے خوب تصنیفات دیکھنے و پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ لیکن جہاں تک علم نفسیات کا تعلق ہے تو اس ضمن میں بہت ہی کم مضامین اخبارات و رسائل کے صفحات کی زینت بن پاتے ہیں. حالانکہ اگر دیکھا جائے تو انسانوں اور مختلف قوموں کی ذہنیت اور طرز عمل کو سمجھنے کے لئے علم نفسیات کا علم بے حد ضروری ہے۔ لیکن افسوس کہ اب تک علم نفسیات کی طرف اس طرح کی توجہ نہیں دی گئی جس طرح سے دی جانی چاہیے تھی کیونکہ جب ہم علم نفسیات کی اشاعت کا جائزہ لیتے ہیں تو میڈیا کینوس Psychology اور اس کے ماہرین کی تصویر ایک طرح سے غائب نظر آتی ہے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ نفسیات اور نفسیات کے موضوع سے وابستہ لوگوں کو اخبارات اور رسائل میں شاذ و نادر ہی دیکھا جاتا ہے۔
![]() |
| مصنف: محمد یُوسُف دھالیوال |
اس سے پہلے کہ ہم اس موضوع اور اس کے ماہرین کے بارے میں بات کریں ، آئیے پہلے ہم لفظ نفسیات کے ارتقاء کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ نفسیات جو کہ انگریزی زبان کے PSYCHOLOGY کا اردو ترجمہ ہے. جبکہ انگریزی زبان کا لفظ PSYCHOLOGY یونانی زبان کے دو لفظوں سائکی اور لاگاس سے مل کر بنا ہے ۔ یونانی زبان میں سائکی کے معنی ہیں روح یا آتما اور لاگاس کا مطلب ہے غور و فکر کرنا. اس طرح علم نفسیات انسان کے طرز عمل کا ایک جامع مطالعہ ہے ، یعنی جو مضمون انسان کے مجموعی طرز عمل کا مطالعہ کرتا ہے اسے علم र نفسیات یا psychology کہتے ہیں۔
علم نفسیات کا مقصد معاشرتی بہبود ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، نفسیات ایک سائنس ہے جو بیرونی ماحول کے سلسلے میں مشاہدہ کرنے والے سلوک کے منظم ، ذہنی اور جسمانی عمل کا مطالعہ کرتی ہے۔
تاہم کچھ اسکالر علم نفسیات کو طرز عمل اور ذہنی عمل کے فلسفیانہ مطالعہ کی سائنس کہتے ہیں۔ علم نفسیات انسانی رویہ behavior اور جانوروں کا طرز عمل دونوں کا احاطہ کرتا ہے. ماہرین نفسیات انفرادی اور معاشرتی طرز عمل میں ذہنی افعال کے کردار کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ جسمانی اور حیاتیاتی عمل کی بھی تحقیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے علمی افعال اور طرز عمل کی خصوصیات ہیں۔
علم نفسیات کے معاملے میں ، اگر ہم ہندوستان کے بارے میں بات کریں تو ، ملک میں نفسیات کے شعبے میں زیادہ تر تحقیقی کام یو جی سی میں کیا گیا ہے۔ یو جی سی کے تحت اب تک نفسیات سے متعلق بہت سے پہلوؤں پر تحقیقی کام ہوچکا ہے۔ مذکورہ تحقیقی کام کے تحت ہی پروفیسر ڈاکٹر محمد عرفان نے اپنا اہم پروجیکٹ " انڈو-پاک تعلقات کا نفسیاتی جہت ، ایک نفسیاتی تجزیہ" تیار کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد عرفان کے اس تحقیقی پروجیکٹ کو ہندوستان اور پاکستان کی صورتحال کو نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھنے کی ایک کامیاب کاوش کہا جاسکتا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ڈاکٹر عرفان نے گذشتہ 73 برسوں کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خراب ہوتے تعلقات کو نفسیات کی کسوٹی پر جانچنے کی سعی کی ہے۔
مذکورہ پروجیکٹ کے لئے ڈاکٹر محمد عرفان کو یو جی سی ، نئی دہلی نے ریسرچ ایوارڈ سے بھی نوازا ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ نفسیات کے میدان میں اس طرح کا اعزاز یو جی سی کے ذریعہ پورے سال میں ایک ماہر ین نفسیات کو ہی دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عرفان جنھوں نے یہ ریسرچ ایوارڈ حاصل کیا ہے. جب ہم ان کی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ 9 اپریل 1967 کو پنجاب کے تاریخی شہر مالیر کوٹلہ میں ایک سادھارن پریوار میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام محمد رمضان اور والدہ کا نام محمودہ بیگم ہے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اس شہر کے قدیم ترین ادارے ، اسلامیہ ہائی اسکول (اب سینئر سیکنڈری اسکول) سے حاصل کی اور دسویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج ، مالیر کوٹلہ میں داخلہ لیا اور 1986 میں گریجویشن کے بعد ، آپ نے پوسٹ گریجویشن کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ ان دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کسی طالب علم تعلیم حاصل کرنے کو بہت سے دیکھا جاتا تھا ۔ 1989 میں مذکورہ یونیورسٹی سے علم نفسیات میں ایم اے کرنے کے بعد ، ڈاکٹر صاحب نے علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی مکمل کی۔
![]() |
| ڈاکٹر عرفان |
اکثر کہا جاتا ہے کہ انسانی زندگی میں سیکھنے کا تا عمر جاری رہتا ہے ، یعنی انسان "گود سے گور( قبر) تک" سیکھنے کے عمل سے مسلسل گزرتا رہتا ہے۔ اسی ضمن میں ڈاکٹر عرفان نفسیات کے شعبے میں مختلف موضوعات پر مستقل تحقیقی کام کر رہے ہیں جہاں انہیں 2007 میں یو جی سی نئی دہلی کے ذریعہ "ہند پاک تعلقات کا نفسیاتی جہت ، ایک نفسیاتی تجزیہ" کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
اس کے علاوہ ، ڈاکٹر عرفان نے یو جی سی کے ذریعہ دیئے گئے ایک اور اہم پروجیکٹ "A comparative study of intelligence Adjustment and frustration among criminals and normals " کو بحسن خوبی انجام دیا ہے. اس پروجیکٹ میں ڈاکٹر عرفان نے پنجاب کی سینٹرل جیلوں میں مختلف جرائم پیشہ قیدیوں کی زندگی کا مطالعہ علم نفسیات کی روشنی میں کیا ہے.
ڈاکٹر عرفان کی ایک کتاب Anxiety, Stress & Depression (causes and concerns)
کو پنجاب ریسرچ پبلیکیشنز پٹیالہ کی طرف سے شائع کیا گیا ہے.
اس کے علاوہ ، ڈاکٹر عرفان ملک کے مختلف کالجوں اور تعلیمی اداروں کے جرائد جیسے انڈین جرنل آف سائیکولوجی اینڈ مینٹل ہیلتھ ، ملیر کوٹلا پنجاب ، ایڈی سائسکیٹیا انٹرنیشنل جرنل آف ایجوکیشن اینڈ سائیکولوجی ، منڈی گوبنگھڑ، پنجاب. ہندوستانی جرنل کی نفسیات اور تعلیم۔ روہتک ہریانہ۔ سائکالوجی سائنس کا انڈین جرنل۔ پٹیالہ۔ پنجاب ہیریٹیج پٹیالہ ، پنجاب۔ وغیرہ کے بطور ایڈیٹر ان چیف اور ایڈیٹوریل بورڈ کے طور پر اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں.
اس کے علاوہ ایک طویل عرصے سے ، ڈاکٹر عرفان گورنمنٹ کالج ، ملیرکوٹلہ کے یو جی سی کوچنگ سنٹر برائے اقلیتوں میں گائڈنس اور کونسلنگ کے کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جبکہ کے ڈاکٹر عرفان نے ہنگری سکیم اسکالرشپ پروگرام کے تحت ایک درجن کے قریب طلبا کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لئے یورپ بھیجنے میں اپنا نمایاں رول ادا کیا ہے۔
اس علاوہ ڈاکٹر عرفان نے یورپ کے پولینڈ، ایران اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ مختلف بین الاقوامی سیمیناروں میں اپنے تحقیقی مقالے پڑھے ہیں ، جبکہ قومی سطح کے تقریبا 25 سیمیناروں میں مختلف تحقیقی مقالات میں حصہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ تقریبا 30 تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر عرفان بحیثیت لائجن افسر سعودی عرب میں عازمین حج کی رہنمائی بھی کرچکے ہیں اور وہ عازمین حج کے لئے منتخب ہونے والی عمارتوں کی سلیکشن کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔
گزشتہ مہینوں کے دوران ڈاکٹر عرفان کوویڈ 19 کے تناظر میں پولیس انتظامیہ کے ساتھ مل کر لوگوں میں اس وبا کے تعلق سے بیداری لاتے ہوئے ان کو نفسیاتی طور پر مضبوط و مستحکم کرنے کی ہر ممکن طریقے کی کاوش کی ہیں۔
اگر ڈاکٹر عرفان صاحب کی مجموعی زندگی کا مطالعہ کریں تو ان کی ذات میں رب العزت نے بیک وقت بہت سی خوبیاں یکجا کر دی ہیں. مجھے یاد ہے ایک مرتبہ میں نے ندا فاضلی کا یہ شعر کہیں سنا تھا کہ
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا.
پچھلی چند ملاقاتوں کے دوران ڈاکٹر عرفان کی ہمہ جہت شخصیت نے مجھے بے حد متاثر کیا. ان کے دل میں انسانیت کے لئے جو عزت واحترام اور درد ہے اس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ آخر میں ان کی شخصیت کے حوالے سے یہی کہوں گا کہ
جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں.


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں