تازہ ترین

منگل، 20 اکتوبر، 2020

لونی ڈپو کے کنڈیکٹر کی شکایت فرضی نکلی صرف مار پیٹ کا معاملہ:پولس

 (مین پوری بھوگاؤں (حافظ محمد ذاکر) لونی ڈپو کے کنڈیکٹر کے ساتھ ہونے والی لوٹ مار کا واقعہ پو لس کی پہلی تفتیش میں ہی چھونٹا پایا گیا۔ بھوگاؤں پولیس نے تین گھنٹوں میں نقدی اور ٹکٹ مشین برآمد کرلی ہے۔ پولیس نے روڈ ویز حکام کے کہنے پر ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اور مبینہ لوٹ مار میں معمولی مار بھی پیٹ  کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ڈرائیوراور کنڈیکٹرنے پولیس سے اپنے کئے کی مافی بھی مانگ لی۔



واضح ہو پیر کی رات شہر کے روڈ ویز بس اسٹینڈ کے قریب لونی ڈپو کے ڈرائیور، انوج کمارو ڈرائیور رنجیت سنگھ دہلی جاتے وقت رفع حاجت کے لئے روکے تھے، اسی وقت کنڈیکٹرسے مارپیٹ ہوئی تھی،لونی ڈپو کے کنڈیکٹر و ڈرائیور نے پولس میں اپنی مار پیٹ اورٹکٹ مشین وچالیس ہزارروپیہ نقدی چوری ہو نے کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس واقعے کے خلاف احتجاجاً روڈ ویز کے ڈرائیوروں نے اپنی اپنی بسوں کو جی ٹی روڈ پر بے ترتیب کھڑا کر دیا تھا،جس کی وجہ سے جی ٹی روڈ پر آمد ورفت بند ہو گئی تھی۔پولس کے پہنچنے اورڈرائیوروں کو سمجھانے بجھا نے پرجی ٹی روڈ پر لگا جام  کھلا۔


لونی ڈپو کے کنڈیکٹر کی تحریر سینئر سب انسپکٹر ودیش سنگھ نے اس معاملے کو ایک چیلنج سمجھتے ہوئے، فوراً تحقیقات شروع کردی۔تحریر کے مطابق سارا معاملہ  اس کے بالکل برعکس نکلا، تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈرائیور کھلے میں رفع حاجت کر رہاتھا،اور اسی وقت مار پیٹ ہوئی تھی۔مارپیٹ کر نے والوں کو سبق سکھانے کے لئے ٹکٹ مشین اور روپیہ کاشکایت میں  بڑھا چڑھا کرجھونٹی تحریر لکھی گئی تھی،اورتحریر میں یہ بھی بڑھا چڑھا کر لکھا کہ دو درجن کے قریب لوگوں نے مار پیٹ کی ہے۔تحریر میں یہ بھی کہا گیا ملزموں کو سخت سزا دی جائے۔


پولیس کے واقعے کے انکشاف پر ڈرائیور نے واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے۔ ادھر ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے عہدیداروں کے کہنے پر اس واقعے کو رفع دفع کر دیا گیا ہے۔ پولس نے بس ڈرائیور کو ہدایت کی وہ مسافروں کو لیکر جائے۔


اس سلسلے میں،سی او بھوگاؤں امر بہادر سنگھ کا کہنا ہے کہ کنڈیکٹر  معاملہ کو طول دینے کی کوشش کی تھی،ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad