سرفراز احمد قاسمی(حیدرآباد)
برائے رابطہ:8099695186
ریاست بہار میں الیکشن کی گہماگہمی عروج پرہے،جہاں اسی ماہ کے اواخراورنومبرکیاوائل میں انتخابات ہونے ہیں،ریاست کی کل 243 سیٹوں پرتین مرحلوں میں وہاں ووٹنگ ہوگی، 28اکٹوبر،3نومبر اور7نومبرکو بہار کی عوام ووٹنگ میں حصہ،لیگی،اورپھر10نومبرکوووٹ شماری کاعمل مکمل ہوگا،اوراسی دن یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ بہارکی کمان کس کوسونپی جائیگی اور کون بنیگا سکندر؟،فی الحال کرسی کمار(نتیش کمار) بہار کے اقتدار پر 15سال سے قابض ہیں،بہار سیموصول ہونے والی خبریں یہ بتاتی ہیں کہ اس بار نتیش کمار کی راہ آسان نہیں ہے،اور عوام نے اسے سبق سکھانے کی پوری تیاری کرلی ہے،اسکی بہت ساری وجوہات ہیں،
وہاں کی عوام اب تبدیلی چاہتی ہے لیکن صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے،پندرہ سال اقتدار میں رہنے کے باوجود نتیش کمار نے ریاست کی فلاح وبہبود کیلئے کوئی خاطرخواہ اقدام نہیں کیا،عوام سے جووعدہ کرکے سشاشن بابو اقتدار میں آئے تھے ان وعدوں کو بھی یکسر بھلادیا،صرف اپنی کرسی بچانے کیلئے انھوں نے پوری توجہ صرف کی،جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاست کے مسائل جیسے پہلے تھے ویسے اب بھی برقرار ہیں بلکہ اس میں اوراضافہ ہی ہوا ہے،ان مسائل کوحل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی،پندرہ سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا لیکن ملک کی سیاست میں مکاری اور عیاری حاوی ہوچکی ہے
جسکا واحد مقصد صرف اپنا ذاتی مفاد ہے اور بس،پہلے سیاست کا مقصد قوم وملت کی فلاح،ملک وقوم اور سماج کی خدمت ہوتی تھی،لیکن اب یہ مفہوم بدل چکاہے،اب سیاست کا مقصد جھوٹے وعدے،دھوکیبازی،اقرباء پروری،مکاری وعیاری،فرقہ پرستی،اور ذاتی مفاد ہوچکاہے،ایسے میں ملک اور ریاستوں کے مسائل کیسے حل ہونگے؟بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کواس بات کا احساس تو ہے کہ عوام نے جن توقعات کی بنیاد پر انھیں منتخب کیاتھا،اور بہار کاتاج انکے سپرد کیاتھا،ان کی امنگوں اورتوقعات کوپورا کرنے میں وہ یکسر ناکام رہیہیں،یہی وجہ ہے کہ وہ کھل کرعوام کے سامنے نہیں آرہیہیں،بہار کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ یہاں کے مسلمانوں نے بہت پہلے مسلم لیڈر شپ کوقبول کرنیسے انکار کردیاتھا،اور پھر آزادی کے بعد مسلم لیگ کے نظریے کو بھی خارج کردیاتھا،بہار میں تقریباً 20فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے اور کم ازکم 50سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمانوں کاووٹ فیصلہ کن ہوسکتاہے،مسلمان بھی اس بار نتیش کمار سے بدظن ہیں،
طلاق بل پر نتیش نے مودی کی حمایت کی،سی ایاے پر بی جے پی کاساتھ دیا،اسی طرح 370 کشمیر وغیرہ پر بھی اس نے مرکز کی بی جے پی حکومت کاسپورٹ کیاتھا،2015 نتیش کمار نے لالو کے ساتھ مل کر الیکشن لڑاتھا، جسکی وجہ سے انھیں خاطرخواہ کامیابی ملی تھی، لیکن اچانک اس نے آرجے ڈی سے پلہ جھاڑلیا اور بی جے پی کی گودمیں جاکر بیٹھ گئے،پھر وہاں پہونچنے کے بعد نتیش نے مودی کی حکومت کی ہرفیصلے کی حمایت کی،چاہے نوٹ بندی ہو،جی ایس ٹی ہویا پھر کوئ اور فیصلہ، ہرفیصلے کی آنکھ بند کرکے حمایت کرنے کو اپنی عافیت سمجھی،ریاست کے مسلمانوں نے جن امیدوں کے ساتھ بی جے پی کواقتدار سے باہر رکھنے کیلئے ان پربھروسہ کیا اور متحد ہوکر انھیں کامیاب بنایا، نتیش کمارنے اسکی بھی لاج نہیں رکھی،اور پھر بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت کی کرسی پرقابض ہوگئے
اب جبکہ بی جے پی نے بھی اقتدار سے بیدخل کرنے کاپلان بنالیاہے، ایسے میں اب محسوس ہوتاہے کہ نتیش کمار کے دن گنے جاچکے ہیں،بی جے پی کولگتاہے کہ وہ نتیش کی وجہ سے ریاست میں اپنا ایجنڈا مکمل طور پر نافذ نہیں کرپارہی ہے اسلئے وہ"آتم نربھر"کی جانب توجہ دے رہی ہے،اوراسکیلئے مکمل جدوجہد کررہی ہے،نتیش کو راستے سے ہٹانے کیلئے ہی بی جے پی نے رام ولاس پاسوان کے بیٹے چراغ کو میدان میں اتارا ہے،بہار کی سیاست میں برسوں سے سرگرم رہنے والے پاسوان ابھی دوچار دن قبل ہی انتقال کرگئے،
بہار کی سیاست کوانھوں نے ہمیشہ زندہ رکھا،اوراہم کردار اداکرتے رہے، انکی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے موقع پرستی کی ایک بڑی مثال قائم کی،اور تقریباً ہرمرکزی حکومت میں وزارت کی کرسی مل ہی جاتی تھی، اکثر وزیر اعظم کے ساتھ انھوں نے کام کیا،اب انکی پارٹی انکے بیٹے چراغ کے ہاتھ میں ہے،کیا چراغ کوئی کرشمہ دکھا پائے گا؟ بہارکو فتح کرسکیگا؟ یہ وہ سوالات ہیں جسکیجواب کیلئے ہمیں وقت کاانتظار کرنا پڑیگا،فی الحال جیسے جیسے الیکشن قریب ہورہاہے ویسے ویسے وہاں کی صورتحال پیچیدہ ہوتی جارہی ہے،اگراس بار بہار والوں نے غلطی کی اور غیر دانش مندی کا ثبوت دیا تو پھر یہ طے ہے کہ بہار کو بھی یوپی بنایا جائیگا
جس طرح یوپی میں غنڈہ راج چل رہاہے، قانونی نظام ٹھپ ہے،افراتفری مچی ہوئی ہے ٹھیک اسی طرح بہار میں بھی لوٹ پاٹ مچایا جائے گا،اگرچہ کہ بہار ایک ایسی ریاست ہے جو ہمیشہ ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہے،بہار کا یہ الیکشن بھی ملک کے رخ کو واضح کریگا،اور راستہ دکھلائے گا ایسے میں بہار کے عوام کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک تباہی وبربادی کی راہ پرگامزن ہے،ملک کولوٹا اور کنگال بنایا جارہاہے،جمہوریت کو پاؤں تلے رونداجارہاہے،نفرت کی آگ میں ڈھکیلا جارہاہے، ایسے میں بہارکے لوگوں کی ذمہ داریاں دوگنی ہوجاتی ہیں، 6سال میں ہرطرح سے ملک کوکمزور کی پوری کوشش کی جارہی ہے،
بہار کے لوگوں کو یہ ذہن میں رکھنا ہوگا اور پھراسکے بعد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا،الیکش کمیشن نے اس بار بہار میں 27ایسے افراد پر انتخابات لڑنے پرپابندی عائد کردی ہے جنھوں نے ماضی میں الیکشن میں ہونے والے اخراجات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو پیش نہیں کی تھی،الیکشن کمیشن نے کاروائی کرتے ہوئے ایسے تمام افراد کی مکمل فہرست ضلع مجسٹریٹ کے پاس بھیج دی ہے،دراصل عوامی نمائندہ ایکٹ کے مطابق انتخاب کے بعد 30دنوں کے اندر امیدواروں کو خرچ کی مکمل تفصیلات جمع کرنی پڑتی ہے
،تفصیلات نہ دینے پر ضابطوں کی خلاف ورزی مانتے ہوئے ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے،ریاستی الیکشن میں اس بار پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد میں 63فیصد کا اضافہ کیاگیاہے،جوگذشتہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے،الیکشن کمیشن کے مطابق سماجی دوری پرعمل کرنے کے مقصد سے ایک بوتھ پر ایک ہزار سے کم لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی،جبکہ 2015 کے انتخابات میں یہ تعداد 1500تھی،اس بار اسمبلی انتخابات کیلئے مجموعی طور پر ایک لاکھ چھ ہزار 526 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں،2015 کے الیکشن میں 65367 پولنگ اسٹیشن قائم کئیگئے تھے،اسطرح سے پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد میں 41159 یعنی 63فیصد کا اضافہ کیاگیاہے،پہلے مرحلے میں 12اضلاع کی 71سیٹوں پر ووٹنگ کیلئے 31ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئیہیں،دوسرے مرحلے میں 12 ضلعوں کے 94سیٹوں پر ووٹ ڈالنیکیلئے 42ہزار مراکز قائم کئیگئے ہیں، تیسرے مرحلے میں چودہ اضلاع میں 78نشستوں کیلئے 33ہزار 800پولنگ اسٹیشن قائم کئیگئے ہیں،اس بار بہارمیں کل سات کروڑ 29لاکھ 27ہزار 396رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے،
یہاں سات کروڑ 27لاکھ 66 ہزار986عام ووٹرز ہیں،جبکہ ایک لاکھ 60ہزار 410سروس ووٹر ہیں،ریاست میں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد ہونے کی وجہ سے تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کی نظر مسلم ووٹوں پر رہتی ہے،لیکن یہ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کاووٹ تو ہرپارٹی چاہتی ہے لیکن انکے مسائل کوحل کرنے کی فکر کوئی پارٹی نہیں کرتی اورنہ ہی انکیمسائل کیحل کیلئے کوئی پارٹی سنجیدہ دکھائی دیتی ہے،چاہے وہ کوئی بھی پارٹی ہو،یہ ایک بڑا المیہ ہے آزادی کے بعد سے لیکر اب تک یہی ہوتارہا،ہرپارٹی نے مسلمانوں کاووٹ تو لیا لیکن انکے مسائل جیسے کے ویسے ہی رہے،بلکہ ان میں روز بروز اور اضافہ ہوتاگیا،پندرہ سال تک لالو یادو کی آرجے ڈی نے مسلمانوں کے ووٹ پر عیش کیا لیکن انکیمسائل جوں کے توں رہے،پندرہ سال سشاشن بابو نے مسلمانوں کاووٹ لیا
لیکن مسلمانوں کیمسائل اب بھی وہی ہیں،بہار کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہاں ہمیشہ ذات پات پر مبنی ووٹنگ ہوتی ہے،اس بار کا معاملہ پیچیدہ اسلئے بھی ہورہاہے کہ یہاں اب تک کم ازکم پانچ الائنس بن چکیہیں،این ڈی اے،عظیم اتحاد،مجلس کایوڈی ایس اے،یوڈی اے،اور پپو یادو کا پی ڈی اے،خلاصہ یہ ہے کہ ان پانچ الائنس کے پانچ وزیراعلیٰ کے امیدوار ہیں،ابھی تک یہ صاف نہیں ہوسکاہے کہ ریاست کی عوام وزیر اعلی کی کرسی کس کے سپرد کرے،دن بہ دن یہ معاملہ پیچیدہ ہورہاہے، لیکن اتنا تو ضرور ہے کہ اس بار کرسی کمار کو اقتدار سے باہر کرنا ضروری ہے،
جنھوں لوگوں کے دکھ درد اور مسائل سے دلچسپی نہ ہو، جنھیں اپنی کرسی عزیز ہو ایسے لوگوں کو سبق سکھانا اور اقتدار سے باہر کرنا بہت ضروری ہے، تاکہ انھیں اپنی اوقات کا پتہ چل سکے اور غلطیوں کا احساس ہوسکے،ان پانچ الائنس اور گھٹبندھن پر اگرآپ غور کرلیں تو بہت آسانی سے یہ معلوم ہوجائے گا کون اس میں ووٹ کاٹنے کیلئے اور اپنے فائدے کے بجائے دوسرے کو فائدہ پہونچانیکیلئے اس میں شامل ہواہے،ایک درجن سے زائد پارٹیاں ریاست میں اپنے امیدوار کھڑے کررہی ہیں ان میں کئی ایک مسلم پارٹیاں بھی ہیں،ساؤتھ انڈیا جیسے دور دراز علاقے کی پارٹیاں بھی مسلمانوں کی ہمدردی کیلئے میدان میں کود پڑی ہیں،بعض وہ پارٹیاں بھی جنکا دارومدار صرف جذباتی نعرے اورجذباتیت پر مبنی بیان بازی ہے اور زمینی سطح پر اصل مسائل سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں،
ایسے میں بہارکے لوگوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ جذباتیت کی رو میں بہہ کر حماقت کاشکار ہوجائیں یاپھر ملک کی حفاظت کیلئے دوراندیشی کیساتھ کوئی فیصلہ کریں، کیوں اگر آپ نے سیاسی سمجھ بوجھ کاثبوت نہ دیا تو پھر بہارکی سیاست کو فرقہ واریت کااکھاڑہ بننے سے کوئی نہیں روک سکتا،شمالی ہندوستان کی یہ ریاست آخری ایساقلعہ ہے جہاں اب تک بی جے پی کاجھنڈا نہیں لہرایا ہے،اور جس دن اس قلعے پر بی جے پی کاجھنڈا لہرائے گا تو سب سے زیادہ اسکی قیمت مسلمان ہی چکائیں گے،اگر آپ بی جے پی کے خونی پنجے سے ریاست کوبچانے میں کامیاب ہوگئے تو پھر یہ سمجھئے کہ ملک کاتحفظ ابھی بھی کیاجاسکتاہے،ابھی حال ہی میں نتیش حکومت نے اردو پرحملہ کیا ہیاسکو بھی یادرکھنا ہوگا،اسکے علاوہ 2010 جب نتیش کمار پہلی بار کامیاب ہوئے تھے تب انھوں نے ریاست کیلوگوں سے بہار کو خصوصی ریاست کادرجہ دلانے کاوعدہ کیاتھا،کیا ہوااس وعدے کا؟
یہ سوال نتیش اور جیڈی یو سے کیاجاناچاہئے،آخر یہ وعدہ برفدان کی نظر کیوں ہوگیا؟اور جب آپ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیاتو پھر آپ کوووٹ کیونکر دیاجائے؟ریاست بہار کا شمار ملک کی سب سے پسماندہ ریاست میں ہوتا ہے جہاں کے 60تا ستر فیصد لوگ ملک بھر کے دیگر شہروں کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں میں روزی روٹی کیلئے مقیم ہیں، یہ بھی بہار کے لوگوں کاایک اہم مسئلہ ہے،آج تک کسی حکومت نے اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا،خود سشاشن بابو نے اس کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن یہ بھی برفدان کی نذر کردیاگیا،اب وعدوں کویاد دلانا اسکی جرات کرنا یہ ناقابلِ معافی جرم سمجھا جانے لگاہے،اور پھر اس معاملے میں آپ کیاوپر ملک سے غداری تک کامقدمہ بھی درج کرلیاجائیگا،اور مختلف بہانوں سے جیلوں میں ڈال دیاجائیگا،بغیر کسی جانچ،تفتیش اور عدالتی کاروائی کے مہینوں جیل میں سڑنے چھوڑدیا جائیگا،کیاان چیزوں سے آپ کو نہیں لگتا کہ ملک بربادی کی جانب رواں دواں ہے اور جمہوریت کوکچل کر یہاں تاناشاہی کو فروغ دیاجارہاہے،کرونا وائرس کی وجہ سے اچانک ملک میں مودی نے لاک ڈاؤن کااعلان کردیاتھا،
جسکی وجہ سے پورے ملک میں مقیم بہار کے نوجوان اور مزدور انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہوگئے،ہزاروں لوگوں نے اپنی جان تک گنوادی، یہ بھی بہارکے لوگوں کو یاد رکھنا ہوگا، ہرسال وہاں سیلاب کی وجہ لاکھوں متاثر ہوتے ہیں لوگوں کو گھروں سے محروم ہونا پڑتاہے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتاہے، یہ بھی بہار کاایک سنگین مسئلہ ہے یہ بھی ذہن میں رکھکر ووٹ ڈالنا ہوگا،سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ بہارمیں ہر الیکشن کے موقع پر سیاسی فرقہ واریت کا مظاہرہ بھی ہوتاہے،اس مرتبہ یہ مظاہرہ مزید شدت اختیار کریگا،
کیوں کہ بی جے پی اور آرایس ایس ہرصورت میں بہار کوفتح کرنے کی کوشش کرے گی،خبر یہ بھی ہے کہ مودی بہار میں کم ازکم تیس ریلیوں میں حصہ لیں گے اور لوگوں کو سے ووٹ مانگیں گے،الیکشن کو پندرہ دن سے بھی کم دن باقی رہ گئے ہیں،ایسے میں مختلف پارٹیوں کے امیدوار آپ سے ووٹ مانگنے آئیں گے، ان سب سے یہ سوال ہونا چاہئے کہ سی اے اے کیخلاف آوازاٹھانے کے جرم میں کئی سو لوگوں کو ریاست کے مختلف اضلاع سے گرفتار کیاگیاہے،
اور یہ سب سلاخوں کے پیچھے ہیں،شرجیل امام، میران حیدر،آصف تنہا سمیت کئی سونوجوان گرفتار کئیگئے ہیں انکیلئے اب تک کیاکیاگیا؟ کس پارٹی نے ان مظلوموں کی حمایت میں آواز اٹھائی،بہارمیں نفرت وتعصب کی وجہ سے ماب لنچنگ کاسلسلہ بھی جاری ہے، اس پر نتیش حکومت نے اب تک کیا کیا؟ایسے ہی ہاسپٹل کی لوٹ کھسوٹ اور غنڈہ گردی پوری ریاست میں عروج پر ہے اس پرروک لگانے کیلئے بھی اب تک کچھ نھیں کیا گیا اور نہ کوئی توجہ دی گئی۔بہرحال یہ محاسبہ کا وقت بھی ہے، اور دوراندیشی ودانش مندی سے کام لینے کابھی، بہار میں ہونے والے سیاسی اٹھا پٹک اور وہاں کی سرگرمیوں پر پورے ملک کی نظر رہتی ہے، ظاہر ہے اب یہ وہاں کے باشندوں پر موقوف ہے کہ وہ کس طرح کا فیصلہ سناتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں