ہدایت اللہ خان کے ہمراہ جے،ایم،ایم کے رضاکاروں کے ساتھ ساتھ راجد کے انور عالم بھی سرگرم عمل
بوکارو:بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے نام نہاد ریاستی رہنما خود اپنی پارٹی کو چھوڑ کر رجعت پسند طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ وہ کسی طرح سے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کر نے کی مہم میں سرگرم ہیں۔ آر،ایس،ایس اور اس کی حلیف فرقہ پرست طاقتوں نے بابو لال مرانڈی کو مہرا بنایاہے۔جب ان سے بھاجپا کو توقعات پوری ہوجائے گی تو پھر باہرکا راستہ دیکھا دیا جائے گا
۔متذکرہ ہذا باتیں بوکارو کے ضمنی انتخاب میں مہاکٹھ بندھن کے امیدوار کمار جئے منگل(انوپ سنگھ) کی حمایت میں جے،ایم،ایم کی اقلیتی مورچہ کے مرکزی صدر الحاج ہدایت اللہ خان نے مسلم اکثریت والے علاقے چلکاری مسلم بستی،کھتکو پنجایت، درگار محلہ امام باڑہ علاقوں میں انتخابی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ شخص اور سنجیدہ رہنما کی شکل میں ریاست کی عوام انہیں جانتی تھی۔ مسٹر خان نے الزام لگا یا ہے کہ ریاست کے لوگ بابولال مرانڈی کے بی،جی،پی کے اشارے پر کیئے جارہے شرپسندی سے سبھی حیران ہیں۔ بابو لال مرانڈی جیسے لیڈر سے ایسے توقعات نہیں تھے۔ لیکن بی،جے،پی کافی روپئے خرچ کرکے انہیں ہیلی کاپٹر سے ضمنی انتخابی ضابطہ شکنی کر کے ووٹوں کو تقسیم کررہے ہیں،
انتخاب کے بعد انہیں بی،جے،پی باہر کا راستہ دیکھاسکتی ہے؟۔ مسٹرخان نے اقلیتی طبقات کے محلوں،پنجایتوں اور علاقوں میں گھوم کر مختلف انتخابی حلقوں میں کہاکہ وہ ایک مست ہوکر مہاکتھ بندھن کے امیدوار کمار جئے منگل (انوپ سنگھ) کو اپنی قیمتی ووٹ دیکر کامیاب بنائیں اور فرقہ پرست طاقتوں کو دھول جٹائیں تاکہ ان کے جارحانہ منسوبوں پر پانی پھرجائے۔سبھی پروگرام میں جے،ایم،ایم کے اقلیتی مورچہ کے ضلعی صدر عبدالکلام انصاری،فیاض عالم،بھولو خان،جنیدخان، مدن مہن،ویکی مہتو،اختر انصاری وحسن امام،آر،جے،ڈی کے رہنما انور عالم صاحب سمیت درجنوں لوگوں نے خطاب کیا۔
واضح رہے کہ مسٹرخان نے چلکاری میں مہا کٹھ بندھن کے دفتر کا افتاح بھی کیا۔ جسمیں راجد کے مشہور ومعروف رہنما انور عالم نے کہا کہ مسٹر خان کے آنے کے بعد بیرمو علاقے میں مہاکٹھ بندھن کے لیڈروں اور مقامی حلقوں میں زبر دست لہر قائم ہوگی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں